۵ تیر ۱۴۰۱ |۲۶ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 26, 2022
ماموستا مصطفی شیرزادی

حوزہ /دشمنوں کی طرف سے سلفی اور تکفیری روش اور سوچ کو فروغ دینا اور اس کی حمایت کرنا آج اسلامی دنیا کے سب سے خطرناک مسائل میں سے ایک ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق، مولوی مصطفی شیرزادی نے کردستان میں سنی دینی مدارس کے اساتذہ اور طلباء کے ایک گروہ کے ساتھ ملاقات میں کہا: مغربی ممالک اور کچھ علاقائی ممالک کے حمایت یافتہ عالم اسلام میں انحرافی اور عقیدتی فکر پر مشتمل بعض دھڑے مسلمانوں کے درمیان اختلافات ایجاد کرنے جیسے طویل المدت مذموم اہداف کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا: دشمن کی یہ کوششیں کئی مخصوص اہداف کے ساتھ انجام پاتی ہیں جس میں سب سے پہلا اور سب سے اہم مقصد خطے میں جعلی اسرائیلی حکومت کے ستونوں کو مضبوط کرنا ہے۔

اس سنی عالم دین نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ مسلمان ممالک اور امت مسلمہ کے اتحاد کو کمزور کرنا استکبار کا دوسرا مذموم منصوبہ ہے، کہا: مسلمانوں کا اتحاد استکباری مغربی ممالک کے لیے ایک بہت بڑا ڈراؤنا خواب ہے۔گویا کہ ان کی نظر میں اتحاد اسلامی کا مطلب ہے "اسلامی ممالک پر ان کے تسلط کے دور کا خاتمہ"۔

انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ آج اسلامی معاشرہ میں فکری لحاظ سے بعض منحرف دھارے ناقابل محسوس طریقہ پر بڑھ رہے ہیں، کہا: متحارب ممالک سے وابستہ بعض دھارے فریب خوردہ اندرونی اور بیرونی عناصر کو خفیہ طور پر استعمال کر کے اسلامی قوموں بالخصوص ہمارے ملک میں ایک کثیر الجہتی ماحول پیدا کر رہے ہیں۔

شہر مریوان کے امام جمعہ نے کہا: سنی شیعہ اتحاد عالم اسلام کی حقیقی طاقت اور مقام کو ظاہر کرتا ہے اور دوسری طرف یہ اتحاد اور ہم آہنگی استکبار کے ہاتھوں کو مسلمانوں کی دولت لوٹنے سے کاٹ دے گی۔ اس لیے اس سے لڑنے کی کوشش کی جا رہی ہیں۔ لہذا ہمیں ان منحرف دھاروں سے مقابلہ کے لئے اپنی بصیرت اور آگاہی میں اضافہ کرنا چاہیے۔

آخر میں انہوں نے شیعہ اور سنی مدارس کو تقویت دینے پر تاکید کرتے ہوئے کہا: اسلامی دنیا میں فکری پیداوار کے ان اہم مراکز کو تقویت دینا ہی دینی اور نظریاتی جہت میں مسلمانوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت دے سکتا ہے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
7 + 5 =