جمعہ 21 مارچ 2025 - 15:34
وصیّت علی ابنِ ابی طالب (ع)؛ دنیائے انسانیت کو علی کا ایک اور تحفہ

حوزہ/جب ابن ملجم کی تلوار سے آپ انیسویں رمضان المبارک سن چالیس ھجری کو بوقت فجر مسجد کوفہ میں زخمی ہوئے تو اپنے بیٹے حسن وحسین علیہا السلام سے یوں ارشاد فرمایا:میں تم دونوں کو یہ وصیت کرتا ہوں کہ تقویٰ الھی اختیار کئے رہنا اور خبردار دنیا لاکھ تمہیں چاہے اس سے دل نہ لگانا حرف حق کہنا اور ہمیشہ آخرت کے لئے عمل کرنا۔

تحریر و ترتیب: مولانا مشاہد عالم رضوی

حوزہ نیوز ایجنسی| جب ابن ملجم کی تلوار سے آپ انیسویں رمضان المبارک سن چالیس ھجری کو بوقت فجر مسجد کوفہ میں زخمی ہوئے تو اپنے بیٹے حسن وحسین علیہا السلام سے یوں ارشاد فرمایا:میں تم دونوں کو یہ وصیت کرتا ہوں کہ تقویٰ الھی اختیار کئے رہنا اور خبردار دنیا لاکھ تمہیں چاہے اس سے دل نہ لگانا حرف حق کہنا اور ہمیشہ آخرت کے لئے عمل کرنا۔ خبردار ظالم سے دوستی نہ کرنا اور مظلوم کی حمایت سے کبھی ہاتھ نہ اٹھانا؛میں تم دونوں کو اور اپنے اھل وعیال کو اور جہاں تک میرا یہ پیغام پہنچے سب کو وصیت کرتا ہوں کہ خوف خدا کریں اور زندگی میں نظم ونسق کی رعایت کریں اپنے درمیان تعلقات کو سدھارے رکھیں کہ میں نے تمہارے جد بزرگوار سے سنا ہے کہ آپس کے معاملات کو سلجھائے رکھنا عام نماز وروزہ سے افضل ہے۔

دیکھو یتیموں کا خیال رکھنا پڑوسیوں کا خیال رکھنا قرآن پر عمل کرنے میں پیچھے نہ ہو جانا اور نماز سے خبردار کہ وہ تمہارے دین کا ستون ہے اور اللہ سے ڈرو خانہ خدا کے بارہ میں کہ اسے اکیلا نہ چھوڑ دینا اور اپنی جان و مال وزبان سے راہ خدا میں جہد مسلسل کرتے رہو خبر دار ایک دوسرے سے تعلقات بگاڑ نہ لینا اور دیکھو نیکیوں کا حکم دینے اور ایک دوسرے کو برائیوں سے روکنے کو نظر انداز نہ کر دینا ۔

اے اولاد عبد المطلب! خبردار میں یہ نہ دیکھوں کہ تم مسلمانوں کا خون بہانا شروع کردو محض یہ نعرہ لگا کر کہ امیرالمومنین مارے گئے ہیں ؛ دیکھو میرے بدلے میں میرے قاتل کے علاوہ کسی کو قتل نہیں کیا جاسکتا ہے اور دیکھو میرے انتقال کے بعد میرے قاتل کو ایک ہی ضربت لگانا اور اس کابدن ٹکڑے نہ کرنا کہ میں نےرسول اللہ صلی سے سنا ہے کہ مرنے کے بعد کسی کے ہاتھ وپیر نہ کاٹنا چاہے وہ کٹکھنا کتا ہی کیوں نہ ہو۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha