۲۴ تیر ۱۴۰۳ |۷ محرم ۱۴۴۶ | Jul 14, 2024
مولانا فدا حسین ساجدی 

حوزہ/ غدیر انسان کی معاشرتی زندگی میں الہی دستورات کو عملی جامہ پہنانے کا دن ہے۔ اور انسان سے پوری تاریخ میں ڈایے گئے ظلم و جور، فسق و فجور کے خاتمہ کا عملی ثبوت ہے۔نیز غدیر میں اعلان ولایت سے ہی انسان کی ہر طرح کی سعادت اور سرخ روئی کی  ضمانت ملتی ہے۔

تحریر: مولانا فدا حسین ساجدی

حوزہ نیوز ایجنسی । انسانی تاریخ پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں نے اپنی فردی زندگی میں اللہ کی مرضی کی تحت چلنے کی کوشش کی ہے۔ اور کافی حد تک کامیاب بھی ہوا ہے۔ لیکن معاشرتی اور سماجی زندگی میں اس کی مقدار نہ ہونے کے برابر ہے۔کیونکہ انسانوں کی سماجی اور سوشل لائف میں اللہ کے قانون نافذ کرنے کے لئے، اللہ کی طرف سے منتخب نمایندہ کا حاکم کا ہونا ضروری ہے۔ جو اللہ کی طرف سے انسانوں کی اجتماعی زندگی میں حکم الہی کو نافذ کرنے کےلئے تعیین کی جائے اور مکمّل قوانین الہی پر علم رکھتا ہو اور اس کو نافذ کرنے کی جرات اور شجاعت کا حامل ہو۔ ویسی تو اللہ نے انسانوں کی ہدایت کے لئے مختلف ادوار میں انبیا اور ان کے جانشینوں کا اہتمام کیا ہے۔لیکن انسانوں نے فردی زندگی میں ہدایت الہی سے فیضیاب ہونے کی کوشش کی جبکہ اجتماعی اور سیاسی زندگی میں ہدایت الہی سے فیضیاب ہونے کے لئے نمایندہ الہی کی حاکمیت ضروری ہے جس لئے عوام کی مقبولیت ضروری ہے اس کے بغیر امکان نہیں ہے کیونکہ اجتماعی زندگی میں الہی قانون کو نافذ کرنے کے لئے عوامی طاقت کا ہونا ضروری ہے اور عوامی طاقت کا مطلب لوگ اللہ کی طرف سے منتخت شخص کو اپنے حاکم کے طور پر قبول کریں ۔اگر چہ اکثر لوگ اپنی کی معاشرتی ضرورتوں کو پوری کرنے اور عدل و انصاف کے حصول کی خاطر الہی نمایندہ کو حاکم کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔

لیکن دنیا طلب، ظالم حکمرانوں کی وجہ سے یہ کام عملی نہ ہو سکا اور پوری تاریخ میں ظالم حکمران، عوام کو تہدید اور تطمیع کے ذریعے الہی نمائندوں سے دور رکھا گیا اور ان کو عوامی طاقت اور مقبولیت سے محروم رکھنے کی خاطر ہر ممکن کوشش کی گئی اور اس حوالے سے کوئی کسر نہیں چھوڑی جس کی نمایاں مثال سقیفہ کے خداؤں کا سیاہ کارنامہ ہے۔ اسی وجہ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کی معاشرتی زندگی سے مربوط قوانین اور دستورات مادی اور غیر الہی ہے۔
جس کے نتیجے میں اس دور کی عظیم ترقی، انسان کو انسان بنانے کی جگہ درندہ حیوان اور ایک مشین کی صورت دے دی ہے کہ انسان کی زندگی اور تک دو کا ہدف صرف پیسہ کمانا ہوتا ہے اور تمام اقدار اور انسانی اصول اس کے پاس کسی اہمیت کا حامل نہیں رہے۔دنیا میں موجود تنزل اخلاقی، قتل و غارت ، ثقافتی بے بندو باری، فساد اور الہی دستورات دوری کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان کی اجتماعی اور سیاسی پہلو الہی نمایندہ کی سرپرستی سے محروم رہا ہے۔

ان تمام امور کو مد نظر رکھتے ہوئے غدیر اور اعلان ولایت کی اہمیت اور قدر و قیمت واضح ہوجاتی ہے۔ غدیر انسانوں کے لئے اللہ کی طرف سے ایک عظیم تحفہ ہے۔ غدیر انسان کی معاشرتی زندگی میں الہی دستورات کو عملی جامہ پہنانے کا دن ہے۔ غدیر؛ انسان سے پوری تاریخ میں ڈایے گئے ظلم و جور، فسق و فجور کے خاتمہ کا عملی ثبوت ہے۔ غدیر میں اعلان ولایت سے ہی انسان کی ہر طرح کی سعادت اور سرخ روئی کی ضمانت ملتی ہے۔

اللہ تعالی نے غدیر خم میں امیر المومنین علیہ السلام کی ولایت کا حکم دے کر انسان کو امید دلائی ہے کہ اب سے انسان عدالت کا مزہ چکے گا اور انصاف کا بول بالا ہوگا۔
مستضعفین کی بالا دستی ہوگی۔ ظالم و جابر افراد کی من مانیوں کا خاتمہ ہوگا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .