۲ آبان ۱۴۰۰ |۱۷ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 24, 2021
طالبان کی نئی حکومت پر ایران کا مؤقف؛ نمائندہ ولی فقیہ ہندوستان کی خصوصی گفتگو

حوزہ/ طالبان کی نئی حکومت پر ایران کے مؤقف کے سلسلہ میں حجۃ الاسلام والمسلمین مہدی مہدوی پور نے ولایت ٹی وی کو انٹرویو دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، طالبان کی نئی حکومت کے خطے پر اثرات اور ایران کے اس حکومت سے روابط کے سلسلہ میں ولایت ٹی وی کی طرف سے ہندوستان میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے نمائندہ حجۃ الاسلام والمسلمین مہدی مہدوی پور سے انٹرویو لیا گیا ہے۔ جسے (خلاصۃً) قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:

ولایت ٹی وی: جب سے افغانستان میں طالبان برسراقتدار آئے ہیں دنیا بھر اور خاص کر ہمارے ملک کے مومنین کے اذہان میں یہ سوال ہے کہ طالبانی حکومت آنے کے بعد طالبانی حکومت کے ایران کے ساتھ تعلقات کیسے ہوں گے؟

اس سلسلہ میں ہم نے اپنے بہت ہی محترم اور معزز مہمان رہبر معظم انقلاب اسلامی سید علی خامنہ ای مد ظلہ العالی کے نمائندہ حجۃ الاسلام والمسلمین مہدی مہدوی پور کو اسٹوڈیو میں دعوت دی اور انہوں نے اپنی تمام مصروفیات کے باوجود ہماری دعوت کو قبول کیا۔ ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

سلام علیکم

آپ کا بہت شکریہ کہ تشریف لائے اور اپنا قیمتی وقت مرحمت فرمایا۔ مومنین کے اذہان میں کئی سوالات ہیں اس سلسلہ میں سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ:

طالبان پھر سے برسراقتدار آ گئے ہیں اور ان کی حکومت قائم ہو گئی ہے آپ کی نظر میں ان کے ساتھ کیسا تعلق ہونا چاہئے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم، جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ طالبانی گروہ کا وجود تقریبا 1993 یا ۹۴ میں عمل میں آیا۔جنہوں نے سلفی انتہاپسندانہ فکر کے ساتھ اس سلسلہ کی شروعات کیں۔ طالبان نے افغانستان میں 1996ء سے 2001ء تک حکومت کرنے میں کامیابی بھی حاصل کر لی لیکن اسی کے ساتھ انہوں نے اسلام کے نام سے اس کی بہت ہی خراب تصویر دنیا والوں کے سامنے پیش کی۔ انہوں نے اسلام کو کرخت و شدت پسند چہرہ کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ افغانستان کے لئے پانچ سال کا وہ دور بہت تاریک دور مانا جاتا ہے۔ افغانی عوام کی اکثریت اس دور کو الم و مصائب اور تاریکی کا دور کہتی ہے۔ اس دور میں افغان حکومت کو بین الاقوامی پیمانے پر رسمیت نہیں دی گئی بلکہ صرف متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور پاکستان نے ہی رسمیت اور سرکاری حیثیت دی تھی۔ اس موقع پر طالبانی حکم و پیمان کے سبب اس ملک کی سبھی خواتین کو اجتماع اور دفاتر میں کام کرنے سے محروم کر دیا گیا اور انہوں نے اس زمانہ میں یہاں تک کہ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ و سیٹلائیٹ وغیرہ پر جو کہ ثقافت کے اجاگر کرنے کا ذریعہ ہیں اور جن سے سبھی مذاہب و تمدن کو فائدہ اٹھانا چاہئے اپنے سلفی افکار کی بنیاد پر قدغن لگا دیا تھا۔ انہوں نے اس وقت بہت ہی کرخت اور متشدد حکومت کی داغ بیل ڈالی اور ستمبر کی 11 تاریخ کو جب 2001ء میں واقعہ رونما ہوا امریکہ نے القاعدہ کے سربراہوں اور سرغنہ لوگوں کو پکڑنے کے بہانے افغانستان پر قبضہ جما لیا۔ جس کے نتیجہ میں طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ اس طرح 20 برسوں تک افغانستان امریکیوں کا اڈہ اور مرکز بنا رہا اور 20 برس بعد امریکہ اس قدر زیادہ دولت خرچ کرنے اور کوئی فائدہ حاصل نہ کرنے کے باعث اس کے نتیجہ پر پہنچا کہ اسے بحالت مجبوری افغانستان سے نکلنا ہی پڑا۔ کیونکہ اس دور میں دو لاکھ 40 ہزار سے زیادہ افغانستان کے غیر فوجی عوام کو اپنی جان گنوانی پڑی۔ امریکہ دہشت گروہوں کو ختم کرنے کے لئے جتنے بھی فضائی حملے اور بمباریاں کیا کرتا تھا اس میں تقریبا 90فیصد حملوں اور بمباری میں غیرفوجی نشانہ بنا کرتے تھے۔ عزاداری، مجالس و محافل اور شادی وغیرہ کے پروگرام ان حملوں کی زد میں آیا کرتے تھے۔ اس سلسلہ میں معتبر اور مسند رپورٹیں بھی موجود ہیں۔

