۳۰ دی ۱۳۹۹ | Jan 19, 2021
علامہ مقصود ڈومکی

حوزہ/ مرکزی ترجمان ایم ڈبلیوایم نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کو رہائش کے لیے گھر فراہم کرے مگر یہاں غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے گھروں کو ڈھانے کا سلسلہ جاری ہے ارباب اقتدار کو اور معزز عدالتوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ جب کسی کا گھر گرتا ہے تو اس خاندان اور خاندان کے افراد پر کرب اور تکلیف کی کیا کیفیت طاری ہوتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ تجاوزات کے نام پر عوامی املاک ڈھانے ان کے کاروبار تباہ کرنے اور مساجد اور امام بارگاہوں کی بے حرمتی کا سلسلہ انتہائی افسوسناک ہے ایسے عوام دشمن اقدامات سے گریز کیا جائے۔ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ عوام کو رہائش کے لیے گھر فراہم کرے مگر یہاں غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے گھروں کو ڈھانے کا سلسلہ جاری ہے ارباب اقتدار کو اور معزز عدالتوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ جب کسی کا گھر گرتا ہے تو اس خاندان اور خاندان کے افراد پر کرب اور تکلیف کی کیا کیفیت طاری ہوتی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ سرکاری زمینوں کے تحفظ کے لیے مکانات بننے سے پہلے قانون پر سختی سے عملدرآمد کرائے لیکن جن مقامات پر لوگوں کے گھر بن چکے ہیں انہیں برباد کرنا انہیں گرانا اور کروڑوں کی املاک کو تباہ کرنا ظلم ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام سے پچاس لاکھ گھر تعمیر کرنے کا جو وعدہ کیا تھا اس وعدے کو جلد پورا کیا جائے اور جن مقامات پر لوگوں کے گھر گرائے گئے ہیں انہیں متبادل گھر اور متبادل پلاٹ فراہم کیے جائیں معزز عدالتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے احکامات میں ترمیم کرتے ہوئے کسی بھی جگہ پر گھر یا دکان ڈھانے سے پہلے متبادل گھر اور کاروبار کی فراہمی کا حکومت کو پابند بنائے۔

 انہوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ ان اقدامات سے اکثر غریب اور پسماندہ طبقہ ہی متاثر ہو رہا ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 4 =