۲ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ شوال ۱۴۴۵ | Apr 21, 2024
News ID: 362833
26 ستمبر 2020 - 14:05
مولانا سید علی ہاشم عابدی  

حوزه/ انہیں اللہ کے خالص بندوں میں حضرت عمار اور ان کے والدین جناب یاسر اور جناب سمیہ تھیں۔ جنہوں نے اعلان رسالت کے ابتدائی دور میں ہی اسلام قبول کیا جس کے نتیجہ میں کفار مکہ نے آپ حضرات کو شدید اذیتیں پہنچائیں۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی 

حوزہ نیوز ایجنسی | دورۂ جاہلیت کے تاریک دامن کو چاک کرنے اور راہ مستقیم سے بھٹکی انسانیت کی ہدایت و سعادت کے لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ کو دین اسلام کے اعلان کا حکم دیا۔ اس تعمیل حکم سے پہلے جو لوگ محبوب کبریاء کی صداقت و امانتداری کا قصیدہ پڑھتے نہیں تھکتے تھے وہی اعلان اسلام سن کر آپ کے جانی دشمن ہو گئے، صادق و امین کہنے والے دیوانہ، شاعر اور جادوگر کہنے لگے اور آپ کو اذیت و تکلیف پہنچانے میں کوئی موقع نہیں گنواتے۔ پروپگنڈہ کے ساتھ جسمانی آذار سے بھی پرہیز نہیں کرتے اور ان ظلم و ستم سے نہ فقط آپ بلکہ آپ کے پیروکار بھی محفوظ نہ تھے۔ عرب کی چلچلاتی دھوپ میں برہنہ پشت جلتی ریت پر یا جلتے پتھر پر لٹا کر ابوجہل جیسے ظالم و ستمگر انہیں سزا دیتے، دہکتے انگارے بدن پر اس وقت تک رکھتے جب تک کہ وہ سرد نہ ہو جاتے۔ لیکن اللہ رے ان خاصان خدا کا خلوص اور جذبہ توحید کہ ظالم ظلم کرتے کرتے تھک جاتے، ستمگر ستم ڈھاتے ڈھاتے ہمت ہار جاتے لیکن یہ اللہ والے ان تمام مصائب میں ’’احد، احد،صمد، صمد‘‘کہتے نہ تھکتے۔ ظاہر ہے یہ لوگ دنیا اور حقیقت سے واقف تھے ان کی نظر میں آخرت ہی سب کچھ تھی اور انہیں جیسے باایمان اور حوصلہ مندوں کے لئے قرآن کریم میں اللہ نے فرمایا:
 إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُواْ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسْتَقَٰمُواْ تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ أَلَّا تَخَافُواْ وَلَا تَحْزَنُواْ وَأَبْشِرُواْ بِٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِى كُنتُمْ تُوعَدُونَ۔
بے شک جن لوگوں نے یہ کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اسی پر جمے رہے ان پر ملائکہ یہ پیغام لے کر نازل ہوتے ہیں کہ ڈرو نہیں اور رنجیدہ بھی نہ ہو اور اس جنت سے مسرور ہو جاو جس کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔ 
(سورہ فصلت آیت 30) 

انہیں اللہ کے خالص بندوں میں حضرت عمار اور ان کے والدین جناب یاسر اور جناب سمیہ تھیں۔ جنہوں نے اعلان رسالت کے ابتدائی دور میں ہی اسلام قبول کیا جس کے نتیجہ میں کفار مکہ نے آپ حضرات کو شدید اذیتیں پہنچائیں لیکن ان تمام مصائب و آلام کے باوجود آپ کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی یہاں تک کہ جناب یاسر اور جناب سمیہ راہ خدا میں شہید ہوگئے اور اسلام کی پہلی خاتون جو شہید ہوئیں وہ جناب عمار کی والدہ جناب سمیہ ہیں۔ والدین کی دردناک شہادت کے باوجود آپ نے دین و ایمان کا دامن نہیں چھوڑا جیسا کہ سرکار رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ نے فرمایا:
 إِنَّ عَمَّاراً مَلِی ءٌ إِیمَاناً مِنْ قَرْنِهِ إِلَی قَدَمِهِ وَ اخْتَلَطَ الْإِیمَانُ بِلَحْمِهِ وَ دَمِه
یعنی عمار سر سے پاووں تک ایمان سے سرشار ہیں اور ایمان ان کے گوشت و خون میں مخلوط ہو گیا ہے۔
 (عوالی اللآلی، ابن ابی جمهور احسائی، انتشارات سید الشهداء، قم ، 1405، ج 2، ص 104.) 
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے جناب عمار سے فرمایا:
انَّکَ لَن تَموتَ حتَّی تَقتُلُکَ الفِئَة البَاغِیَة النَّاکِبَة عَنِ الحَقِّ یَکُونُ آخِرَ زَادِکَ مِنَ الدُّنیَا شَربَۀ لَبَنٍ
 یعنی تمہیں موت نہیں آئے گی یہاں تک کہ حق سے منحرف ایک گروہ تمہیں قتل کر دے اور اس دنیا سے تمہاری آخری غذا دودھ ہے۔
 (الغدیر، علامه امینی، دارالکتاب العربی، بیروت، چهارم، 1397، ج 9، ص 21.)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی یہ حدیث لوگوں میں بہت مشہور ہوئی اور موقع بہ موقع حضور نے اپنے اس با وفا صحابی کی عظمت و فضیلت کو لوگوں کے سامنے بیان فرمایا۔ 
منْ عادَی عمَّاراً عَادَاهُ اللَّهُ، وَ مَنْ أَبْغَضَ عَمَّاراً أَبْغَضَهُ اللَّهُ
 یعنی جو بھی عمار سے دشمنی کرے گا اللہ اس سے دشمنی کرے گا اور جو بھی عمار سے بغض رکھے گا اللہ اس سے ناراض ہو گا۔ 
(بحار الانوار، علامه محمد باقر مجلسی، مؤسسۀ الوفاء، بیروت 1404 ق، ج 31، ص 1966)
أَبشِرْ یا أَبا الْیقْظَانِ! فَإِنَّک أَخُو عَلِی فِی دِیانَتِهِ وَ مِنْ أَفَاضِلِ أَهْلِ وَلَایتِهِ وَ مِنَ الْمقْتُولِینَ فی محَبَّتِهِ تَقْتُلُک الْفِئَة الْبَاغِیة وَ آخِرُ زَادِک مِنَ الدُّنْیا صَاعٌ مِنْ لَبَنٍ وَ یلْحَقُ رُوحُک بِأَرْوَاحِ مُحَمَّدٍ وَ آلِه الْفاضِلِینَ فأَنْتَ مِنْ خِیارِ شِیعَتِی۔
یعنی اے ابو یقظان (جناب عمار کی کنیت) تمہیں بشارت ہو تم دینداری میں علی (علیہ السلام) کے بھائی ہو۔ ان کی ولایت (ماننے والوں) میں صاحب فضیلت بزرگ ہو اور ان کی محبت میں شہید ہو گے، تمہیں باغی گروہ قتل کرے گا اور اس دنیا میں تمہاری آخری غذا دودھ ہوگی اور تمہاری روح محمد و آل محمد (علیہم السلام) کی ارواح کے ہمراہ محشور ہوگی۔ پس تم میرے بہترین شیعہ ہو۔ 
(تفسیر امام حسن عسکری(ع)، مدرسه امام مهدی(عج )، قم، 1409 ق، ص 83)
مَا خُیرَ عَمَّارٌ بَینَ أَمْرَینِ إِلَّا اخْتَارَ أَشَدَّهُمَا عَلَی بَدَنِهِ
 یعنی عمار کو جب بھی دو کاموں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنا پڑا تو جس میں جسمانی مشقت زیادہ تھی اسے اختیار کیا۔ 
(بحار الانوار، علامه محمد باقر مجلسی، ج31، ص203.)
اشْتَاقَتِ الْجَنَّة إِلَی عَلِی وَ عَمَّارٍ وَ سَلْمَانَ وَ بلَالٍ۔
 یعنی بہشت (امام) علی (علیہ السلام)، عمار، سلمان اور بلال کی مشتاق ہے۔ 
(بحار الانوار، علامه محمد باقر مجلسی، ج31، ص203.)
الْحَقُّ مَعَ عَمَّارٍ یدُورُ مَعَهُ حَیثُمَا دَار۔
 یعنی حق عمار کے ساتھ ہے اور وہ اسی جانب مڑے گا جدھر یہ مڑے۔ 
(بحار الانوار، ج 30، ص 373.)
قَاتِلُ عَمَّارٍ وَ سَالِبُهُ فِی النَّارِ
یعنی عمار کو قتل کرنے اور مسلوب کرنے والا جہنمی ہے۔ 
(وقعۀ صفین، نصر بن مزاحم منقری، انتشارات کتابخانه آیه الله مرعشی، قم، 1403 ق، ص 3422.)

