حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قابض صہیونی فوج نے جمعہ کے روز غزہ کے وسطی علاقے میں واقع الصداقہ اسپتال کو نشانہ بنایا، جو کینسر کے مریضوں کے لیے مخصوص ایک اہم طبی مرکز تھا۔
العربی ٹی وی کے مطابق، اسرائیلی فوج نے اسپتال پر بمباری کر کے اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ دوسری جانب صہیونی میڈیا نے ہمیشہ کی طرح اس حملے کا جواز گھڑتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ اسپتال دراصل حماس کا ایک کمانڈ سینٹر تھا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیل نے الصداقہ اسپتال کو نشانہ بنایا ہو۔ غزہ جنگ کے 470 دنوں میں یہ اسپتال متعدد بار اسرائیلی حملوں کی زد میں آیا، جس کے نتیجے میں نومبر 2023 میں یہ طبی خدمات فراہم کرنے سے قاصر ہو گیا۔
اسپتال کی تباہی کے اہم اسباب: ایندھن اور ادویات کی شدید قلت، عمارت پر بار بار حملوں کے باعث شدید نقصان، الیکٹریکل و میکانیکل نظام کی مکمل تباہی۔
بعد ازاں، قابض صہیونی فوج نے اسپتال پر قبضہ کر کے اسے فوجی اڈے میں بدل دیا اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو بلڈوزروں کے ذریعے مسمار کر دیا۔
اسرائیل کے وزیر جنگ اسرائیل نے اعلان کیا کہ غزہ کے مزید علاقوں پر قبضہ کیا جائے گا، آبادی کو جبری بےدخل کر کے "سیکیورٹی زون" قائم کیے جائیں گے، زمینی حملے تیز کیے جائیں گے، جب تک کہ حماس کو شکست نہ دے دی جائے۔
انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ اسرائیلی حکومت ٹرمپ کے منصوبے پر عمل کر رہی ہے، جس کے تحت غزہ کے عوام کو "رضاکارانہ طور پر" علاقے سے بےدخل کرنے کے لیے فوجی اور غیر فوجی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
غزہ کے اسپتالوں اور دیگر شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کے باوجود بین الاقوامی برادری کی مسلسل خاموشی اسرائیل کو مزید وحشیانہ اقدامات کے لیے شہہ دے رہی ہے۔
سوال یہ ہے کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں کب تک ان جنگی جرائم پر خاموش رہیں گی؟ کیا اسرائیل کو عام شہریوں کے قتل عام کا کھلا لائسنس دے دیا گیا ہے؟
آپ کا تبصرہ