۴ آذر ۱۳۹۹ | Nov 24, 2020
مولانا فیروز علی زیدی

حوزہ/ اس ۷۲ تابوت کے جلوس میں مختلف علاقوں سے تقریباً ٧٠ کیلومیٹر پیدل سفر کرتے ہوئے لوگ شامل ہوۓ ۔کلکتہ اور ہوگلی سے و ۲۴ پرگنہ کے مختلف گاوں سے لوگ شریک ہوئے۔ زائرین کی تعداد تقریبا ۱۵ سے ۲۰ ہزار بتائی گئی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،انجمن ۷۲ شہیدان کربلا کی جانب سے بنگال کے ضلع ۲۴ پرگنہ نارتھ،گاوں شرنیا ٹاکی میں ایک عظیم الشان ۷۲ تابوت کا جلوس اور خمسہ مجالس، طبی اصولوں کی رعایت کرتے ہوئے انعقاد کیا گیا۔

اس مجلس کو خطیب حجت الاسلام ڈاکٹر کلب رشید رضوی نے خطاب کیا، مولانا موصوف نے حالت حاضرہ پر جامع گفتگو کرتے ہوئے زیارت عاشورا کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دشمن سازش کر رہا ہے کے زیارت عاشورا کے پڑھنے پر روک لگا دی جاۓ اور ساتھ ہی یہ الزام بھی لگا رہا ہے کہ اس میں نعوذ باللہ گالیاں لکھی ہوئی ہیں جسکا مولانا نے دندان شکن جواب دیتے ہوئے کہا کہ دین اسلام میں لعنت کی اجازت ہے اور گالی دینے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ 

نظامت کے فرائض مولانا علی عباس چھپروی نے انجام دیئے جنہوں نے کہا کہ ہم حسینی ووٹرز نہیں بلکہ سپوٹرز ہیں اور ہم پرچم عباس کے سپوٹرز ہیں۔ 

ذرائع کے مطابق اس ۷۲ تابوت کے جلوس میں مختلف علاقوں سے لوگ شامل ہوئے اور بعض مومنین تقریباً ٧٠ کیلومیٹر پیدل سفر کرتے ہوئے اس جلوس عزا میں شامل ہوۓ ۔کلکتہ، ہوگلی اور ۲۴ پرگنہ کے مختلف گاوں سے مومنین شریک ہوئے۔ زائرین کی تعداد تقریبا ۱۵ سے ۲۰ ہزار بتائی گئی ہے۔

یاد رہے کہ یہ پروگرام حجت الاسلام والمسلمین مولانا فیروز حسین زیدی کے زیر نگرانی انجام دیا گیا ہے۔ مولانا نے مومنین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ١٤٠٠ سال پہلے امام حسین علیہ السلام نے اسلام کی مدد کرنے کے لئے دعوت حق دیا تھا جنکی صدا تھی "ھل من ناصر ینصرنا" آج بھی وہ صدا ہمارے لئے اور ہر ایک مسلمان کے لئے اتنی ہی اہم ہے لہذا ہمارا یہ فریضہ ہے کہ اس صدا پر لبیک کہتے ہوئے ان کے مقصد کو آگے بڑھاتے رہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 15 =