مذکورہ احادیث شریف کی روشنی میں چند نکات قابل غور ہیں: 
1: جناب عمار مومن کامل تھے۔
 2: جناب عمار شہید ہیں اور آپ کے قاتل باغی، حق سے منحرف اور جہنمی ہیںاور اس میں کسی طرح کے چوں و چرا کی گنجائش نہیں۔ 
3: جناب عمار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کے دنیا و آخرت میں بھائی جناب امیر کے دینی بھائی اور ان کی ولایت سے سرشار تھے۔ 
4: جناب عمار ہمیشہ دین کے سلسلہ میں سخت کام اختیار فرماتے۔ 
5: جنت خود آپ کی مشتاق ہے۔ جبکہ دوسرے تمام لوگ جنت کے آرزومند ہیں۔
6: دو جہاں کی سعادت حق کی ہمراہی میں ہے۔ جناب عمار حق کے ہمراہ ہیں۔ بلکہ ایسا معیار حق ہیں کہ آپ جنگ صفین میں حضرت امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کی حقانیت کی دلیل بن گئے کہ جو لوگ جمل و صفین میں حیرت زدہ تھے کہ کس کا ساتھ دیں کہ دونوں جانب مسلمان ہیں۔ ایک جانب نفس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ تو دوسری جانب آنحضرت کے سببی رشتہ دار ہیں۔ لیکن جب آپ کی شہادت ہوئی تو ان لوگوں کے لئے بھی حق واضح ہو گیا اور آپ کی شہادت نے باغی گروہ کے چہرے سے اسلام کی نقاب اتار دی اور انھوں نے اپنے باغی چہرے کو دوبارہ یہ کہہ کر چھپانے کی کوشش کی کہ امیرالمومنین امام علی علیہ السلام عمار کو اپنے ہمراہ لائے تھے لہٰذا وہی قاتل ہیں تو مولا نے فرمایا : 
احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ حمزہ کو لے گئے تھے تو کیا حمزہ کی شہادت کے ذمہ دار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ ہیں؟ 

مظلومانہ شہادت
جنگ صفین میں آپ نے شرکت فرمائی۔ 9 صفر 37 ہجری کو صفین میں جنگ کرتے کرتے اچانک پیاس محسوس ہوئی تو واپس آئے اور پانی طلب کیا تو قبیلہ بنی شیبان کی ایک خاتون نے آپ کو دودھ کا پیالہ پیش کیا تو آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ کی حدیث یاد آگئی فرمایا:
 آج میں شہید ہو جاوں گا اور اپنے دوستوں سے اس جہاں میں ملاقات ہوگی۔

دوبارہ میدان میں گئے اور شہید ہوئے امیرالمومنین امام علی علیہ السلام نے اپنا لباس بطور کفن عطا فرمایا۔  امیرالمومنین امام علی علیہ السلام آپ کے فراق میں بہت غمگین ہوئے اور بعد میں بھی آپ کو یاد کرتے ہوئے فرماتے:این عمار۔ عمار کہاں ہیں؟؟ 

آپ کا مزار شام میں عاشقان اہلبیت علیہم السلام کی زیارت گاہ ہے لیکن افسوس انہیں باغی گروہ کی کڑی داعش نے دو بارہ حملہ کر کے آپ کے مزار کو منہدم کر دیا۔

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .