۲۴ خرداد ۱۴۰۳ |۶ ذیحجهٔ ۱۴۴۵ | Jun 13, 2024
امام خمینی کی 32برسی

حوزہ/ امام راحل آیت اللہ العظمی سید روح اللہ خمینی رحمتہ اللہ علیہ کی بتیسویں برسی کے موقع پر مجلس علمائے ہند کی جانب سے ویبنار کا انعقاد عمل میں آیا جس میں سفیر ایران در ہند آقائی ڈاکٹر علی چگینی کے ساتھ دیگر علماء اور دانشوروں نے شرکت کی۔ یہ ویبنار " انقلاب امام خمینی کے تہذیبی و سیاسی اثرات" کے موضوع پر انعقاد پذیر ہوا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لکھنؤ/ امام راحل آیت اللہ العظمی سید روح اللہ خمینی رحمتہ اللہ علیہ کی بتیسویں برسی کے موقع پر مجلس علمائے ہند کی جانب سے ویبنار کا انعقاد عمل میں آیا جس میں سفیر ایران در ہند آقائی ڈاکٹر علی چگینی کے ساتھ دیگر علماء اور دانشوروں نے شرکت کی۔ یہ ویبنار " انقلاب امام خمینی کے تہذیبی و سیاسی اثرات" کے موضوع پر انعقاد پذیر ہوا۔

مہمان خصوصی سفیر ایران در ہندآقائی ڈاکٹر علی چگینی نے افتتاحی تقریر کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینی مختلف الجہت شخصیت کےمالک تھے۔ وہ بیک وقت مرجع تقلید،مفسر ،خطیب،عالم، فقیہ، ماہرکلام وحدیث، عظیم عارف اور بلند پایہ شاعر تھے۔ساتھ ہی عظیم انقلاب کے بانی اور میدان سیاست کے ماہر شہسوار تھے ۔ انکی ذات صبر،حلم، انکسار،علم ،اخلاق،تواضع اورمجاہدت کا پیکر تھی۔اتنی خصوصیات بیک وقت کسی ایک شخصیت میں جمع نہیں ہوتی ہیں مگر امام خمینی کی ذات والا صفات مختلف اور متضاد صفات کی حامل تھی۔ انکی شخصیت قرآنی ایات کی آئینہ دار تھی۔ یعنی بہت سہل بھی تھے اور مشکل بھی۔انکی شخصیت سہل ممتنع تھی اور فلسفے کی طرح پچیدہ بھی۔انہوں نے امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور طاغوت کےخلاف دعوت مقاومت و مزاحمت دی۔ وہ ایک مقبول لیڈر اور انقلابی شخصیت کے مالک تھے۔ وہ کسی سپر پاور سے نہیں ڈرے کیونکہ انکے پاس سپر پاور آئیڈیالوجی تھی جس کو شکست نہیں دی جاسکتی ۔

مولانا حسنین باقری نے انقلاب امام خمینی کے اثرات و نتائج پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینی نے کمزوروں کے ذریعہ اور کمزوروں کے لئیے انقلاب برپا کیا ۔ آج ہم اس انقلاب کے اثرات پوری دنیا میں دیکھ رہے ہیں۔ آج ہمارا فرض ہے کہ اس انقلاب کی یاد کو تازہ رکھیں اور استعماری طاقتوں کے خلاف مظلوموں کی حمایت میں آواز احتجاج بلند کرتے رہیں ۔ خاص طور پر ظالم اسرائیل ، امریکہ اور انکے حلیف ممالک کے ظلم و دہشت گردی کے خلاف متحدہوں اور لوگوں کو بیدار کریں۔امام خمینی کا مقصد حق کی حمایت اور باطل طاقتوں کے خلاف مقاومت اور مزاحمت کرناتھا ہمیں بھی انکے نقش قدم پر چلتے ہوئے حق کی حمایت اور باطل استعماری طاقتوں کے خلاف جذبہ مزاحمت اور بغاوت پیدا کرناہوگا۔

آندھرا پردیش علما بورڈ کے صدر اور قاضی مولانا عباس باقری نے اپنی تقریر میں کہاکہ امام خمینی نے ہر حال میں خدا پر توکل کا مظاہرہ کیا اور جو ذات خدا پر توکل کرتا ہے اللہ اسے ہر محاذ پر کامیابی عطا کرتا ہے۔ وہ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا کام اپنی ذمہ داری اور وظیفے پر عمل کرنا ہے نتیجہ اللہ کے سپرد کردینا چاہئیے ۔اسی عقیدے کے تحت انہوں نے پوری زندگی بسر کی اور آمرانہ نظام کے خلاف انقلاب برپا کیا۔ انہوں نے کہا کہ امام خمینی کے سیاسی افکارو نظریات نے پوری دنیا کو متاثر کیا ہے۔