آیا امریکیوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے عوام کا خون بہایا ہے؟

جی! خود انہوں نے بھی اس بات کا اعتراف و اقرار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں یہ بات بھی مانی ہے کہ اس 20 برس کے عرصہ میں ان کے 2400 فوجی مارے گئے ہیں اور اس بابت ایک ٹریلین ڈالر خرچ ہو گئے ہیں۔ لیکن اس سے ان کو کچھ حاصل نہیں ہو سکا بلکہ آئے دن طالبان کی گولہ باری اور خودکش کاروائیوں، دھماکوں اور حملوں میں اضافہ ہوتا گیا اور قابلِ ذکر ہے کہ ان طالبانی کاروائیوں کے دوران غیرفوجیوں کی ایک بڑی تعداد ماری جاتی رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود افغانستان کے اندر طالبان کے سلسلہ میں عوامی مقبولیت دس فیصد یا پندرہ فیصد سے زیادہ نہیں ہے اور یہ ان کے پانچ سالہ دورِ حکومت نیز امریکیوں کی 20 سالہ موجودگی کے سبب ہے اگرچہ امریکی فوجیوں کی موجودگی سے افغانستان کے عوام ان کے بے شمار سے بہت زیادہ نالاں تھے اس کے باوجود وہ طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے خواہاں نہیں تھے۔ طالبان اپنے عقیدہ کے ان نظریات کی بنیاد پر جمہوریت اور انتخابات کے بھی قائل نہیں ہیں۔ پچھلی حکومت میں ان کے انتخابات میں شمولیت کے لئے بہت کوششیں بھی کی گئیں کہ یہ لوگ آئیں اور الیکشن میں حصہ لے کر حکومت میں شمولیت اختیار کریں لیکن چونکہ یہ انتخابات کے قائل نہیں تھے اس لئے وہ الیکشن کا بائیکاٹ کیا کرتے تھے اس لئے تیار نہیں ہوئے۔ اور آج جبکہ یہ برسرِ اقتدار آئے ہیں تو یہ تصور  کیا جاتا ہے کہ طالبان کا چہرہ مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ اس سلسلہ میں ہمارا جواب یہ ہے کہ طالبان کی فکری آئیڈیالوجی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ہاں! روش اور حکمت عملی میں ضرور تبدیلیاں آئی ہیں کیونکہ انہیں پتا ہے کہ اگر 20برس پہلے والی حکمت عملی اختیار کی تو یقینا انہیں بین الاقوامی طور پر رسمیت حاصل نہیں ہو پائے گی۔ انہیں نہ تو اقوامِ متحدہ رسمیت دے گا اور نہ ہی دیگر تنظیمیں قبول کریں گی۔ انہیں جواز حاصل کرنے کے لئے اپنی حکمتِ عملی اور روش کو بدلنا ہی ہو گا۔لیکن ان کا بنیادی طرزِ فکر اپنی جگہ پر برقرار ہے اور حالیہ حالات میں آپ آگاہ ہیں کہ طالبان نے فوجی طاقت کے بل بوتے پر افغانستان کی باگ ڈور میں کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ امریکہ نے پاکستان اور طالبان سے معاہدہ کرنے کے بعد طالبان کو حکومت و اقتدار سونپا ہے۔ ان کے درمیان باہمی معاہدہ عمل میں آ چکا تھا۔

