۳ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۳ شوال ۱۴۴۵ | Apr 22, 2024
ووٹ

حوزہ/ آپ کا ووٹ نہ دینا یا غلط پارٹی کو منتخب کرنا پوری قوم کو متاثر کر سکتا ہے اس لیے ووٹ مکمل ذمہ داری کے ساتھ دیں اور اپنے علاقے کی ضرورت کا خیال کرتے ہوئے اس حق کا استعمال کریں۔

تحریر : محمد جواد حبیب

حوزہ نیوز ایجنسی | لدّاخ خودمختار ہل ترقیاتی کونسل LAHDC کے الکشن عنقریب ہے ۔اور ہر حلقے کے لوگ اپنے اپنے امیدواورں کو میدان میں لا رہے ہیں۔ ہر ایک اپنے ووٹ کا حقدار تلاش کررہے ہیں تاکہ اس کے صحیح استعمال سے ایک اچھا دلسوز ، غیرتمند، قوم و ملت کے خدمت گزار حکومت میں لاسکے، جو انہیں انکاحقوق دلاسکے اور قوم و ملت کو ترقی کی راہوں پر گامزن رکھ سکے ۔اس لئے کہ سیاسی طاقت، قوم وملت کو ترقی کی جانب لے جانے کے لئے بنیادی کردار اداکرتی ہے اس کا صحیح استعمال قوم کی تعمیر میں کام بنتا ہے ۔

اس لئے ہر لداخی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں آپ ہی اس قوم کے معمار ہیں۔ بے شک آج کا نوجوان پہلے سے کہیں زیادہ با صلاحیت، محبِ وطن، مخلص اور قوم کے لئے کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتا ہے اس لئے اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔ اگر ہم گھر میں بیٹھے رہیں گے تو پھر تبدیلی کیسے آئے گی؟نظام کیسے بدلے گا ؟

علامہ طرابلسیؒ فرماتے ہیں کہ سیاست کی دو قسمیں ہیں :سیاست ظالمہ اور سیاست عادلہ۔ سیاست ظالمہ حرام ہے او رسیاست عادلہ نہایت ہی ضروری ہے۔ اس لیے کہ اس سے مخلوق کو ظلم سے بچایا جا سکتاہے، اور اس کے ذریعہ بندوں کا شریعت پر چلنا آسان ہوگا۔ شرعی سیاست یعنی سیاست عادلہ کے انکا رسے نصوص شرعیہ کا انکار ہے؛ لہذا سیاست عادلہ میں حصہ لینا ضروری ہے ۔ اب دیکھنا ہے کہ خطے لداخ میں موجود سیاست کا تعلق کسی نوعیت کے سیاست سے ہے اس پر تبصرہ کبھی اور موقع پر کیا جائے گا لیکن اب ووٹنگ کی اہمیت پر اس تحریر میں کچھ مطالب قلم بن کرنا مقصود ہے اس سے پہلے یہ ایک بنیادی سوال ہے کہ لداخ نے کیا پایا اور لداخ نے کیا کھویا؟ کا جائزہ لیں گے ۔

لداخ نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے!

احتساب و جائزہ زندہ قوموں کا شعار ہے، جس قوم کے افراد بالخصوص قائدین وزعماء، کار ِاحتساب سے غافل ہوجاتے ہیں وہ قوم پستی وادبار کی گہری کھائیوں اور ذلت ونکبت کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں گم ہوجاتی ہے؛لہذاووٹ دینے سے قبل ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم انفرادی و اجتماعی سطح پر ضرور اپنے ماضی کا جائزہ لیں اور مستقبل کےلیے لائحۂ عمل تیار کریں !

اس لئے کہ انتخابی انقلاب کا یہ مرحلہ کس قدر نازک، کس قدر خطرناک یا کس قدر بہتر اور کس قدر خوش آئند ہوسکتا ہے اس کا اندازہ بلاتفریق مذہب و ملّت وطن عزیز کے باشعور افراد کو ہونا چاہئے، گذرے دور حکومت میں لداخ نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے وہ سب کے سامنے ہے اور اس منظر نامے کے تناظر میں ہمیں اس حقیقت کے اعتراف میں مکمل کشادہ دلی اور فکری وسعت کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے پانچ سالوں پر محیط ماضی میں اپنے بیش قیمت ووٹ کے استعمال میں کہاں کہاں غلطیاں کی ہیں اور اس کے نتائج نے ہماری رو بہ تنزل فکری پستی اور اعلی حکام سے لے کر عام سطح تک کے آپسی استحصال ،انتشار اور مخالفتوں نے آج ہمیں کس حد تک حاشیہ پر پہنچا دیا ہے اس کا اندازہ ہر ایک لداخی کو ہونا چاہئے اس ناطے ہر باشعور کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کا آگاہ کرے تاکہ بھر اس غلطی کو نہ تکرار نہ کریں جسکے عذاب میں لداخ کے ہر فرد مبتلاہوجاتا ہے ۔ آج تک ہماری مانگیں پوری نہیں ہوئی ہیں ہمارے جوان اعلی تعلیمی عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود بھی بیکار ہیں اس سخت دور میں ہر ایک کو بیداری کا ثبوت دینا ہوگا تاکہ جس مشکلات سے آج کا لداخ روبرو ہے کل وہ نہ ہو بلکہ لداخ کا مستقبل تابناک ہو روشن ہو جس میں ہم سب کو بہترین کردار ادا کرنا ہے ۔

ہمارا ووٹ ہمارا حق:

ووٹ ایک انتہائی اہم امانت ہے قوم کا ہر وہ شخص جو خود کو ہندوستانی کہتا ہے، ووٹ اس کے ملک اور قوم کی امانت ہے اور امانت میں خیانت بلاشبہ سنگین جرم ہے۔ چاہے وہ خیانت ووٹ نہ دے کر کی جائے یا اس کا غلط استعمال کر کے کی جائے۔ ووٹ کا اصل حقدار کون ہے اس کا فیصلہ ایک فرد اور اس کا ضمیر کرتا ہے۔ سیاسی منفی مقاصد اور طرف داریوں کو پسِ پشت ڈال کر وسیع تر قومی مفاد میں مستقبل کے لئے ایک بہتر فیصلہ ہی دانشمندی ہے۔قوم کے ہر فردبالخصوص نوجوانوں سے پر زور استدعا ہے کہ وہ ووٹ کا حق ضرور استعمال کریں آپ ہی اس قوم کے معمار ہیں۔ بے شک آج کا نوجوان پہلے سے کہیں زیادہ با صلاحیت، محبِ وطن، مخلص اور قوم کے لئے کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھتا ہے اس لئے اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں۔ اگر ہم گھر میں بیٹھے رہیں گے تو پھر تبدیلی کیسے آئے گی؟نظام کیسے بدلے گا ؟یہ سوچنے کا مقام ہے جب عوام ہی اپنے فرض سے غافل ہوں گے جب ہم خود ہی تبدیلی لانے میں اپنا کردار ادا نہیں کریں گے تو پھر نظام سے شکایت جائز نہیں۔ جہدِ مسلسل ہمارا فرض ہے اور سچے دل سے کی گئی کوئی محنت رائیگاں نہیں جاتی۔ اگر ہم سب صرف ایک منفی پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر ووٹ کے استعمال سے دستبردار ہو جائیں گے تووہی استعماری قوتیں برسرِ اقتدار آ جائیں گی جو شروع سے عوام کا استحصال کر رہی ہیں۔

حاصلِ کلام یہی ہے کہ ووٹ ایک ملی و قومی ذمہ داری ہے، اس ذمہ داری کو اہتمام انجام دیا جائےاور اس کی ترغیب دی جائے۔ اگرہمارے حلقے میں‌ کوئی نسبتاً بہتر اور قابل امیدوار ہے تو اسے ووٹ دینے سے گریز کرنا شرعاً ممنوع اور قوم و ملت پر ظلم کے مترادف ہے۔ اگر حلقے میں کوئی بھی امیدوار صحیح معنوں‌ میں قیادت کے لائق اور دیانتدار نہیں ہے تو موجود امیدواروں میں سے کسی بھی امیدوار کی ایک صلاحیت یا ایک خوبی کو مدِنظر رکھ کر کم برائی کواختیارکرنےکے خیال سے ووٹ دیناچاہیے۔ اس معاملہ میں یہ اصول بھی ذہن نشین کر لیں‌ کہ شخصی معاملات میں کسی فرد کی غلطی کا اثر صرف اسی فرد تک محدود رہتا ہے، اس کی سزا و جزا کا حقدار بھی وہی ہے۔ البتہ قومی و ملکی معاملات سے پوری قوم متاثر ہوتی ہے۔ آپ کا ووٹ نہ دینا یا غلط پارٹی کو منتخب کرنا پوری قوم کو متاثر کر سکتا ہے اس لیے ووٹ مکمل ذمہ داری کے ساتھ دیں اور اپنے علاقے کی ضرورت کا خیال کرتے ہوئے اس حق کا استعمال کریں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .