۶ خرداد ۱۴۰۳ |۱۸ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 26, 2024
مدارس

حوزہ/ پاکستانی حکومت کی مدارس کو سیاست سے دور رکھنے اور ان کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لئے حکومت نے نئی حکمت عملی تیار کرلی ہے، مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کے زیرا نتطام مدارس کے الگ سے بورڈ بنانے کی منظوری دی جائے گی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لاہور/ حکومت پاکستان کی مدارس کو سیاست سے دور رکھنے  اوران کے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لئے حکومت نے نئی حکمت عملی تیار کرلی ہے۔ 

ذرائع کے مطابق، مختلف مکاتب فکر کے وفاق المدارس کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کے لیے  وفاقی وزارت تعلیم کی طرف سے فروری میں  نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق، پاکستان میں اس وقت دینی مدارس کے نمائندہ پانچ وفاق المدارس یا بورڈز ہیں جن میں وفاق المدارس العربیہ دیوبندی مکتبہ فکر، تنظیم المدارس اہل سنت، وفاق المدارس الشیعہ، وفاق المدارس سلفیہ اور تنظیم رابطۃ المدارس (جماعت اسلامی) شامل ہیں۔ یہ ’’وفاق‘‘ دینی مدارس کے لئے ایک بورڈ کادرجہ رکھتے ہیں جو طلبا و طالبات کو سند جاری کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ منہاج القرآن، جامعہ اشرفیہ، جامعہ محمدیہ غوثیہ اور دارالعلوم جامعہ بنوریہ کراچی کے پاس بھی سندجاری کرنے کا اختیار ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے مدارس کے وفاق کی تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ دینی مدارس کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی وفاق المداس (بورڈ) کے ساتھ الحاق کرسکیں گے۔ ذرائع کے مطابق مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کے زیر انتطام مدارس کے الگ سے بورڈبنانے کی منظوری دی جائے گی۔

اسی طرح منہاج القرآن، جامعہ محمدیہ غوثیہ، جامعہ اشرفیہ، جامعہ نعیمیہ، جامعہ اکوڑہ خٹک ،جامعہ بنوریہ، جامعہ عروۃ الوثقی،جامعہ رضویہ فیصل آباد سمیت دیگر دینی جامعات کو وفاق کا درجہ دے کر ملک بھرسے دینی مدارس کو ان کے ساتھ الحاق کی اجازت دی جائے گی۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .