۱۳ آذر ۱۴۰۱ |۱۰ جمادی‌الاول ۱۴۴۴ | Dec 4, 2022
پروفیسر اختر الواسع

حوزہ/ وزیر اعظم کسی مخصوص مذہب یا برادری کا نمائندہ نہیں ہوتا۔ وہ سارے ملک کا وزیراعظم ہوتا ہے۔ اسے منہ کھولنا چاہئے اور کسی بھی فرقہ کے خلاف اہانت آمیز ریمارکس کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،نئی دہلی/ پیغمبر اسلام ؐ کے خلاف بی جے پی کے معطل قائدین نپور شرما اور نوین کمار جندل کے اہانت آمیز ریمارکس پر کئی ریاستوں میں حالیہ تشدد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی) کے پروفیسر اخترالواسع نے چہارشنبہ کے دن وزیراعظم نریندر مودی سے خواہش کی کہ وہ اس معاملہ میں اپنی خاموشی توڑیں۔

دہلی یونیورسٹی میں اسلامیات کے اعزازی پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ مودی جی کو بولنا چاہئے تاکہ لوگوں کی حوصلہ شکنی ہو اور وہ فرقہ وارانہ سرگرمیوں میں مزید ملوث نہ ہوں۔ انہوں نے وزیراعظم سے خواہش کی کہ وہ موجودہ صورتِ حال کے مدنظر مسلم فرقہ کے مختلف فریقوں کے ساتھ ”گفتگو“ کریں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کسی مخصوص مذہب یا برادری کا نمائندہ نہیں ہوتا۔ وہ سارے ملک کا وزیراعظم ہوتا ہے۔ اسے منہ کھولنا چاہئے اور کسی بھی فرقہ کے خلاف اہانت آمیزریمارکس کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے۔

وزیراعظم کو اس سلسلہ میں کھلا مکتوب روانہ کرچکے پروفیسر نے کہا کہ تشدد چاہے کسی بھی شکل میں ہو کسی بھی طرف سے ہو‘ ملک کے مفاد میں نہیں ہوتا۔ یہ ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ہندوستانی ہونے کے ناطہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک بدنام نہ ہو۔ اسی کے ساتھ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری مذہبی اکثیریت کا احترام ہو۔ کسی بھی مذہب‘اس کے علماء اور مقدس کتابوں کی کسی بھی طرح کوئی بے حرمتی نہ ہو۔

پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ میں وزیراعظم سے خواہش کرتا ہوں کہ وہ مسلمانوں کو مثبت اور گفتگو کے لئے بلائیں تاکہ مسلمان اپنا دکھڑا بیان کرسکیں۔ اس گفتگو کے ذریعہ وزیراعظم ہندوستان کو پرامن بقائے باہم‘ داخلی استحکام اور تعمیر و ترقی کی نئی بلندیوں پر لے جاسکتے ہیں۔

اختلافات ختم ہوجانے چاہئیں۔ پروفیسرنے کہا کہ اس گفتگو کے لئے وزیراعظم مسلم ارکان پارلیمنٹ‘ تمام مسلم تنظیموں کے رہنماؤں‘ مسلم دانشروں‘ سیول سوسائٹی کے ممتاز افراد اور ممتاز مسلم صحافیوں کو مدعو کرسکتے ہیں۔ یہ وہ پہل ہوگی جو بہتر مستقبل کے لئے بہتر امکانات پیدا کرے گی۔

نپور شرما اور نوین کمار جندل کے خلاف کارروائی پر پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ ہم اس کی تائید کرتے ہیں تاہم نپور او رنوین کے ریمارکس کی مخالفت کرنے والوں کو سلاخوں کے پیچھے نہیں ڈالنا چاہئے۔ کھلے مکتوب میں پروفیسر نے لکھا کہ ہم اس صورتِ حال سے خوش نہیں ہیں۔

ہندوستانی ہونے کے ناطہ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک بدنام نہ ہو۔ اسی کے ساتھ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہماری مذہبی تکثیریت کا احترام ہو۔ کسی بھی مذہب‘اس کے علماء اور مقدس کتابوں کی کسی بھی طرح کوئی بے حرمتی نہ ہو۔

پروفیسر اخترالواسع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ شہروں کے ناموں کی تبدیلی‘ تاریخ بدلنے کی کوشش اور حجاب کے نام پر مسلم لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کرنے سے مسلم فرقہ میں بے چینی و ناراضگی پیدا ہورہی ہے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 1 =