اس سلسلہ میں پاکستان کا کردار کس قدر نمایاں ہے؟

وسیلہ اور واسطہ کے عنوان سے پاکستان کا کردار بہت ہی کلیدی اور بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکیوں کو جب یہ یقین ہو گیا کہ وہ افغانستان میں اپنی موجودگی کو اب جاری نہیں رکھ سکتے ہیں تو وہ اس فراق میں لگ گئے کہ یہاں پر کچھ ایسی انتہا پسند حکومت وجود میں آئے کہ جس کی وجہ سے اس علاقہ میں ایران و روس اور چین وغیرہ میں بدامنی اور انتشار پھیل جائے۔ امریکی لوگ اس علاقہ میں بدامنی وجود میں لانے کے خواہاں ہیں۔ جیسا کہ مشاہدہ کیا جا رہا ہے کہ حال حاضر میں عراق میں بدامنی ہے، شام بدامنی کا ماحول ہے، لیبیا اور یمن میں بھی اسی طرح کی صورتحال ہے۔امریکیوں کا مقصد یہ ہے کہ ایک انتہاپسند حکومت وجود میں آئے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اربوں ڈالر کے اسلحہ اور گولہ بارود طالبان کے اختیار میں دے دیئے جب کہ سارا ساز وسامان اور ہتھیار یہ لوگ وہاں سے نکال کر لے جا چکے تھے اور افغانستان سے امریکہ کے انخلاء سے قبل دیگر مختلف ذرائع نے پڑوسی ممالک منجملہ ہندوستان کے ذریعہ بہت زیادہ لابنگ کی گئی کہ افغانستان سے اس وقت امریکی انخلاء انجام نہ پائے۔ جب تک یہ اطمینان حاصل نہ ہو جائے کہ طالبان برسراقتدار نہیں آئیں گے حالانکہ خود انہوں نے اسی وقت اس بات کا اعتراف کیا کہ ہمارے جانے کے ایک ہفتہ یا ایک مہینہ کے اندر طالبان کا افغانستان پر تسلط ہو جائے گا۔

یہ ایسا خفیہ معاہدہ تھا جو انہوں نے قطر میں انجام دیا تھا اور ایسی زمین ہموار کی تھی کہ یہ لوگ برسر اقتدار آ جائیں اور جب طالبان آگئے تو انہوں نے طالبان کے خلاف سخت موقف اختیار نہیں کیا اور خود انہوں نے اعتراف کیا کہ ہمارے اسلحہ جات طالبان کے اختیار اور قبضے میں ہیں۔ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس طرح سے ایک انتہا پسند حکومت دوبارہ برسر اقتدار لانے میں کامیاب ہوگئی۔

اب جبکہ حکومت پر دوبارہ طالبان کا قبضہ ہوگیا ہے تو اس بابت ایران کا کیا موقف ہے؟

جیسا کہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ شروع سے ہی ایران طالبان کی آئیڈیالوجی کے مخالف رہا ہے یہی وجہ تھی کہ بیس برس پہلے بھی طالبان کی حکومت کو سرکاری حیثیت نہیں دی تھی کیونکہ ایران جس آئیڈیالوجی کا پیرو ہے اس میں اور طالبان کی آئیڈیالوجی میں بنیادی فرق پایا جاتا ہے۔ ایران کی حکومت اور طالبان کے مابین جو مذاکرات انجام پائے اس کی بنیاد پر یہ تھا کہ افغانستان میں باہمی موافقت اور اتحاد و اتفاق پر مبنی متحدہ حکومت وجود میں آئے گی۔

 ایران کی کوشش یہ تھی اور یہ کوشش کامیاب بھی ہو سکتی تھی لیکن افسوس کہ امریکیوں نے اپنے انجام شدہ معاہدہ کی وجہ سے اشرف غنی کو وہاں سے نکل جانے پر مجبور کر دیا اور طالبان برسراقتدار آ گئے حالانکہ بین الاقوامی کوششوں کا مقصد اور ماحصل یہ تھا کہ ایک معتدل اور متحدہ حکومت برسراقتدار آ جائے کہ جس میں افغانستان کے مختلف قبائل اور قوموں کے لوگ شامل ہوں۔

دوسری بات یہ ہے کہ اب جبکہ طالبان کو اقتدار حاصل ہو گیا ہے جیسا کہ ایرانی اہلکاروں نے اعلان کیا ہے کہ ایران نے طالبان سے یہ ضمانت لی ہے کہ ایرانی سرحدوں پر ان کی جانب سے جارحیت انجام نہیں پائے گی اور افغانستان کی سرزمین سے ایران کی سرزمین پر حملے نہیں ہوں گے اور  پڑوسیوں کے درمیان اتفاق کی فضا قائم رہے گی تو اس بنیاد پر اصولی طور پر ابھی ایران طالبان سے فوجی مقابلے کے بارے میں نہیں سوچتا۔ کسی بھی طرح ایسی صورتحال نہیں ہے بلکہ ابھی بھی ایران کی یہ کوشش ہے کہ طالبان ایک ہمہ جانبہ مشترک اور متحدہ حکومت کی تشکیل کے لئے تیار ہو جائیں جو متفق علیہ اور ہندوستان اور دوسرے پڑوسی ملکوں کے ساتھ اس سلسلے میں یہ کوشش جاری ہے کہ طالبان پر دباؤ ڈالا جائے تاکہ وہاں پر مختلف گروہوں اور قبائل کی متحدہ حکومت قائم ہو سکے۔

انقلاب اسلامی کوبدنام کرنے کے لیے میڈیا طالبان اور اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کو ایک جیسا ثابت کرنے پر تلا ہے۔ ان دونوں حکومتوں کے درمیان فکری لحاظ سے کیا فرق ہے؟

جیسا کہ میں نے اس سے پہلے بھی عرض کیا حال ہے کہ  آئیڈیالوجی کے لحاظ سے ایران کی حکومت میں اور طالبان کی حکومت میں بنیادی فرق پایا جاتا ہے۔ ایران کے نظام میں جمہوریت کو مانا گیا ہے اور ایران کے بنیادی آئین میں انتخابات اور لوگوں کی رائے کو حکومت کی تشکیل میں بنیادی عنصر قرار دیا گیا ہے لہذا ایران میں صدر جمہوریہ کے انتخاب کے لیے براہ راست طور پر لوگوں کے ووٹ حاصل کرکے ان کے استصواب سے صدر جمہوریہ کا انتخاب عمل میں آتا ہے۔ اسی طرح مجلس اور پارلیمنٹ کے ممبران لوگوں کے ووٹ کے ذریعہ منتخب کیے جاتے ہیں۔ شہری اور دیہی کونسلوں کا انتخاب لوگوں کی براہ راست ووٹنگ کے ذریعہ عمل میں آتا ہے اور ماہرین کی قیادتی کونسل بھی لوگوں کے استصواب رائے سے تشکیل پاتی ہے۔ پھر اس کے بعد قائد کا انتخاب اسی کونسل کے اراکین کرتے ہیں۔

لیکن اس طرف افغانستان میں دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد طالبان نے جو وعدے کئے تھے ان پر عمل نہیں کیا اور متحدہ قومی حکومت نہیں بنائی گئی۔ حکومتی کیبنٹ میں بھی ایسے افراد نظر آرہے ہیں جن کا شدت پسندانہ ماضی رہا ہے۔ افغانستان میں رونما ہونے والا حالیہ واقعہ کے سلسلے میں دو اہم باتیں پائی جاتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ افسوس کی بات ہے کہ جب طالبان نے افغانستان پر اقتدار حاصل کیا تب اس نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ ہمہ جانبہ حکومت کے خواہاں ہیں لیکن اس وعدے کے برخلاف جب پوری کابینہ کی تشکیل کی تو اس میں تشدد پیشہ اور جرائم پر مبنی ریکارڈ رکھنے والے افراد جیسے کہ حقانی گروپ کے مجرمانہ اور دہشت گردانہ رجحان اور ریکارڈ رکھنے والے لوگوں کی فہرست سامنے آئی جو کہ بہت بڑا خطرہ ہے۔ خاص کر ایسی حالت میں کہ کابل کی سیکیورٹی اور اس کا تحفظ ان لوگوں کے اختیار میں دے دیا گیا ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ اس بابت امریکیوں نے بڑی نرمی دکھائی اور کڑا موقف اختیار کرنے سے گریز کیا۔

خود امریکی افغانستان سے نکل گئے جبکہ انہیں یقین تھا کہ ان کے بعد طالبان کا قبضہ ہو جائے گا۔ ظاہر ہے کہ اس سلسلے میں انہوں نے معاہدہ کر رکھا تھا کیونکہ اگر معاہدہ نہیں ہوتا تو یہ لوگ اپنے انخلاء کو التوا میں بھی ڈال سکتے تھے اور اس وقت وہاں سے نکلتے جب یہ یقین ہو جاتا کہ طالبان کمزور پڑ گیا ہے۔دوسری طرف امریکیوں کے دور میں بھی طالبان کو طاقتور ہونے کا موقع ملا۔ اس نے ٹریننگ زیادہ لیں، زیادہ تجربہ حاصل کیا اور آج بھی طالبان امریکی ہتھیاروں کے ذریعہ اور ان کے بل بوتے پر استقامتی محاذ اور دیگر طاقتوں سے پیکار میں سرگرم ہیں اور اس سے رہبر معظم کی بات کی اور بھی تقویت ہو جاتی ہے کہ امریکہ پر ہرگز اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ امریکہ نے دنیا کے جس خطے میں بھی آباد کاری یا دہشت گردی سے مقابلے کے عنوان اور بہانے سے قدم رکھا وہاں اس نے بالکل اس کے برخلاف عمل کیا۔

امریکی فوج نے افغانستان سے انخلاء کے وقت اپنے جدید ترین اسلحہ بھی چھوڑ دیا تا کہ وہ طالبان کے ہاتھ لگ جائے۔ یہ سب منصوبہ بند طریقے سے انجام پایا یعنی اشرف غنی کے جاتے ہی افغانی گروہ کابل کے مرکز پر پوری طرح تسلط حاصل کر چکا تھا اور یہ ایسا متفقہ معاہدہ تھا جو پوشیدہ طور پر انجام پایا تھا۔ افسوس کے ساتھ یہ بات کہنے پڑتی ہے کہ اس علاقے کے لئے انہوں نے منحوس منصوبہ بندی کر رکھی ہے اور ان پر بھروسا کر کے سوائے اس کے کہ نقصان اٹھانا پڑے اور کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
7 + 11 =