حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سربراہ حوزہ علمیہ ایران آیت اللہ اعرافی نے کویتی شیعہ عالم دین حجۃث شیخ حسین المعتوق کو کویتی حکومت کی جانب سے سزائے موت سنائے جانے کے خلاف سخت مذمتی بیان جاری کرتے ہوئے کویتی حکومت سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
مذمتی بیان حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مِنْ أَجْلِ ذَٰلِکَ کَتَبْنَا عَلَیٰ بَنِیٓ إِسْرَآئِیلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِی الْأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا وَمَنْ أَحْیَاهَا فَکَأَنَّمَآ أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا ۚ وَلَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ کَثِیرًا مِنْهُمْ بَعْدَ ذَٰلِکَ فِی الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ۔ (سورۂ مائدہ: 32)
آج جب عالم اسلام، بالخصوص امریکہ کی استکباری حکومت اور صیہونی حکومت کی جانب سے اسلام دشمن سازشوں اور منظم منصوبہ بندیوں کے باعث بے مثال چیلنجوں سے دوچار ہے، ایسے میں کویتی عدالتوں کی جانب سے عوام، نوجوانوں اور جلیل القدر علمائے دین کے خلاف ظالمانہ اور بے رحمانہ فیصلوں، بالخصوص کویتی حکام کی جانب سے کویت کے ممتاز عالم دین، مجاہد اور عوام کے خادم حجۃ الاسلام والمسلمین جناب شیخ حسین المعتوق کو سزائے موت سنائے جانے کی خبر نے مسلمانوں کے دلوں کو شدید صدمہ پہنچایا ہے۔ اس فیصلے کے باعث پوری امت مسلمہ اور ایران سمیت دنیا بھر کے علمی مراکز اور دینی مدارس میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
یہ اقدام قانونی و انسانی اصولوں اور علمائے دین کے بلند مقام کو صریحاً نظرانداز کرتے ہوئے کیا گیا ہے۔ یہ محض ایک عدالتی فیصلہ نہیں، بلکہ مسلمانوں اور بالخصوص شیعوں کی مذہبی شناخت اور حقوق پر حملہ، نیز علمائے اسلام کے اثر و رسوخ اور وقار کو کمزور کرنے کی ایک کھلی کوشش ہے۔
میں اس فرمانِ الٰہی «أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِی الْأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا...» کی روشنی میں اس حقیقت کی یاد دہانی کرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان اہل ایمان پر ظلم کرنا، جو سب کے سب پروردگارِ عالم کے کلام اور وحدت کے پرچم تلے بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں، ناقابلِ معافی گناہ ہے۔ ان کی حرمت اور عزت و وقار کا تحفظ ہر حال میں ضروری ہے۔
اسی بنا پر، حوزات علمیہ، مراجع عظامِ تقلید، جلیل القدر اساتذہ اور ان سے وابستہ اداروں کی نمائندگی کرتے ہوئے، اس ظالمانہ اقدام اور غیر قانونی فیصلے کی شدید مذمت کرتا ہوں اور اس بات پر زور دیتا ہوں کہ حکومتِ کویت اور متعلقہ حکام اسلامی اخوت کے اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس فیصلے پر فوری نظرثانی کریں۔ کویت کی معزز مسلمان قوم، بالخصوص وہاں کے شیعہ مسلمانوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور ممتاز علمی و مذہبی شخصیات کے مقام و مرتبے کا احترام کرتے ہوئے اس المناک سانحے کو رونما ہونے سے روکیں اور انصاف کے تقاضوں سے انحراف نہ کریں۔
یہ امر بھی خصوصی توجہ کا متقاضی ہے کہ جلیل القدر علمائے دین اور مذہبی شخصیات کے ساتھ کسی بھی قسم کا امتیازی سلوک نہ صرف ان کے انفرادی اور اجتماعی حقوق کی پامالی کا سبب بنتا ہے، بلکہ اسلامی ممالک کے درمیان اختلافات اور خلیج پیدا کرنے کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔ بلاشبہ یہی وہ صورتِ حال ہے جس کے دشمنانِ اسلام خواہاں ہیں، لہٰذا تمام اسلامی حکومتوں اور ملتوں کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔
میں بارگاہِ خداوند متعال میں اسلامی حکومتوں کی بیداری اور امریکی و صیہونی دشمنوں کے مقابلے میں امت مسلمہ کی کامیابی و سربلندی کے لیے دعاگو ہوں۔
آیت اللہ علی رضا اعرافی
مدیر حوزہ علمیہ ایران










آپ کا تبصرہ