۱۴ اسفند ۱۳۹۹ | Mar 4, 2021
تصاویر/ تجمع طلاب بسیجی مدرسه علمیه شهید صدوقی واحد 2 در پی اهانت رئیس جمهور فرانسه به ساحت مقدس پیامیر(ص)

حوزہ/ فرانس کے جریدوں میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کھلی دہشتگردی ہے جس کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،سرینگر فرانسیسی جریدے کی جانب سے مسلسل توہین آمیز خاکے شائع کرنے اور پیغمبر اسلام(ص) کی شان اقدس میں فرنسیسی صدر کے توہین آمیزبیان پر پوری دنیا کے ساتھ ساتھ وادی کے مذہبی انجمنوں نے بھی شدید غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔

نمائندے کے مطاق انجمن صدائے حسین،اہلبیت فاونڈیشن کشمیر،ادارہ اما م خمینی،انجمن شرعی شیعیان،شیعہ ڈیولپمنٹ فاونڈیشن ،پیروان ولایت،اسلامک سوشل آرگنائزیشن،جامعہ امام رضا ؑ اور اتحاد المسلمین سمیت درجنوں مذہبی انجمنوں نے توہین رسالت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مسلم حکمرانوں سے فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے اور فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔اہلبیت فاونڈیشن کشمیر کے سربراہ مولانا شیخ غلام رسول نوری نے مرسل اعظم کی توہین کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے فرانسیسی صدر ایمونل میکران کو عالمی امن کے لئے خطرہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ آئے دن فرانس کے جریدوں میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کھلی دہشتگردی ہے جس کو برداشت نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ فرانسیسی صدر کے جارہانہ اور غیر انسانی روایہ نے اُمت مسلمہ کے دلوں کو مجروع کردیامسلم حکمرانوں کا اولین فریضہ ہے کہ وہ گستاخ میکرون کے خلاف عالمی عدالت میں مقدمہ دائر کریں۔انہوں نے کہا کہ مغرب نے آزادی اظہار کے نام پر مذہبی شخصیات کی توہین کو اپنا وطیرہ بنالیا ہے اگر فرانسیسی صدر نے معافی نہیں مانگیں تو احتجاج کے شعلیں بھڑکیں گے۔

انجمن صدائے حسین کے سربراہ مظفر ریشی نے بھی پیغمبر اکرم(ص) کی شان میں کی جانے والی گستاخی کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گستاخانہ حرکات انسانی حقوق کے منافی اور غیر انسانی اقدام ہے اس طرح کی کاروائیاں روکنے کے لئے امت مسلمہ یک جٹ ہوکرمشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیںانہوں نے مسلمانان عالم سے اپیل کی کہ وہ فرانسیسی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں۔

درایں اثناء مولانا نظیر احمد حلمی اور مولانا سبط شبیر قمی نے بھی رسول اسلام کے شان اقدس میں فرانسیسی صدر کے گستاخانہ بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے انہوں نے کہا ہے کہ فرانسیسی صدر کی سربراہی میں ہی اسلاموفوبیا کا ڈرامہ تیار کیا جارہا ہے جو حد درجہ تشویشناک ہے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
6 + 8 =