پیر 2 نومبر 2026 - 16:43
شیخ حسین المعتوق کو سزائے موت پیروانِ اہلِ بیت (ع)کے خلاف عربی لبادے میں صہیونی جنگ کا مظہر ہے

حوزہ / شیخ عادل الشعلة نے آیت اللہ شیخ حسین المعتوق کو سزائے موت سنائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ’’طاغوتی‘‘ فیصلہ قرار دیا اور کہا: خطے میں پیروانِ اہلِ بیت علیہم السلام کے خلاف جاری جنگ درحقیقت ایک سیاسی اور صہیونی جنگ ہے جسے عربی لبادے میں پیش کیا جا رہا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین کے شیعہ عالمِ دین شیخ عادل الشعلة نے اپنے خطاب میں کہا: اگر کسی مسلمان حاکم کی جانب سے دین کو خطرہ لاحق ہو تو اہلِ ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خطرے کے خلاف مزاحمت کریں کیونکہ ایسا حاکم مسلمان ہونے کے باوجود ظالم طاغوتوں میں شمار ہوتا ہے۔ جب تک وہ ظلم، جور اور مسلمانوں پر زیادتی کرتے ہوئے حکومت کرتا ہے، وہ باغیوں اور سرکشوں کے زمرے میں آتا ہے اور اس کے ظلم و سرکشی کے خلاف جدوجہد کرنا دین کے دفاع کا تقاضا ہے۔

انہوں نے اس موقف کی تائید میں امام حسین علیہ السلام کے یزید کے خلاف مؤقف «مَنْ رَأَی سُلْطَاناً جَائِراً، مُسْتَحِلًّا لِحُرُمِ اللَّهِ، نَاکِثاً لِعَهْدِ اللَّهِ، مُخَالِفاً لِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ، یَعْمَلُ فِی عِبَادِ اللَّهِ بِالْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ، ثُمَّ لَمْ یُغَیِّرْ بِقَوْلٍ وَلَا فِعْلٍ، کَانَ حَقِیقاً عَلَی اللَّهِ أَنْ یُدْخِلَهُ مَدْخَلَهُ» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: امام علیہ السلام فرماتے ہیں ’’جو شخص کسی ظالم حکمران کو دیکھے کہ وہ اللہ کی حرمتوں کو پامال کر رہا ہے، اللہ کے عہد کو توڑ رہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی مخالفت کر رہا ہے اور اللہ کے بندوں کے درمیان گناہ اور زیادتی کا ارتکاب کر رہا ہے، پھر بھی اپنے قول یا عمل سے اس کو تبدیل کرنے کی کوشش نہ کرے تو اللہ کے لیے حق ہے کہ اسے بھی اسی مقام پر پہنچا دے جہاں وہ ظالم حکمران ہوگا۔‘‘

شیخ الشعلة نے مزید کہا: حقیقی اسلام کا دفاع بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا جان، مال، عزت اور ناموس کا دفاع۔ خلیج فارس کے خطے میں حکمران نظام کی جانب سے دین کو محدود کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت کا ایک راستہ نمازِ جمعہ اور نمازِ جماعت کی حمایت کرنا ہے، کیونکہ یہ وہ عبادات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی بندگی کے لیے مقرر فرمایا ہے۔

انہوں نے کہا: آج بحرین میں اس عبادت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ درجنوں علمائے دین کو جھوٹے اور گمراہ کن الزامات کے تحت جبری طور پر گرفتار کیا گیا ہے جبکہ بحرین کی سب سے بڑی نمازِ جمعہ سمیت متعدد اجتماعات کو بھی سکیورٹی اور فوجی طاقت کے استعمال سے روک دیا گیا ہے۔ اس دوران تمام ائمہ جمعہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بحرینی حکومت کی جانب سے ممنوع قرار دی جانے والی نمازہائے جمعہ کی تعداد 109 تک پہنچ چکی ہے۔

شیخ عادل الشعلة نے مزید کہا: اللہ تعالیٰ کی نصرت کا ایک طریقہ ان ذرائع کی حمایت کرنا بھی ہے جنہیں اس نے اپنی مخلوق کی ہدایت کے لیے فراہم کیا ہے، جن میں قرآن مجید، سنتِ نبوی اور پاکیزہ عترت علیہم السلام شامل ہیں۔ دینی خطاب بھی اسی مقصد کے حصول کا ایک ذریعہ ہے اور اس کی خودمختاری کا تحفظ درحقیقت دین کی حمایت ہے۔

انہوں نے بحرین، متحدہ عرب امارات اور کویت میں پیروانِ اہلِ بیت علیہم السلام کے علمائے دین کی گرفتاریوں، انہیں نام نہاد عدالتوں میں دباؤ کا نشانہ بنانے اور ان کے دینی امور پر تسلط قائم کرنے کی بھی مذمت کی۔

آیت اللہ شیخ حسین المعتوق کو سزائے موت سنائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا: یہ معاملہ کسی مخصوص سکیورٹی صورتِ حال تک محدود نہیں بلکہ ایک ایسے منصوبے کا حصہ ہے جس کا ہدف پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ بیت علیہم السلام کا دین ہے۔

شیخ الشعلة نے مزید کہا: وہ اسے فرقہ وارانہ جنگ قرار نہیں دیتے، کیونکہ پیروانِ اہلِ بیت علیہم السلام امن پسند ہیں اور دنیا بھر میں اپنے مسلمان بھائیوں کے حامی ہیں۔ باشعور مسلمان جانتے ہیں کہ شیعہ مشکلات، جہاد اور مظلومیت کے مواقع پر ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ شیعوں کے خلاف جنگوں کی بنیادی وجہ فلسطین کی حمایت میں ان کا مؤقف ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ خلیج فارس کے خطے میں اہلِ بیت علیہم السلام کے خلاف جاری جنگ دو فرقوں کے درمیان جنگ نہیں بلکہ شیعوں کے خلاف ایک سیاسی جنگ ہے، جس میں صہیونی ہتھیار کے طور پر فرقہ واریت کو استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے اور بالادستی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha