۲۶ فروردین ۱۴۰۳ |۵ شوال ۱۴۴۵ | Apr 14, 2024
ایران کے پاکستان میں سفیر کے ساتھ پاکستان کے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کی ملاقات

حوزہ/ پاکستان کے مذہبی امور مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے وزیر نے فرقہ واریت کے مقابلے اور وحدت و اتحاد کی مضبوطی میں ایران کے مراجع عظام کے کلیدی کردار کی قدردانی اور تحسین کرتے ہوئے، حضرت آیت اللہ خامنہ ای، انقلاب اسلامی ایران کے سپریم لیڈر کے فتوی کو تکفیریت اور فرقہ گرایی کے دیو پر غلبہ پانے کے لۓ الہامی سرچشمہ قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے مذہبی امور مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے وزیر پیر نورالحق قادری نے فرقہ واریت کے مقابلے اور وحدت و اتحاد کی مضبوطی میں ایران کے مراجع عظام کے کلیدی کردار کی قدردانی اور تحسین کرتے ہوئے، حضرت آیت اللہ خامنہ ای، انقلاب اسلامی ایران کے سپریم لیڈر کے فتوی کو تکفیریت اور فرقہ گرایی کے دیو پر غلبہ پانے کے لۓ الہامی سرچشمہ قرار دیا۔

فریقین نے ایران پاکستان کے دو طرفہ تعلقات، عالم اسلام کے اتحاد کی مضبوطی اقوام اسلامی‌کے درمیان یکجہتی کے فروغ اور دشمنوں اور استعماری طاقتوں کے تفرقہ کی آگ بڑہکانے کی کوششوں کے خلاف اقوام اسلامی‌کو اکٹھا کرنے جیسے بہت سے موضوعات پر غور و خوض کیا اور دینی، ثقافتی و قرانی حلقوں کے درمیان تعاون قائم کرنے، دونوں ممالک کے عوام میں تعاملات کے فروغ اور زائرین کے امور پر بات چیت کی ہے۔ اسلامی جمہوری ایران کے سفیر سید محمد علی حسینی اور پاکستان کے وزیر مذہبی امور نے دونوں ہمسایہ ممالک کے مشترکہ دشمنوں کے مقابلے میں ثابت قدمی ‌کے مقاصد کو ناکام بنانے کیلۓ مربوط اقدامات کے ساتھ، اسلام فوبیا، تکفیریت اور انتہا پسندی جیسے فنامنا کے خلاف مشترکہ محاذ کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

پاکستان کے وزیر مذہبی امور نے پاکستانی عوام کی ایرانی قوم کے ساتھ گہری دوستی، محبت اور پیار کے رشتے پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ دونوں اخوت کے رشتہ میں بندہے ان دو قوموں کے مضوبط رشتے کیلۓ کسی ثبوت اور دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ ایران اور پاکستان نے ہمیشہ اور ہر طرح کے حالات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے. اور دو طرفہ تعاون سے دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمی‌پیدا کرنے کے غیر ملکی عوامل کی سازش کو ناکام بنایا ہے۔

 پاکستان کے وزیر امور مذہبی نے فرقہ واریت، نفرت اور تفرقہ کی آگ پھیلانے کی سازش کو امریکی صیہونی مشترک سازشوں کو بڑی چیلنج قرار دیتے ہوئے وحدت کے دشمنوں کے مقابلے کیلۓ مربوط اقدامات کی ضرورت بیان کرتے ہوئے ایران اور پاکستان کی طرف سے موثر حکمت عملی کے اہتمام پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان میں فرقہ وارانہ آگ بھڑکانے کی کچھ کوششوں اور شیعہ سنی کمونیٹی کے درمیان خونریز لڑائی ڈالنے کی سازش اور مذہبی حلقوں اور حکومت پاکستان کی طرف سے فوری طور پر اسے ناکام بنانے کے کام پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید کہا: اگرچہ کچھ عوامل نے معاشی میں کشیدگی پھیلانے کا باعث بنے لیکن خوش قسمتی سے پاکستانی علما کی افہام و تفہیم سے یہ سازش بھی بے نقاب ہو گئی۔

پاکستان کے وزیر مذہبی امور نے اسلامی جمہوریہ ایران کے علما اور مراجع عظام کے مرکزی کلیدی  کردار کی تحسین کرتے ہوئے جو کہ انہوں نے اتحاد کے فروغ اور اسلام مخالف مساعی سے برات کیلۓ ادا کیا مزید کہا کہ ہم ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے اس تاریخی فتوے کے بہت قدردان ہیں جو انہوں نے اسلام کے مقدسات کی توہین کو حرام قرار دینے پر جاری کیا۔

وزارت مذہبی امور نے اپنے تمام اہم پروگراموں میں اس فتوی کو پیش کیا ہے۔ اور عربی، اردو اور انگلش زبانوں میں اس کا ترجمہ کر کے اسے نشر کیا ہے۔ وزیر مذہبی امور نے خاتون جنت، نامی تقریب مخالف فلم پر رد عمل دیتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کے حکومتی اور مرجعیت ایران کے سرکاری موقف کو پاکستانی حکومت اور علما کے موقف کے مطابق اور سازگار قرار دیتے ہوئے مزید کہا: یہ فلم وحدت و اتحاد کے خلاف بنائی گئی ہے. اور اس سازش کی تفہیم کے لۓ ہم اپنے ملک کے علما کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ہم نے وزیر اعظم سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ سفارتی ذرائع سے یہ مسئلہ حکومت برطانیہ کے ساتھ اٹھائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اسلامی تعاون تنظیم سے بھی درخواست کرے گا تاکہ ممبر ممالک کے نمایندوں پر مشتمل ایک ایسا فورم تشکیل دے تا کہ فلم سازی اور اسی قبیل کے اسلام مخالف اقدامات پر نظر رکھے اور ان کا تدارک کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے دشمنوں کی تمام تر کوششوں کا مقدر ناکامی ہے۔

ایرانی سفیر نے بھی اسلامو فوبیا کے خلاف وزیراعظم عمران خان کے ٹھوس موقف کی تحسین و قدردانی کرتے ہوۓ خصوصی طور پر صیہونی ریاست کو تسلیم کرنے کے منصوبہ کی پرزور مخالفت پر اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایران اور پاکستان دو ہمسایہ دوست برادر ممالک کے عوام کے درمیان مودت اور گہرے رشتوں اور مضبوط دوستی کا بنیادی اور کلیدی عامل، دین اسلام کی پیروی ہے۔

سید محمد علی حسینی نے مزید کہا ایران اور پاکستان کے درمیان موجود مضبوط مشترکات کی بدولت دونوں ممالک کے درمیان کسی غلط فہمی‌ پیدا ہونے کے امکان کو روکا جا سکتا ہے۔ یہاں تک کہ کسی قسم کے مسائل پیش آنے پر فوری طور پر مذاکرات اور رابطوں کی ذریعہ اسے ختم کرنے کا اقدام کیا جا سکتا ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .