۲۳ تیر ۱۴۰۳ |۶ محرم ۱۴۴۶ | Jul 13, 2024
رہبر انقلاب

حوزہ/ تہران کتب میلے کے معائنے کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی سے ایران کے قومی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے نمائندے کا انٹرویو۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران کتاب میلے کے معائنے کے موقع پر رہبر انقلاب اسلامی سے ایران کے قومی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی (IRIB) کے نمائندے نے ایک انٹرویو لیا ہے جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:

رپورٹر: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ سلام اور آداب عرض ہے۔ بڑی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ علم و دانش بڑھانے اور معلومات کی سطح بلند کرنے کی اس فضا اور اس مرکز میں ایک بار پھر جناب عالی کی زیارت اور ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ اگر اجازت ہو تو کتاب، تہران بین الاقوامی کتب میلے اور کتابوں کے مطالعے کی ث‍قافت کے بارے میں کچھ سوالات عرض کروں۔

پہلا سوال بین الاقوامی کتب میلے میں تسلسل کے ساتھ جنابعالی کی آمد کے فلسفے سے متعلق ہے کہ آپ ہر سال اس بک فیئر میں تشریف لاتے ہیں اور درحقیقت دقت نظر، ظرافت اور پوری توجہ سے تفصیلی معائنہ کرتے ہیں۔ یہاں تک تشریف لانے سے قبل اس پورے راستے میں یہ بات ظاہر تھی۔ تازہ چھپنے والی کتابوں اور ان کے مصنفین پر آپ کی نظر اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ کتابوں پر آپ پوری توجہ دیتے ہيں اور بہت سنجیدگی کے ساتھ یہ معائنہ کرتے ہیں اور یہ صرف ایک علامتی معائنہ نہیں ہے۔ معاشرے اور کتابوں کی نشر و اشاعت کے ذمہ داران اور ناشرین کے لئے آپ کے اس معائنے کا پیغام کیا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔ آپ کو مجھ سے جو سوال کرنا چاہئے وہ اس کام کا پیغام نہیں ہے، بلکہ اس کے محرکات ہیں۔ پہلے درجے میں اس کا محرک کتاب میں میری ذاتی دلچسپی، کتاب سے میرا لگاؤ اور انسیت ہے۔ دوسرے مرحلے میں کتاب کی ترویج ہے۔ میں چاہتا ہوں کی کتب بینی زیادہ سے زیادہ رائج ہو۔ اس لئے کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم کتابوں کے محتاج ہیں۔ مختلف شعبوں میں سبھی لوگ، مختلف عمر اور مختلف علمی سطح کے لوگوں کو ضرورت اس بات کی ہے کہ کتاب پڑھیں اور صحیح معنی میں کتاب پڑھیں، کوئی بھی چیز کتاب کی جگہ نہیں لے سکتی ۔ میں چاہتا ہوں کہ کتابیں پڑھنے کا رواج عام ہو۔ آج دیگر مشاغل جیسے سوشل میڈیا وغیرہ نے کتب بینی کی تھوڑی سی جگہ لے لی ہے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سوشل میڈیا کی طرف نہ جائيں یا اخبار نہ پڑھیں۔ پڑھیں! لیکن یہ نہیں ہونا چاہئے کہ یہ کتب بینی کی جگہ لے لیں۔ کتاب کو لوگوں کی معیشت میں، قوت خرید میں ہونا چاہئے اور ان کے فراغت کے اوقات میں اس کی جگہ ہونا چاہئے۔ تھوڑا وقت کتب بینی میں ضرور گزاریں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہ رائج ہو جائے۔ یہاں میری آمد شاید اس لحاظ س موثر ہو۔ یہ بھی ایک محرک ہے۔

رپورٹر: آپ نے جس نکتے کی طرف اشارہ فرمایا، وہ سوال کا دوسرا حصہ تھا۔ کتاب کو مہربان دوست کہا جاتا ہے اور اس مہربان دوست پر ہمیشہ توجہ ہونی چاہئے۔ جیسا کہ آپ نے فرمایا سوشل میڈیا نے ایسی فضا پیدا کر دی ہے جس میں معاشرے بالخصوص بڑے بچوں اور نوجوانوں کے لئے کافی کشش پائی جاتی ہے اور کتب بینی نیز کتابوں کے مطالعے کے سلسلے میں یہ ایک سنجیدہ فکرمندی کی بات ہے۔ آپ نے عوام کے بارے میں فرمایا، لیکن کتب بینی کی ترویج کے حوالے سے اس شعبے کے ذمہ داران اور ان لوگوں کے لئے آپ کی نصیحت کیا ہے جو اس میدان میں سرگرم ہیں؟

ذمہ دار سرکاری ادارے جیسے، وزارت اسلامی ہدایت و ثقافت، یا اسلامی تبیلیغات جیسے اداروں کو چاہئے کہ کتابوں کی نشر و اشاعت میں مدد کریں۔ ہمیں ان کی مدد کرنی چاہئے۔ البتہ اس سال میں کتابوں کے ان مراکز میں گیا اور ان سے سوال کیا تو معلوم ہوا کہ ذمہ دار اداروں کی جانب سے سب کی یا بعض ناشرین کی مدد کی جا رہی ہے۔ مدد ہونی چاہئے۔ یہ پہلا کام ہے۔

جو لوگ سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں، انہیں بھی سائبر اسپیس سے کتابوں کے ترویج کے لئے کام لینا چاہئے۔ یہ ایک ایسا فریضہ ہے کہ جو لوگ سوشل میڈیا کا کام کرتے ہیں، انہیں بھی چاہئے کہ لوگوں میں کتب بینی کا شوق پیدا کریں اور اچھی کتابیں متعارف کرائيں۔ مختتلف شعبوں میں، ادبیات میں، تاریخ میں، آرٹ میں اور اسی طرح علمی اور دینی موضوعات پر اچھی اور مفید کتابیں زیادہ ہیں۔ میں اس سال دیکھ رہا تھا کہ جن مراکز کا میں نے معائنہ کیا، وہاں الحمد للہ نئی چھپنے والی کتابیں کم نہیں ہیں۔ ان کو متعارف کرائيں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ انہیں کن کتابوں سے رجوع اور کون سی کتابیں طلب کرنے کی ضرورت ہے۔

رپورٹر : میرا آخری سوال یہ ہے کہ آپ نے یہاں تک، اس وقت تک، تقریبا آدھی نمائش کا معائنہ کر لیا ہے اور بقیہ بھی ان شاء اللہ دیکھ لیں گے، اس سال کی کتابوں کی بین الاقوامی نمائش میں وہ کون سی خاص چیز ہے جس نے جناب عالی کی توجہ اپنی طرف مبذول کی؟

دو تین چیزیں مجھے اہم نظر آئيں: ایک نئے کام میں اضافہ؛ جن ناشرین کے اسٹال پر میں گیا، انھوں نے قابل ملاحظہ نئے کام پیش کئے یا نئے کاموں کی رپورٹ دی۔ دوسرے خریداری کا مسئلہ تھا۔ میں معمولا پوچھتا ہوں کہ خریداری کیسی ہے، ان کی فروخت کیسی ہے، اکثر کہتے ہیں کہ اچھی ہے۔ جن سے میں نے پوچھا ان سب نے یا اکثر نے کہا کہ فروخت اچھی رہی ہے، لوگ آتے ہیں۔

ایک اور نکتہ کتابوں کی تعداد کا مسئلہ ہے۔ چھپنے والی کتابوں کی تعداد میں بہت کمی آ گئی تھی، میں نے دیکھا کہ نہیں! کہتے ہیں، تین ہزار، دو ہزار، ڈھائی ہزار اور بہت سنگین کتابوں کے ہزار نسخے چھپے۔ بعض کتابوں کے لئے یہ تعداد اچھی ہے۔ اسی طرح کتابوں کے نئے ایڈیشن کی بات ہے۔ بعض کتابیں کئی بار چھپی ہیں۔ یہ میں نے نشریاتی اداروں کے اسٹالوں پر جاکر دیکھا۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔ الحمد للہ یہ اس سال کی اچھی خبریں ہیں۔ لیکن سب سے اہم ان سے جو بڑے بچوں اور نوجوانوں سے سروکار رکھتے ہیں، یعنی محکمہ تعلیم و تربیت اور یونیورسٹیوں سے، ان سے میری سفارش یہ ہے کہ بڑے بچوں اور نوجوانوں کے لئے کتب بینی کے حالات سازگار کریں اور اچھی کتابیں انہیں فراہم کریں۔ البتہ گھر والوں کے بھی اپنی جگہ پر فرائض ہیں جو انہیں انجام دینا چاہئے لیکن جو ادارے بڑے بچوں اور نوجوانوں کے تعلق سے فعال ہیں، وہ ذمہ داری کا احساس کریں اور نوجوانوں کے لئے کتب بینی کے امکانات فراہم کریں۔ نوجوانوں کو کتب بینی کی بہت ضرورت ہے۔ ادبیات، تاریخ، ورثے اور شخصیات کو متعارف کرانے والی کتابیں۔ یہ وہ موضوعات ہیں کہ واقعی ان میں خلا ہے۔ اسی طرح گوناگوں حوادث و واقعات کی کتابیں ہیں۔ اس وقت مثال کے طور پر آئینی تحریک کے بارے میں چںد کتابیں ہیں جو پہلے سے موجود ہیں۔ ملک میں آئینی تحریک کے نام پر جو کچھ ہوا ہے اس کو صحیح طور پر اور حقیقی نقطہ نگاہ سے بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موضوع پر کتابیں کم ہیں یا نہیں ہیں یا ایسی کتابیں کم ہیں جو پڑھنے کے لائق ہیں۔ یہ وہ کام ہیں جو انجام دینے کی ضرورت ہے۔ آئینی تحریک کی طرح کے واقعات بہت ہیں۔ ہم دفاع مقدس کے بارے میں جتنا بھی لکھیں کم ہے۔ جتنا بولیں کم ہے۔ بہت گنجائش ہے۔ خود انقلاب کے بارے میں کم لکھا گیا ہے، امام (رضوان اللہ تعالی علیہ) کے بارے میں یہی صورتحال ہے۔ امام تاریخ کی ایک ممتاز اور کم نظیر ہستی ہیں۔ ہم نے امام کے بارے کتنی کتابیں لکھی ہیں؟ کیا لکھا ہے؟ یہ بہت اہم ہے۔ یہ وہ کام ہیں جنہیں انجام دینا چاہئے۔ کتابوں کی اشاعت بہت اہم ہے جو زیادہ تر وزارت ثقافت، تبلیغی اداروں اور ادب اور آرٹ کے شعبوں کے ذمہ ہے لیکن کتابوں کی ترویج محکمہ تعلیم و تربیت اور یونیورسٹیوں وغیرہ کے ذمہ ہے۔ ان شاء اللہ کامیاب رہیں۔

رپورٹر: بہت بہت شکریہ۔ ممنوں ہوں کہ آپ نے اس گفتگو کے لئے وقت دیا۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .