۲۷ فروردین ۱۴۰۰ | Apr 16, 2021
آغا سید عابد حسین حسینی

حوزہ/ امام جمعہ و جماعت سرینگر کشمیر نے کہا کہ مسلم امہ کے دشمن، اسلام سے کینہ رکھنے والے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ دینی مراکز کی فکری محور کی حیثیت کو ختم کر دیں اور عوام کے لئے ایسے نئے محور تراشیں جن کے بارے میں وہ تجربہ کر چکے ہیں کہ یہ افراد قومی اقدار اور اصولوں پر با آسانی سودے بازی کرسکتے ہیں۔ جبکہ باتقوی علمائے کرام اور دینی افراد سے یہ چیز محال ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ و جماعت سرینگر کشمیر، حجۃ الاسلام و المسلمین آغا سید عابد حسین حسینی نے اپنے ایک بیان میں کل کے اجلاس کے بارے میں اپنی جذبات کو رہبر معظم کی فرمایش اور قرآن مجید کی بشارت سے اسطرح بیان کئے کہ مجلس علماء امامیہ کی تشکیل پوری قوم کے کئے خوشایند اور مبارک اقدام ہے علماء کشمیر نے مقتضیات زمان کو ملحوظ خاطر رکھ کر خدا کے لئے ایسا قدم اٹھایا جس کے لئے خدا نے کامیابی کی ضمانت دی ہے إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّهِ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا۔ "علاوہ ان لوگوں کے جو توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں اور خدا سے وابستہ ہوجائیں اور دین کو خالص اللہ کے لئے اختیار کریں تو یہ صاحبان ایمان کے ساتھ ہوں گے اور عنقریب الله ان صاحبان ایمان کو اجر عظیم عطا کرے گا"۔

مولانا موصوف نے کہا کہ یقینا علماء کرام کا آج کا اجلاس ولی امرالمسلمین حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ دامت برکاتہ کے اُس بیان کا عملی مظاہرہ ہے جس میں وہ فرماتے ہیں: علمائے کرام اور دینی امور کے ماہرین کم و بیش ہر جگہ ہی عوام الناس کے فکری مرجع اور روحانی اطمینان و سکون کا سرچشمہ رہے ہیں اور جہاں بھی بڑے تغیرات کے موقع پر وہ قائد اور رہنما کے طور پر آگے آئے اور خطرات کے مقابل عوامی صفوں میں پیش پیش رہے ہیں عوام سے ان کا فکری رشتہ اور بھی مستحکم بن گیا اور عوام کے راستے کے تعین کے لئے ان کا اشارہ زیادہ موثر رہا ہے۔

امام جمعہ و جماعت سرینگر کشمیر نے مزید کہا کہ یہ چیز اسلامی بیداری کی تحریک کے لئے جتنی مفید اور بابرکت ہے، مسلم امہ کے دشمنوں، اسلام سے کینہ رکھنے والوں اور اسلامی اقدار کی حکمرانی کے مخالفوں کے لئے اتنی ہی ناپسندیدہ اور باعث تشویش ہے۔ اسی لئے وہ کوشش کر رہے ہیں کہ دینی مراکز کی فکری محور کی حیثیت کو ختم کر دیں اور عوام کے لئے ایسے نئے محور تراشیں جن کے بارے میں وہ تجربہ کر چکے ہیں کہ یہ افراد قومی اقدار اور اصولوں پر بآسانی سودے بازی کرسکتے ہیں۔ جبکہ باتقوی علمائے کرام اور دینی افراد سے یہ چیز محال ہے۔

خدا عزیز و رحیم کی بارگاہ میں دعا کرتا ہوں کہ وہ اس اجتماعی سعی و کوشش میں برکت عطا فرمائے اور اسے کشمیر کے حالات کی بہتری کی سمت موثر قدم میں تبدیل کر دے۔ انه سمیع مجیب وہ سننے اور قبول کرنے والا ہے۔

واضح رہے کہ 28 جنوری کو آغا سید حسن موسوی کی صدرات میں انجمن شرعی شیعیان کے صدر دفتر پر علما کا ایک اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں مرکزی حکومت کی طرف سے جموں و کشمیر میں شیعہ وقف بورڈ قائم کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس اجلاس میں چھ رکنی رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جو اس ضمن میں علما و مفکرین کے ساتھ تبادلہ خیال کر کے ایک لائحہ عمل تیار کرے گی۔اجلاس میں مجلس علماء کی تشکیل کے بارے میں بھی حتمی فیصلہ لیا گیا تھا اور ایک آزاد و خودمختار شیعہ وقف بورڈ بنانے کے بارے میں اتفاق رائے سے فیصلہ ہوا تھا اسی سلسلے میں کل بروز منگلوار مطابق 2 مارچ 2021 کو حوزہ علمیه جامعہ امام رضا علیہ السّلام کشمیر میں علماء کا ایک روزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں علماء کشمیر نے ایک .تحدہ پلیٹفارم تشکیل دیا جسکا نام مجلس علماء امامیه رکھا گیا.

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 6 =