۱۵ مهر ۱۴۰۱ |۱۱ ربیع‌الاول ۱۴۴۴ | Oct 7, 2022
امریکہ

حوزہ/غیر سفید فام شہریوں کے حقوق کی تنظیم نیشنل ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف کلرڈ پیپل کے صدر ڈیرِک جانسن نے جیلینڈ کی ہلاکت کو 'کھلا قتل' قرار دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،امریکی ریاست اوہایو کے شہر ایکرن میں پولیس نے ایک سیاہ فام شخص کے تعاقب کی ویڈیو جاری کر دی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پیچھا کرنے والے اہلکاروں نے انھیں 60 گولیاں ماریں۔

پولیس کا خیال ہے کہ 25 برس کے جیلینڈ واکر نے 27 جون کو رات کے وقت پہلے پولیس اہلکاروں پر گولی چلائی تھی جس کے بعد پولیس نے اپنے دفاع میں انھیں گولیاں ماریں۔

جیلینڈ جس وقت اپنی کار سے نکل کر بھاگے تو وہ غیر مسلح تھے مگر پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان کی کار سے ایک پستول برآمد کیا ہے۔

شہر میں مظاہروں کے بعد ایکرن کے میئر ڈینیئل ہاریگن نے لوگوں سے پر امن رہنے کی اپیل کی ہے۔

اتوار کو اس واقعہ کی ویڈیو جاری ہونے کے بعد انھوں نے کہا کہ 'ویڈیو بہت تکلیف دہ ہے، اسے دیکھنا بہت مشکل ہے۔'

اوہایو کے اٹارنی جنرل ڈیو یوسٹ نے اوہایو بیورو آف کریمینل اِنویسٹی گیشن سے 'مکمل، شفاف اور ماہرانہ تحقیقات' کروانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایکرن پولیس الگ سے اس بات کی تفتیش کر رہی کہ کہیں اہکاروں نے ڈیپارٹمنٹ کے ضابطوں یا پالیسیوں کی خلاف ورزی تو نہیں کی ہے۔

اس واقعہ میں ملوث آٹھ اہلکاروں کو، جن میں سے سات سفید فام اور ایک سیاہ فام ہے، تنخواہ کے ساتھ چھٹی پر بھیج دیا گیا ہے۔

جیلینڈ کی فیملی کے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ پولیس ان کے زمین پر گرنے کے بعد بھی ان پر گولیاں چلاتی رہی۔

غیر سفید فام شہریوں کے حقوق کی تنظیم نیشنل ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف کلرڈ پیپل کے صدر ڈیرِک جانسن نے جیلینڈ کی ہلاکت کو 'کھلا قتل' قرار دیا ہے۔

اوہایو کے شہر ایکرن میں پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے سیاہ فام شخص کی ہلاکت کے خلاف اتوار کو شہریوں نے احتجاج کیا

پیر، 27 جون کو رات کے ساڑھے بارہ بجے پولیس نے معمول کی چیکنگ کے دوران جیلینڈ واکر کی کار کو رکنے کا اشارہ کیا۔

پولیس کی وردی پر نصب کیمروں میں ایک شخص کار سے نکلنے کے بعد کار پارک کی طرف بھاگ رہا ہے، پولیس نے 10 سکینڈ تک تعاقب کرنے کے بعد اس پر فائر کھول دیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک اہلکار نے ان پر قابو پانے کے لیے پہلے سٹن گن استعمال کی مگر اس کا فائدہ نہیں ہوا۔

کار سے ملنے والی پستول کے ساتھ لوڈ میگزین بھی تھی اور قریب ہی ایک چلا ہوا کارتوس بھی پڑا تھا۔

ویڈیو ریلیز ہونے کے بعد لوگوں نے شہر میں پر امن مظاہرہ کیا۔

اہل خانہ کے وکیل کا کہنا ہے کہ پولیس نے زمین پر پڑے ہوئے جیلینڈ کو پہلے فرسٹ ایڈ فراہم کرنے کی بجائے ہتھکڑی لگائی۔

اہل خانہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'غصہ ٹھیک ہے۔ مگر تشدد ٹھیک نہیں ہے۔ جیلینڈ کی زندگی کا وقار قائم رکھتے ہوئے ہم پر امن طور پر ان کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔'

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
8 + 6 =