۵ تیر ۱۴۰۱ |۲۶ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 26, 2022
سید محمد مجتبیٰ علی رضوی

دنیا کا هر انسان اپنی ضروریات کی فراهمی کے لئے همیشه کوشاں رهتا هے ان میں سے زیاده تر لوگ تو ایسے هیں که صرف اپنی جسمانی ضروریات کی فراهمی کے لئے هی کوشاں رهتے هیں اور ایسے بهت هی کم لوگ نظر آئیں گے که جو جسمانی ضرورتوں سے آگے بڑھ کر اپنی روحانی اور اخلاقی و معنوی ضروریات کی طرف بھی متوجه هوں۔

حوزہ نیوز ایجنسی؍

تحریر: حجۃ الاسلام سید محمد مجتبیٰ علی رضوی

حضرت امام جعفر ابن محمد الصادق علیه السلام کی یوم شهادت (١٥ شوال ) کی مناسبت سے آپ کی ایک حدیث مختصر وضاحت کے ساتھ قارئین کرام کے لئے پیش خدمت هے تا که امام کی حدیث سے کچھ سبق سیکھ کر اپنے لئے مشعل راه بنا سکیں۔ قابل ذکر هے که قرآن کریم کے بعد ائمه معصومین کی احادیث همارے لئے سر چشمه هدایت منبع فیض هے ۔لهٰذاهمارے لئے اس کی جانکاری حاصل کرنااور اس کی پیروی کرنا ضروری هے ۔

خداوندعالم هم سب کو خداوند عالم کی سچی بندگی اور اهل بیت علیهم السلام کی صحیح اور مکمل پیروی کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔

کامیابی کے راز حضرت امام جعفر صادق علیه السلام کے بیانا ت کی روشنی میں

دنیا کا هر انسان اپنی ضروریات کی فراهمی کے لئے همیشه کوشاں رهتا هے ان میں سے زیاده تر لوگ تو ایسے هیں که صرف اپنی جسمانی ضروریات کی فراهمی کے لئے هی کوشاں رهتے هیں اور ایسے بهت هی کم لوگ نظر آئیں گے که جو جسمانی ضرورتوں سے آگے بڑھ کر اپنی روحانی اور اخلاقی و معنوی ضروریات کی طرف بھی متوجه هوں ۔ جب که جسمانی ضرورتوں کے ساتھ روحانی ضرورتوں کی فراهمی بھی ضروری هے اور ان کے حصول کا راسته اور سلقیه همیں دین سے اور دیندار لوگوں سے ملتا هے۔ همارے پاس تو رسول و آل رسول موجود هیں که جن سے همیں دین بھی ملتا هے اور اس پر چلنے کا سلیقه و طریقه بھی ملتا هے ، آل رسولۖ سے هی هم نے خدا کی عبادت کا طریقه اور اس سے گفتگو کا سلقیه سیکھا هے،الله رب العزت کی عبادت کا شعور اور اس کی اطاعت کا سلیقه بھی هم نے رسول و آل رسول سے سیکھا هے اور سماج و معاشره میں رهنے کا مناسب اور دینی طرز زندگی بھی ان هی کا تعلیم کرده هے۔

ان هی حضرات سے سبق لیتے هوئے هم نے زندگی اور تاریخ کے تمام نشیب و فراز میں کامیابی حاصل کر کے اپنے وجود کو باقی رکھا هے، آج بھی رسول اور آل رسول هی همارے لئے سب کچھ هیں، ان سے وابستگی هماری نجات کی ضامن اور رضائے الٰهی کے حصول کا ذریعه هے چنانچه اس مختصر تحریر میں هم صادق آل محمدۖ حضرت امام جعفر صادق علیه السلام کی بیان فرموده احادیث میں سے ایک طولانی حدیث کو پیش کرنے کا شرف حاصل کر رهے هیں جس میں آپ نے ایک کامیاب زندگی گذارنے کے ٢٥ راز بتائے هیں جو اس طرح هیں:

١۔جنت کا حصول

جنت کے حصول کی تمنا هو تو اس کے لئے سخاوت کو اپنا ئو کیونکه جب تم لوگوں پر سخاوت کرنے لگو گے تو رب کریم بھی تم پر رحم و کرم کرے گا۔''طَلَبْتُ الْجَنَّةَ فَوَجَدْتُها فِی السَّخَاء'' میں نے جنت کو تلاش کیا تو اسے سخاوت اور بخشش میں پایا۔

٢۔صحت و سلامتی

انسان کے لئے سب سے اهم چیز اس کی صحت و سلامتی هے جس کے لئے امام فرما تے هیں ''وطَلَبْتُ الْعَافِیَةَ فَوَجَدْتُها فِی الْعَزْلَةِ ''میں نیتندرستی اور سلامتی کو تلاش کیا تو اسے گوشه نشینی اور خاموشی میں پایا ۔ بلاوجه اور بیکارکی باتوں میں انسان کو نهیں کودنا چا هیئے بلکه ضرورت کی حد تک هی اکتفا کرنا چا هیئے۔

٣۔نامه ٔاعمال کی گرانی

اپنے نامهٔ اعمال کو وزنی کرنے کے لئے خداوندعالم کی وحدانیت کی اور پیغمبر اکرم ۖ کی رسالت کی گواهی ضروری هے وَطَلَبْتُ ثِقْلَاً لِمِیْزَانٍ، فَوَجَدْتُها فِیْ شَهادَةِ اَنْ لَا اِلَه اِلاَّ اَللّٰه وَ مُحَمَّد رَسُولُ اللّٰه''؛ میں نے اپنے میزان اعمال کو وزنی کرنا چا ها تا اس کی سنگینی مجھے خدا کی وحدانیت کی گواهی اور پیغمبر اکرم ۖ کی رسالت کے اقرار میں ملی۔

٤۔جنت کا راستہ

جنت میں جلدی جا نے کے راسته کے بارے میں اس طرح فرما تے هیںوَطَلَبْتُ اَلسُّرْعَةَ فِی الْدُخُولِ اِلَی الْجَنَّةِ، فَوَجَدْتُها فِی الْعَمَلِ لِلّٰه تَعَالَیٰ؛میں نے جنت میں جلدی لے جا نے والے اعمال کو تلاش کیا تو وه مجھے خداوندعالم کے لئے خالصانه عمل انجام دینے میں ملے۔

٥۔موت سے دوستی کا هنر

هر انسان موت سے دور بھاگتا هے لیکن امام نے موت سے دوستی کی بات کهی اور اس کا طریقه بھی اس طرح بیان فرمایا :وَطَلَبْتُ حُبَّ الْمَوْتِ، فَوَجَدْتُه فِی تَقْدِیْمِ الْمَالِ لِوَجْه اللّٰه؛ میں نے موت سے محبت کرنے کا ذریعه تلا ش کیا تو وه مجھے راه خدا میں انفاق کرنے میں ملا۔

٦۔عبادت کی لذت

جب تک کسی چیزمیں مزه نه آئے اس میں دل نهیں لگتا هے اسی طرح عبادت میں بھی جب تک مٹھا س نه هو اس میں مزه نهیں آتا هے اور مزه آنے کے لئے همیں اس کو شیریں بنانا هو گا اس کا راسته یه هے که هم گناهوں سے بچیں اور اس سے دوری اختیار کریں لهٰذاامام فرما تے هیں :''وطَلَبْتُ حَلاَوَةَ الْعِبَادَةِ، فَوَجَدْتُها فِی تَرْکِ الْمَعْصِیَةِ؛میں نے عبادت کو شیریںبنا نے کے طریقه ٔ کار کو تلاش کیا تو وه مجھے ترک گناه و معصیت میںملا۔

٧۔نرم دلی و مهربانی

دلوں کا سخت هوجانا انسان کے لئے بهت بڑی آفت هے اس سے سنگ دلی هو جا تی هے جو انسان اور انسانیت کے لئے جان لیوا هے اسی لئے انسان کو اپنے دل کو نرم رکھنا ضروری هے اور دل کو نرم رکھنے کا ذریعه امام کے قول کے مطابق بھوک اور پیاس میں هے۔ لهٰذا آپ فرماتے هیں وَطَلَبْتُ رِقَّةَ الْقَلْبِ،فَوَجَدْتُها فِی الْجُوْعِ وَ الْعَطَشِ؛میں نے رقت قلب( دل کی نرمی) کوتلاش کیا تو وه مجھے بھوک و پیاس میں ملی۔

٨۔نورانیت قلب

دل کا منور هونا نهایت ضروری هے هر انسان کو اسے منور کرنے کے لئے سعی و کوشش کرتے رهنا چا هیئے، اما م نے اسے نورانی کرنے کے لئے یه راسته بتایا هے که انسان کو همیشه دین خدا میںغورو فکر اور یاد خدا میں گریه کرتے رهنا چا هیئے: ''وَطَلَبْتُ نُوْرَالْقَلْبِ، فَوَجَدْتُه فِی التَّفَکُّرِ وَ الْبُکَائِ''میں نے دل کو منورکر نے کے ذرائع کوتلاش کیا تو ان کو (دین میں ) غور و فکر اور (یادخدا میں) گریه میں پایا۔

٩۔پل صراط سے گزر

پل صراط سے صحیح سلامت گزرنا هر انسان کا دیرینه خواب هے اور هر ایک کی یهی کو شش رهتی هے که وه ایسے اعمال انجام دے که جن کے سهارے پل صراط سے آسانی کے ساتھ گزر سکے ۔ لهٰذا امام صا دق نے بھی اس سے سلامتی کے ساتھ گزرنے کا راسته بتایا هے ۔ آپ فرما تے هیں : وَطَلَبْتُ الْجَوَازَ عَلٰی اَلصِّرَاطِ، فَوَجَدْتُه فِی الصَّدَقَةِ؛ میں نے پل صراط سے آسانی سے گزرنے کے راستوں کو تلاش کیا تو وه مجھے صدقه دینے میں ملے۔

١٠۔اعمال کا اثر

انسان کے اعمال و افعال کا اثر جهاں اس کی روح پر هو تا هے وهیں چهرے پر بھی اعمال کے اثرات هو تے هیں لهٰذا اچھے اعمال کا اچھا اثر اور برے اعمال کا برا اثر انسان پرپڑتا هے، امام صادق بھی اسی بات کی طرف اشاره فرماتے هوئے بیان فرما رهے هیں که کس طرح انسان اپنے چهره کو نورانی کر سکتا هے ،اور اس نسخه کو بھی بیان فرما رهے هیں که اگر انسان واجبات کی ادائیگی کے بعد نماز شب کا بھی پابند هو جا ئے تو یه نماز جهاں اس کا باطن منور کر دیتی هے وهیں اس کے چهره کو بھی نورانی کر دیتی هے ۔آپ فرما تے هیں : و َطَلَبْتُ نُوْرَ الْوَجْه، فَوَجَدْتُه فِی صَلاةِاللَّیْلِ'' میں نے چهرے کے نورانی هو نے کے وسائل کو تلاش کیا تو وه مجھے نماز شب میں ملے۔

١١۔جهاد کی فضیلت

جهاد ایک بڑی فضیلت هے لیکن هر کسی کو یه فضیلت میسّر نهیں هوتی هے اوراس کے لئے بھی بهت سے شرائط هیں دوسری طرف اکثر دیندار لوگ اس کے متمنی بھی هو تے هیں ،اس کے باوجود بھی اس کا موقع نهیں مل پاتا هے ، آپ نے ایک ایسا نسخه بیان فرما دیا هے که جس کے ذریعه هر انسان اس سعادت کو حاصل کر سکتا هے ۔ آپ فرماتے هیں ''وَطَلَبْتُ فَضْلَ الْجِهادِ، فَوَجَدْتُه فِی الْکَسْبِ لِلْعَیَالِ'' میں نے جهاد کی فضیلت اور اس کا ثواب حاصل کرنا چاها تو وه مجھے اپنے اهل و عیال کے لئے کسب معاش میں ملا۔

١٢۔خدا سے محبت

خدا سے محبت کرنا هر مسلمان کی کوشش هو تی هے اور خدا اپنے بندے سے محبت کرے یه هر مسلمان کا ارمان هو تا هے۔ امام اسی کی طرف اشاره فرماتے هوئے ایک معیار بیان فرما تے هیں که جب تک هم خدا کے نافرمانوں اوراس کا گناه کرنے والوں سے اظهار بیزاری نهیں کریں گے تب تک خدا هم سے محبت نهیں کرے گا ، کیونکه جب هم اس کے مخالفوں سے قریب هوں گے تو ظاهر هے که الله سے دور هو تے جا ئیں گے لهٰذا خدا کی قربت کے اگر خواهاں هیں تو اس کی مخالفت کرنے والوں سے دور هو جا ئیں۔ امام فرماتے هیں :''وَ طَلَبْتُ حُبَّ اللّٰه عَزَّوَجَلَّ، فَوَجَدْتُه فِی بَغْضِ اهل َالَمَعَاصِیْ؛ میں نے ان وسیلوں کو تلاش کیا که جن کی وجه سے خدا مجھ سے محبت کرے تو وه مجھے گناه گاروں سے دشمنی اور ان کی مخالفت میں ملے۔

١٣۔بزرگی و رهبری

کوئی بھی انسان هو هر ایک کو خواهش هو تی هے که وه بڑا بن کر رهے اس کی سرداری رهے وه لیڈر کی حیثیت سے پهچانا جا ئے،اس کے لئے انسان اپنی اپنی طبعیت اور مزاج کے اعتبار سے سرداری حاصل کرنے کے راستوں کو اپنا نے کی کوشش کرتا هے نتیجه میں کوئی صحیح راستے کا انتخاب کر لیتا هے تو کو ئی غلط راستے پر لگ جاتا هے ، جس کو صحیح راسته کا پته معلوم هوجاتا هے اور وه اگر اس پر چل پڑے تو خود به خود غلط راستے سے دور هو جاتاهے لیکن جن کو صحیح راسته نهیں ملتا یا جو صحیح راسته کی تلاش نهیں کرتے هیں وه همیشه غلطیوں کے مرتکب هو جا تے هیں، امام اس موضوع کی طرف اشاره کرتے هو ئے فرما تے هیں که جس کو بھی سرداری کا اراده هو وه خدا کے بندوں کی خدمت اور ان کی خیر خواهی میں مصروف هو جا ئے تو خود به خود سرداری اس کے پاس آجا ئے گی۔وَ طَلَبْتُ الرِّئَاسَةَ، فَوَجَدْتُها فِی النَّصِیْحَةِ لِعِبَادِاللّٰهمیں نے بزرگی اور سرداری حاصل کرنے کی راهوں کو تلاش کیا تو وه مجھے خدا کے بندوں کی خیر خواهی اور انهیں نصیحت کرنے میں ملی۔

١٤۔سکون قلب کا ذریعه

سکون قلب کا ذریعه:هر انسان سکون قلب اور دلی اطمینان کا متلاشی رهتا هے اور سکون قلب کے حصول کے لئے هر طرح کی کوشش کرلیتا هے لیکن کچھ کو میسر هو تو هے اور کچھ کو نهیں اس لئے که یه سکون قلب کسی دکان یا بازار میں تودستیاب نهیں هے اس کے لئے معنوی راستوں اور راهوں کی ضرورت هے جو صرف دین کے پاس هے ان میں بھی صحیح راسته صرف اسلام کے دامن میں هے همیں سکون قلب کی آسان راهیں بتاتا هے معارف اسلامی میں سکون قلب کی جو راهیں بیان هو ئی هیں وه یه هیں که سکون قلب اسی کو میسر هے جو مال دنیا کو جمع نه کرے اس کا ذخیره نه کرے بلکه سکون قلب اسی کو حاصل هو تا هے جوصرف بقدر ضرورت مال پر هی اکتفاء کرے لهٰذا حضرت امام صادق علیه السلام فرماتے هیں:وَطَلَبْتُ فِرَاغَ الْقَلْبِ، فَوَجَدْتُه فِی قِلَّةِ الْمَالِ؛میں نے دل کے سکون کی راهیں تلاش کیںتو وه مجھے مال و ثروت کی کمی میں نظر آئیں۔

١٥۔صبر عظیم زاد راه

هر سفر کے لئے زاد راه کا هونا ضروری هے اسی طرح بڑے اور عظیم کاموں کو انجام دینے کے لئے جس دولت کا هونا ضروری هے وه صبر هے جو انسان کو نه صرف بڑے کاموں کو انجام دینے میں مددگار هے بلکه انسان کی همت کبھی بھی ٹوٹنے نهیں دیتا هے امام اسی طاقت کا تعارف کروارهے هیں که بڑے کاموں کی انجام دهی صبر کی طاقت کے بغیر ممکن نهیں هے ،چنانچه آپ فرماتے هیں وَطَلَبْتُ عَزَائِمَ الْاُمُوْرِ، فَوَجَدْتُها فِی الصَّبْرِ'' میں نے بڑے اور عظیم کارناموں کے انجام دینے کی راهوں کو تلاش کیا تو وه مجھے صبر میں نظر آئیں۔

١٦۔بلندی و شرف

هر انسان بلندی حاصل کرنا چاهتاهے با شرف بننے کا خواهاں رهتا هے اور اس کو حاصل کرنے کے لئے هر اس راستے کا انتخاب کرتا هے جسے وه اس مقصد تک رسائی کے لئے ضروری سمجھتا هے کبھی اس کا انتخاب صحیح بھی هوجاتا هے اور کبھی غلط، امام صادق علیه السلام نے ایسے راسته کو اس مقصد کے حصول کے لئے منتخب کیا هے که جو هر معرکه میں انسان کی مدد کرے گا لهٰذا آپ فرماتے هیں که جو بھی شرف اور بلندی ٔدرجات کا متمنی هے اسے چاهیئے که وه علم حاصل کرے کیونکه علم شرف اور بلندی عطا کرتا هے آپ فرما تے هیں :وَطَلَبْتُ الشَّرَفَ، فَوَجَدْتُه فِی الْعِلْمِ'' میں نے شرف اور بلندی کو تلاش کیا تو وه مجھے علم میں ملی۔

١٧۔ نامهٔ اعمال کی اصلاح

جو لوگ دیندار هیں وه هر وقت اپنا نامهٔ اعمال سدھارنے میں مصروف رهتے هیں، نمازیں پڑھتے هیں روزے رکھتے هیں اور نیک کام انجام دیتے هیں لیکن صرف اتنا هی کافی نهیں هے حضرت امام صادق علیه السلام عبادت کا ایک آسان اور مکمل نسخه بیان فرما رهے هیں ،آپ کے فرمان کے مطابق ورع اور پرهیز گاری سے رهنا بھی عبادت هے، یه ایسی عبادت هے جومسلسل جا ری هے ۔ آپ فرماتے هیں: وَطَلَبْتُ الْعِبَادَةَ فَوَجَدْتُها فِی الْوَرْعِ''میں نے عبادت کو تلاش کیا تو وه مجھے پرهیزگاری( گناهوں سے بچنے) میں ملی۔

١٨۔سکون و آرام

اس دنیا میں جیسے جیسے زمانه ترقی کر رها هے دلوں کا سکون ختم هوتا جا رها هے ،هر انسان سکون کی تلاش میں سر گرداں هے لیکن کهیں بھی سکون میسر نهیں هو رها هے امام سکون حاصل کرنے کا راسته بیان فرما رهے هیں: که اگر سکون حاصل کرنا هے تو ''زهد'' کا راسته اپنائو، زهد کا مطلب هی یهی هے که دنیا سے بے نیاز هوجانا ،اپنی آرزوئیں اور تمنائوں کو کم کرنا اور جو الله نے دیا هے اسی میں خوش رهنا جب انسان اس کو اپنائے گا تو خود بخود سکون قلب آتاجائے گا۔لهٰذا ارشاد هو رها هے ''وَطَلَبْتُ الرَّاحَةِ، فَوَجَدْتُها فِی الزُّهدِ'' میں نے سکون و آرام کو تلاش کیاتو وه مجھے زهد میں ملا۔

١٩۔بزرگواری کا راسته

لوگ غرور و تکبر میں برتری کو تلاش کرتے هیں اور بڑے هوجانے کو بلندی اور بزرگواری سمجھتے هیں لیکن امام نے فرمایا که تواضع اور انکساری سے انسان بڑا هوتاهے ، انسان لوگوں سے جتنا تواضع رکھے گا اتنا هی وه لوگوں میں محبوب هوگا نتیجه میں اس کو بزرگی ملے گی۔امام فرماتے هیں :''وَطَلَبْتُ الرِّفْعَةَ، فَوَجَدْتُها فِی التَّوَاضُع''میں نیبرتری و بزرگواری کو تلاش کیا تو وه مجھے تواضع و انکساری میں ملی۔

٢٠۔صداقت و سچائی

صداقت اور سچائی ایک ایسی نعمت هے که جسے هر انسان پسند کرتا هے بھلے هی وه خود بھی کتنا هی بڑا جھوٹا کیوں نه هو لیکن سچائی کو پسند کرتا هے امام صادق اسی سلسله میںفرماتے هیں که اگر انسان معاشره اور سماج میں عزت حاصل کرنا چاهتا هے تو اسے زبان کا سچا هونا چا هیئے۔ سچے انسان کا خود بخود اعتبار هوتا جا تا هے اور اسی بنا پر معاشره میں اس کی عزت بڑھتی چلی جا تی هے لهٰذاامام فرماتے هیں :''وَطَلَبْتُ الْعِزَّ، فَوَجَدْتُه فِی الصِّدْق''عزت کو تلاش کیا تو وه مجھے صداقت و سچائی میں ملی۔

٢١۔خاکساری

هر عبادت کا کوئی نه کوئی اثر ضرور هوتا اسی طرح سے روزه رکھنے کا بھی بهت سا فائده هے جن مین سے ایک یه هے که انسان نرم دل اور خاکسار هوتا هے نرمی اور خاکساری کے لئے انسان کو روزه رکھنا چا هیئے ،امام فرماتے هیں :''وَطَلَبْتُ الذِّلَّةِ، فَوَجَدْتُها فِی الصُّومِ'' میں نینرمی وخاکساری کو تلاش کیا تو وه مجھے روزه رکھنے میں ملی

٢٢۔قناعت کے فائدے

هر انسان اپنی ضرورت اور ضروری اخراجات کو پورا کرنے کے لئے اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے کچھ نه کچھ ضرور کماتا هے لیکن اکثر لوگوں کو یه شکایت رهتی هے که ان کی ضروریات پھر بھی نهیں پوری هو تی هے لهٰذاوه اسی میں الجھے رهتے هیں اور همیشه دوسروں سے امید لگائے رهتے هیں لیکن امام نے فرمایا که اگر تمهیں لوگوں سے بے نیاز رهنا هے تو قناعت کا سهارا لو قناعت سے انسان کی ضرورتیں محدود رهتی هیں اور اس طرح وه دوسروں سے بے نیاز هو جاتا هے :'' وَطَلَبْتُ الْغِنَی، فَوَجَدْتُه فِی الْقَنَاعَة'' میں نے بے نیازی کو تلاش کیا تو بے نیازی مجھے قناعت میں ملی

٢٣۔قرآن سے انسیت

محبت کے بغیر انسان کا زندگی گزارنا ممکن هی نهیں هے لیکن دنیاوی محبت نه هی پائدار هے اور نه هی اس میں حقیقی سکون هے بلکه اگر حقیقی محبت اور دلی سکون چاهیئے تو انسان کو قرآن کی تلاوت کرناچاهیئے جیسے جیسے تلاوت بڑھے گی قرآن سے انسیت و محبت بڑھتی جا ئے گی۔امام فرماتے هیں که انس و محبت قرآن کی تلاوت میں هے :''وَ طَلَبْتُ الْاِنْسَ، فَوَجَدْتُه فِی قَرَائَةِ الْقُرْآنِ'' میں نے انسیت و محبت کو تلاش کیا تو وه مجھے قرآن کریم کی تلاوت میں ملی۔

٢٤۔هر دل عزیز هونا

معاشره میں هر کو ئی هر دل عزیز نهیں هو تا هے بلکه عزت اسے هی ملتی هے جولوگوں سے اچھے اخلاق سے ملتا هے ، ایسے لوگوںسے هر کوئی ملناچا هتا هے ان سے باتیں کرنا چا هتاهے ، امام فرما تے هیں : وَطَلَبْتُ صُحْبَةَ النَّاسِ، فَوَجَدْتُها فِی حُسْنِ الْخُلْقِ''میں نے لوگوں میں هر دل عزیز بننے اور ان سے باتیں کرنے کا راسته تلاش کیا تو وه مجھے لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آنے میں ملا۔

٢٥۔حصول رضائے الٰهی

ان تمام چیزوں میں سب سے اهم خدا کی خوشنودی اور اس کی رضا کا حاصل هو نا هے ، امام صادق علیه السلام اس کا راسته یه بتا تے هیںکه والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، دنیا و آخرت کی نعمت بھی والدین کی رضا میں مضمر هے ،خدا ایسے انسان سے راضی نهیں هو تا هے که جو والدین کے ساتھ بد سلوکی کرے، والدین کے ساتھ نیکی کرنے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے هی خدا راضی هو تاهے لهٰذا امام فرماتے هیں وَطَلَبْتُ رِضَی اللّٰه، فَوَجَدْتُه فِی بِرِّ الْوَالِدَیْنِ؛اور خدا وند عالم کی رضا اور اس کی خوشنودی مجھے والدین کے ساتھ نیکی اور ان کے ساتھ حسن سلوک میں ملی۔

منبع: مستدرک الوسائل، ج ١٢، ص١٧٤۔١٧٣، ح١٣٨١٠

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 9 =