مولانا میر اظہر علی عابدی نے اپنی تقریر میں امام خمینی کے افکارو نظریات کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینی نے فقط ایران میں موجود ڈھائی ہزار سالہ ظالمانہ اور آمرانہ نظام کے خلاف مزاحمت نہیں کی بلکہ دنیا میں جہاں بھی ظلم و بربریت موجود تھی انہوں نے اسکے خلاف بھی آواز بلند کی۔ انہوں نے سب سے پہلے منظم طور پر پوری توانائی کے ساتھ مسئلہ فلسطین کو دنیا کے سامنے اٹھایا اور عالمی سطح پر فلسطینی مظلوموں کی حمایت کی۔وہ مخصوصن تمام مسلمانوں اور باالعموم تمام عالم انسانیت کو استکباری طاقتوں اورظالمانہ نظام کے خلاف مشترکہ محاذ آرائی کی دعوت دیا کرتے تھے۔ یہی انکا سیاسی موقف تھا جس پرآج تک ایران امام خامنہ ای مد ظلہ کی رہبریت میں عمل پیرا ہے۔

خواجہ معین الدین چشتی یونیورسٹی کےسابق وائس چانسلر پروفیسر ماہ رخ مرزا نے انقلاب اسلامی کے لئے امام خمینی کی جدوجہد اور ان کے سیاسی و سماجی نظریات پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا جب ظلم و بربریت نے اپنی حدود پار کیں اور ایرانی عوام کے حقوق یکسر سلب کر لئیے گئے اس وقت امام خمینی نے ظلم کے خلاف مزاحمت کی اور مظلوموں کی آواز بن کر کھڑے ہوئے۔جس وقت ایرانی عوام کے حقوق کے فیصلے بھی امریکی عدالتوں کے سپرد کر دیے گئے تھے اس وقت عوام میں بیداری پیدا کرنا اور انقلاب و مزاحمت کا صور پھونکنا اسان نہیں تھا۔ انہوں نے ہند و ایران روابط کی اہمیت پر بھی اظہار خیال کیا.

مجلس علمائے ہندکے نائب صدر مولانا سید محمد علی محسن تقوی نے کہا کہ عالمی سطح پر امام خمینی کی افاقی شخصیت ایسا مقام رکھتی ہے جس سے دنیا نے بہت کچھ سیکھا ہے اور اگے بھی بہت کچھ سیکھ سکتی ہے۔انہوں نے نئی فکر اور تازہ عزم و حوصلے کے ساتھ امت مسلمہ کو باطل طاقتوں کے خلاف کھڑا ہونے کا سلیقہ عطا کیا اور مستضعفین کی توانا آواز بنکر سامنے ائے۔یہ واحد انقلاب ہے جس نے پوری دنیا پر اثرات مرتب کئے اور برقی طور پر اسلامی دنیا میں تہذیبی و سیاسی تبدیلیاں رونما ہوئیں اور آج بھی دنیا اس انقلاب کی فکری گرمی کو محسوس کررہی ہے۔

مجلس علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا سید کلب جواد نقوی نے اپنی اختتامی اور صدارتی تقریر میں امام خمینی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینی نے ڈھائی ہزار سالہ شہنشاہیت کو شکست دیکر اسلامی نظام کو رواج دیا جسے مظلومین و مستضعفین کے انقلاب سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ انقلاب کے وقت دو بڑی طاقتیں موجود تھیں جن سے وابستگی کے بغیر خود کو تسلیم کروانا اور کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں تھا مگر امام خمینی نے لا شرقیہ لا غربیہ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے روس اور امریکہ جیسی بڑی طاقتوں سے اظہار برأت کیا اور صرف اللہ کی ذات پر توکل کیا جس کے نتیجہ میں انقلاب ایران کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ مولانا نے کہا کہ پوری دنیا پر اس انقلاب کے اثرات مرتب ہوئے اور آج بھی دنیا انقلاب امام خمینی کے اثر سے آزاد نہیں ہوسکی ہے۔مولانا نے تقریر کے اختتام پر مہمان خصوصی سفیر ایران ڈاکٹر علی چگینی اور دوسرے مہمانو ں کا شکریہ ادا کیا۔

ویبنارکے کنوینر عادل فراز نقوی نے پروگرام کے آغاز میں ویبنار کے انعقاد کا مقصد بیان کرتے ہوئے امام خمینی کے سیاسی نظریات پر گفتگو کی ۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب کی کامیابی کے بعد اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استکباری اور استعماری طاقتوں نے جس طرح مختلف مسخ شدہ نظریات کی یلغار کی اس سے انقلاب امام خمینی کی عظمت اور اسکی تاثیر کا اندازہ ہوتا ہے۔  انہوں نےواضح کیا کہ کس طرح استعماری طاقتیں آج نظام ولایت فقیہ سے شکست کھارہی ہیں اور انقلاب اسلامی کا دشمن ہر محاذ پر ذلت آمیز شکست سے دوچار ہے۔

ویبنار کا اغاز تلاوت قرآن مجید سے قاری سیدمرتضیٰ حسین نے کیا۔ نظامت کے فرائض مولانا فیض عباس مشہدی نے انجام دیئے۔ دوران نظامت انہوں نے امام خمینی کے انقلابی نظریات پر بھی روشنی ڈالی ۔ایران میں مقیم پاکستان کےمعروف شاعرجناب احمد شہریار نے امام خمینی کی شان میں منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیاجسے سامعین نے بہت سراہا۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .