۳۰ دی ۱۴۰۰ |۱۶ جمادی‌الثانی ۱۴۴۳ | Jan 20, 2022
قاسم سلیمانی

حوزہ/ اگر ایسا دلدوز اور خونین حادثہ یورپ کے کسی دور افتادہ گاؤں دیہات میں پیش آیا ہوتا تو دنیا بھر میں نہیں معلوم کتنے دن تک سوگ منایا جاتا تمام ممالک کے پرچم کئی کئی دنوں کے لیے خم کئے جاتے بلکہ سرنگوں کئے جاتے، روسا اور وزرائے مملکت فرداً فرداً تعزیت نامے ارسال کرتے۔۔۔۔ لیکن یہ تو ایک مخصوص طبقہ کی نونہال تھیں ان کا تو خدا، رسول اور آل رسول ص کے سوا کوئی سہارا نہیں ہے

تحریر: مولانا میر مقبول جعفری کشمیری

حوزہ نیوز ایجنسی خدا ذلیل و خوار کرے ان ملعونوں کو جنہوں نے کابل کی معصوم بچیوں کو خون میں نہلادیا، کوئی خنّاس صفت درندوں سے پوچھے کہ ان عفیفاوں کی خطا کیا تھی،اس دنیا میں کوئی ہے جو ان وحشی اور خونخوار درندوں سے سوال کرے کہ ان معصوم بچیوں کو کس جرم میں خوں میں غلطاں کیا گیا ہے یہ تو افغانستان کا مستقبل سنور نے والی تھیں، خدا اور محمد عربی ص پر جانیں نچھاور کرنے والی تھیں ان بے خطاوں کو کس جرم میں لہولہان کردیا گیا ہے۔ آل سعود کے جیرہ خوارو اور ان کا فضلہ چاٹ کھانے والو! یاد رکھو ابھی صرف ایک سلیمانی دنیا سے رخصت ہونے ہیں پوری ملت زندہ ہے۔ تمہاری گردن کتنی ہی کُلُفت اور موٹی ہی کیوں نہ ہو، ہمارے ان چھوٹے ہاتھوں ہی تمہاری شہ رگ کٹ جائے گی۔  

ملت اسلام کے وہ ٹھیکیدار اس وقت کہاں مر مٹ گئے ہیں جو امت وحدہ پر مگرمچھ کے آنسو بہاتے رہتے ہیں کیا ان کے منھ میں  زباں نہیں ہے یا سانپ سونگھ بیٹھے ہیں۔
امت مسلمہ پر معمولی آنچ آنے پر ملت تشیع بہ یک صدا سڑکوں پر اتر آتی ہے صدائے احتجاج بلند کرتی ہے لیکن ہم پر ظلم و تعدّی ہو تو لشکر ابلیس کی طرح چار دیواری کے اندر بیٹھے تماشا دیکھتے ہیں۔

اگر ایسا دلدوز اور خونین حادثہ یورپ کے کسی دور افتادہ گاؤں دیہات میں پیش آیا ہوتا تو دنیا بھر میں نہیں معلوم کتنے دن تک سوگ منایا جاتا تمام ممالک کے پرچم کئی کئی دنوں کے لیے خم کئے جاتے بلکہ سرنگوں کئے جاتے، روسا اور وزرائے مملکت فرداً فرداً تعزیت نامے ارسال کرتے۔۔۔۔ لیکن یہ تو ایک مخصوص طبقہ کی نونہال تھیں ان کا تو خدا، رسول اور آل رسول ص کے سوا کوئی سہارا نہیں ہے، لیکن یاد رکھیں یہ خدا کے پیاروں اور بے گناہوں خون ہے جو آج نہیں تو کل ضرور سر چڑکے بولے گا اور وحشی درندوں سے اپنا حساب چکتاں کرے گا۔

ہم اس وحشیانہ تشدد کی پر زور مذمت کرتے ہوئے افغان حکومت سے خنزیر صفت قاتلوں کو پکڑ کر کیفرکردار تک پہچانے کی پر زور درخواست کرتے ہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
6 + 8 =