۱۲ آذر ۱۴۰۱ |۹ جمادی‌الاول ۱۴۴۴ | Dec 3, 2022
احکام

حوزہ؍١) کوئی حرج نہیں ہے اور آپ طے شدہ جرمانے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔2) اگر ادھار کے لین دین میں، ادائیگی کا وقت مقرر کرنے کے علاوہ آپ نے یہ شرط رکھی ہے کہ کوئی تاخیر نہیں ہونی چاہیے تو آپ معاملہ منسوخ ﴿فسخ﴾ کر سکتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسیl

سوال: میں نے اپنا مکان ادھار میں بیچا ہے اور معاہدہ میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ خریدار کو قیمت کی ادائیگی میں تاخیر کے ہر دن کے لیے معاملے کی رقم کے ایک فیصد کے برابر جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

1۔ کیا یہ تاخیر کا جرمانہ (شرط التزام) صحیح اور حلال ہے اور کیا مجھے جرمانے کا مطالبہ کرنے کا حق ہے؟
2۔ خریدار نے رقم کی ادائیگی میں کئی ماہ کی تاخیر کی ہے اور جرمانہ بھی ادا نہیں کیا ہے! میں اسے مطلع کرچکا ہوں کہ میں راضی نہیں ہوں اور اب میں رقم کی وصولی سے مایوس ہوچکا ہوں؛ کیا مجھے یہ حق حاصل ہے کہ معاہدہ منسوخ ﴿فسخ﴾ کر کے اپنا گھر واپس لے لوں؟

جواب:

١) کوئی حرج نہیں ہے اور آپ طے شدہ جرمانے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
2) اگر ادھار کے لین دین میں، ادائیگی کا وقت مقرر کرنے کے علاوہ آپ نے یہ شرط رکھی ہے کہ کوئی تاخیر نہیں ہونی چاہیے تو آپ معاملہ منسوخ ﴿فسخ﴾ کر سکتے ہیں۔

احکام شرعی:ادائیگی میں تاخیر کا جرمانہ

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 1 =