۱۶ اردیبهشت ۱۴۰۰ | May 6, 2021
مولانا سید رضا حیدر زیدی

حوزہ/ پرنسپل حوزہ علمیہ حضرت غفرانمآب رہ لکھنو نے کہا کہ حدیث نبوی کی روشنی میں جو بھی صاحب ایمان ہے اس کی شناخت مولا علی علیہ السلام کی ذات ہے لہذا ہم مولا علی علیہ السلام سے محبت کرتے ہیں کیوں کہ ایمان کا یہی تقاضہ ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،حضرت امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کی مظلومانہ شہادت کے موقع پر حجۃ الاسلام مولانا سید رضا حیدر زیدی پرنسپل حوزہ علمیہ حضرت غفرانمآب رہ لکھنو نے مجلس عزاء سے خطاب کرتے ہوئے بیان کیا کہ جو بھی انسان ہے وہ علی علیہ السلام سے محبت کرتا ہے۔

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے سورہ مائدہ کی 54 نمبر آیت "ایمان والو! تم میں سے جو بھی اپنے دین سے پلٹ جائے گا۔ تو عنقریب خدا ایک قوم کو لے آئے گا جو اس کی محبوب اور اس سے محبت کرنے والی۔ مومنین کے سامنے خاکسار اور کفار کے سامنے صاحب عزت، راہ خدا میں جہاد کرنے والی اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے والی ہوگی۔ یہ فضل خدا ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہےاور وہ صاحب وسعت اور علیم و دانا بھی ہے۔" کو سرنامہ کلام قرار دیتے ہوئے "محبت" کے عنوان پر چند سوالات پیش کئے اور اس کے جوابات بیان کئے۔ سوال! ہم مولا علی علیہ السلام سے کیوں محبت کرتے ہیں ؟ کا جواب دیتے ہوئے بیان کیا کہ مولا علی علیہ السلام سے ہماری محبت تین جہتوں سے ہیں ایک انسان ہونے کی وجہ سے ہے کیوں کہ ہر انسان کمال سے محبت کرتا ہے اور ہر کمال بطور کامل مولا علی علیہ السلام میں موجود تھا، علم ہو، شجاعت ہو، سخاوت ہو یا قضاوت ہو سارے کمالات بطور کامل اس ذات میں موجود تھے، جیسا کہ امام شافعی سے جب مولا علی علیہ السلام کے سلسلہ میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں ان کے بارے میں کیا کہوں جن میں تین صفتیں تین صفتوں کے ساتھ موجود تھیں سخاوت فقر کے ساتھ۔ (سخاوت ایسی کہ اونٹوں کی قطار راہ خدا میں عطا کریں لیکن فقر یہ کہ جو کی سوکھی روٹی گھٹنے پر ٹوڑ کر نوش فرمائیں یہاں یہ فقر مجبوری میں نہیں تھا بلکہ اختیار کے ساتھ تھا)، شجاعت راے کے ساتھ (ممکن ہے ایک انسان شجاع ہو لیکن اس میں رائے اور مشورہ کی صلاحیت نہ ہو لیکن امیرالمومنین علیہ السلام میں دونوں صفتیں بطور کامل پائی جاتی تھیں آپ ایسے شجاع کہ میدان جنگ میں جبرئیل امین نے ندا دی 'لا سیف الا ذوالفقار لا فتی الا علی" یعنی کوئی تلوار ذوالفقار جیسی نہیں، کوئی جوان و بہادر علی علیہ السلام جیسا نہیں۔ اسی طرح دنیوی حکمراں آپ سے مشکلات میں مشورے لیتے اور آپ سے رائے کے طلبگار ہوتے۔) اور علم عمل کے ساتھ تھا (مولا علی علیہ السلام کے علم کے سلسلہ میں رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کے دروازہ ہیں۔ اسی طرح آپ کے عمل کے سلسلہ میں جنگ خندق میں فرمایا "علی علیہ السلام کی ایک ضربت عبادت ثقلین پر بھاری ہے۔ یعنی ہر کمال آپ کی ذات میں موجود تھا جیسا کہ مشہور نحوی سیبویہ نے امیرالمومنین علیہ السلام کے سلسلہ میں کہا: میں اس ذات کے سلسلہ میں کیا کہوں جس کے سب محتاج تھے لیکن وہ سب (انسانوں) سے بے نیاز تھا۔ انسان فطرتا کمال پسند ہوتا ہے تو جو بھی انسان ہے، آدمی ہے وہ آپ سے محبت کرتا ہے۔ )

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے حدیث قدسی "کلمہ لاالہ الا اللہ میرا قلع ہے جو بھی میرے قلع میں داخل ہوا وہ میرے عذاب سے امان میں آ گیا۔" سارے مسلمان اس قلع میں داخل ہیں لیکن اس قلع کا محافظ کون ہے جس کے سبب سارے مسلمان اس قلع میں محفوظ اور امان سے ہیں تو اس محافظ کا نام علی علیہ السلام ہے لہذا ہم مسلمان ہونے کے لحاظ سے بھی مولا علی سے محبت کرتے ہیں کیوں کہ اگر آپ نہ ہوتے تو ہم نعمت اسلام سے محروم ہوتے، یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ مولا علی علیہ السلام سب سے پہلے اسلام لائے بلکہ یہ کہنا چاہئیے کہ آپ نے سب سے پہلے اظہار اسلام کیا، اظہار ایمان کیا۔ 

مولانا سید رضا حیدر زیدی نے رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث "ائے علی! اگر آپ نہ ہوتے تو میرے بعد مومنین پہچانے نہ جاتے۔" کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حدیث نبوی کی روشنی میں جو بھی صاحب ایمان ہے اس کی شناخت مولا علی علیہ السلام کی ذات ہے لہذا ہم مولا علی علیہ السلام سے محبت کرتے ہیں کیوں کہ ایمان کا یہی تقاضہ ہے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 10 =