۲۵ فروردین ۱۴۰۳ |۴ شوال ۱۴۴۵ | Apr 13, 2024
علامہ ڈاکٹر محمد حسین اکبر

حوزہ/ سربراہ تحریک حسینیہ پاکستان نے کہا کہ پہلے سانحات اور قتل و غارت میں کالعدم جماعتوں کے ملوث افراد کو رہا نہ کیا جاتا تو یہ واقعات رونما نہ ہوتے، تمام سیاسی جماعتیں، عمائدین قوم اور آئمہ جمعہ و جماعت آنے والے روز جمعہ کو یوم احتجاج کے طور پر منائیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سرزمین کوئٹہ ایک مرتبہ پھر لہو لہان، اور ایک بار پھر انتہائی پر امن ہزارہ قوم کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔ یزیدیوں نے کربلا بپا کردی بے گناہ ہزارہ کان کن مزدوروں کی شہادت پر ہم اس وقت تک سراپا احتجاج ہیں جب تک قاتلوں کو سزا نہیں دی جاتی اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ہزارہ قوم جو اس وقت سراپا احتجاج ہے جب تک ان کے قاتلوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا اور پس پردہ جو لوگ ہیں انہیں سامنے نہیں لایا جاتا ہمارا ان کے حق میں احتجاج جاری رہے گا ۔

ان باتوں کا اظہار سربراہ تحریک حسینیہ پاکستان علامہ محمد حسین اکبر نے کیا اور کہا کہ اس سانحہ کی ذمہ دار حکومت بلوچستان ہے جس نے نااہلی کا ثبوت دیا اس نااہل حکومت کو مستعفی ہونا چاہیے ۔ ہم شہداء کے وارثوں کے ساتھ کھڑے ہیں ان کے قاتل ان شاء اللہ بے نقاب ہوں گے اور کیفر کردار تک پہنچیں گے ۔

ہمارا سوال ریاست سے یہ ہے کہ کیا یہ بھی واقعہ بغیر تحقیقات یا تحقیقات ہونے کے بعد سرد خانے میں ڈال دیا جائے گا اور ہمیں نہیں پتہ چلے گا کہ یہ کیا ہوا میں مطالبہ کروں گا اپنی پوری قوم کی جانب سے کہ ہمیں مکمل تحقیقاتی رپورٹ چاہیے اور بتایا جائے کہ ان کے پیچھے کون ہے اسکے پیچھے کون سیاسی عناصر ہیں کیا محرکات ہیں اسکے پیچھے کیا مقاصد ہیں وہ ہم پر روشن کیا جائے اور ان خانوادوں کو تحفظ فراہم کیا جائے ان شہداء کے خاندانوں کی تاحیات حکومت کفالت کی ذمہ داری قبول کرے۔

مزید کہا کہ بلوچستان میں دو طرح کے عناصر ہوسکتے ہیں ان پر خاص توجہ دی جائے ایک وہ جو پاکستان دشمن عناصر ہیں ایک وہ جو مسلمان دشمن عناصر ہیں۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ گزشتہ سالوں کے شہداء کوئٹہ اور زائرین کی تفتیشی رپورٹیں قوم کے سامنے لائی جائیں اور ملزموں کو عدالتوں کے ذریعے قرار واقعی سرعام سزائیں دی جائیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .