۱۸ آذر ۱۴۰۱ |۱۵ جمادی‌الاول ۱۴۴۴ | Dec 9, 2022
علامہ راجہ ناصر جعفری

حوزہ/ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ملک میں فرقہ وارنہ اور لسانی فسادات کا فروغ عالم استکبار کے مذموم عزائم کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ہمیں طاغوتی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،اسلام آباد/ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے شوریٰ ِمرکزی کے اراکین کے ہمراہ ایم ڈبلیو ایم سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک تاریخ کے بدترین دوراہے پر کھڑا ہے۔حکومت کی غیر دانشمندانہ پالیسیوں کے باعث وطن عزیزمعاشی مسائل کا گڑھ بن چکا ہے۔ مقتدر طبقات کی نالائقی، نااہلی اور اختیارات کی کھینچاتانی ریاست کو کمزور کرتی جا رہی ہے۔داعش ،القاعدہ اور دیگر عالمی دہشت گرد تنظیمیں ملک میں بدامنی پھیلانے کے لیے ہمارے دروازے پر تیار کھڑی ہیں۔ایسی سنگین صورتحال کو نظرانداز کرنا کسی ناقابل تلافی نقصان کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہ کہا پاکستان کے جغرافیائی خدوخال ہر لحاظ سے اہم ہیں۔طاقت کے توازن کی ایشیا کی جانب منتقلی میں پاکستان کا کردار مرکزی گزرگاہ کی مانند ہے۔چین کی اقتصادی پیش رفت میں رخنہ ڈالنے کے لیے امریکہ اور اس کے حواری ارض پاک کو غیر مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں۔ ملک میں فرقہ وارنہ اور لسانی فسادات کا فروغ عالم استکبار کے مذموم عزائم کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ہمیں طاغوتی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے یکجا ہونے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بحرانوں کی ذمہ دار وہ حکومتیں ہیں جنہوں نے اپنی داخلہ و خارجہ پالیسی کو خودمختار بنانے کی بجائے غیروں کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھا۔مالی اداروں میں ایسے اقتصادی ماہرین کو ذمہ داریاں سونپی گئیں جن کے مفادات وطن عزیز کی بجائے غیر ملکی اداروں سے وابستہ تھے۔حکومتی سطح پر اہم فیصلوں میں غیر ضروری تاخیر اورخامیوں نے ملک کو مسائل کی آماجگاہ بنا کر رکھ دیا۔ملک کے متوسط طبقے کی آمدن و اخراجات میں عدم مطابقت کرپشن میں اضافے کا باعث بنی۔افغانستان کی موجودہ صورتحال بھی پاکستان پر براہ راست اثر انداز ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملت تشیع کے جبری گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے کراچی میں ہونے والے خواتین کے احتجاج پر پولیس کا لاٹھی چارج اور گرفتاریاں قابل مذمت ہیں۔ کئی کئی سالوں سے لاپتا افراد کے اہل خانہ جس اضطراب اور غم کی کیفیت میں ہیں ریاست نے اس کے اظہار کو بھی جرم سمجھنا شروع کر دیا ہے۔حکومت شیعہ قوم کو لاوارث نہ سمجھے۔ ایک طرف ایک کالعدم جماعت سے حکومت مذاکرات بھی کر رہی ہے اور قومی سلامتی کے منافی امور پر کھلم کھلا معافی بھی دے رہی ہے جب کہ دوسری طرف ان شیعہ افراد کے لیے آواز اٹھانے والے پرامن طبقے پر تشدد کیا جا رہا ہے جنہوں نے ملک و قوم کی سلامتی کو ہمیشہ مقدم رکھا۔ اس طرح کے اقدامات سے یوں لگتا ہے جیسے ریاستی ادارے لوگوں کو شدت پسندی اور طاقت کے استعمال کی طر ف راغب کرنا چاہتے ہیں۔عوام کو دانستہ مشتعل کرنے کی اس کوشش کے پس پردہ مقاصد کو حکومت کو کھوج لگانا ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں عزاداروں کے خلاف مقدمات کا اندراج انتقامی کارروائی ہے۔ عزاداری ہماری عبادت ہے ہمیں اس سے روکا نہیں جا سکتا۔ اس طرح کے غیر منصفانہ اقدامات سے حکومت اپنے لیے نئے مسائل کھڑے کرے گی۔انہوں نے کہا کہ یکساں نصاب تعلیم مسلکی نصاب کے فروغ کی کوشش ہے۔ پاکستان کسی مخصوص مسلک کی جاگیر نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کی باہمی جدوجہد کا نتیجہ ہے یہاں پر مسلکی نصاب کو نافذ کرنا ایک نیا پینڈورا باکس کھولنے کے مترادف ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی غیر آئینی اقدام مادر وطن کے لیے زہر قاتل ثابت ہو گا۔ہم ہر حال میں آئین کی بالادستی چاہتے ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
6 + 6 =