ہفتہ 29 مارچ 2025 - 07:58
ماہ مبارک رمضان اور رزق

حوزہ/ ماہ مبارک رمضان کے اثرات و برکات میں صرف معنوی اور اخروی زندگی کو سنوارنا اور بہتر بنانا نہیں ہے بلکہ مادی زندگی کو بھی بہتر اور اچھی بنانا ہے اور جہاں ائمہ علیہم السلام نے خدا سے معنوی اور اخروی رزق کو طلب کیا وہیں مادی رزق کا بھی سوال کیا ہے اور ہمیں بھی معنوی اور اخروی رزق کے ساتھ ساتھ مادی رزق کے بھی مانگنے کا طریقہ تعلیم فرمایا ہے تاکہ آخرت کے ساتھ ساتھ ہماری دنیا بھی سنور جائے۔

تحریر: مولانا سید ظفر عباس رضوی- قم المقدسہ

حوزہ نیوز ایجنسی | ویسے تو ہم ماہ مبارک رمضان کی دعاؤں میں بہت سی چیزوں کو اللہ سے مانگتے اور طلب کرتے ہیں لیکن ان میں سے بعض کو زیادہ طلب کرتے ہیں، اور اس مبارک مہینہ کی الگ الگ دعاؤں میں یہ چیزیں تکرار کے ساتھ آئی بھی ہیں، وہ چیزیں جن کو اس مبارک مہینہ میں ہم خدا سے زیادہ طلب کرتے ہیں اور جن کی مختلف دعاؤں میں تکرار بھی ہوئی ہے ان میں سے ایک رزق کی دعا ہے جو تکرار کے ساتھ آئی ہے۔

یوں تو رزق کا استعمال مادی اور معنوی دونوں چیزوں کے لئے ہوتا ہے اور دعاؤں میں بھی دو معنی میں استعمال ہوا ہے لیکن میں اپنی اس تحریر میں مادی رزق کی بات کر رہا ہوں جس کا ذکر ماہ مبارک رمضان کی دعاؤں میں تکرار کے ساتھ آیا ہے چاہے وہ روزانہ کی دعائیں ہوں، چاہے دعائے ابوحمزہ ثمالی ہو یا پھر سحر کی دوسری دعائیں ہوں کئی جگہ اور کئی الگ الگ دعاؤں میں اس بات کی تکرار ہوئی ہے۔

کہیں پہ آیا ہے:

"وَارْزُقْنِى مِنْ فَضْلِكَ رِزْقاً واسِعاً حَلالاً طَيِّباً"

"میرے اللہ اپنے فضل و کرم کے ذریعہ سے مجھے فراوان اور حلال و پاکیزہ رزق عطا فرما"

ایک دوسری جگہ پہ آیا ہے:

"وَارْزُقْنِى رِزْقاً واسِعاً مِنْ فَضْلِكَ الْواسِعِ"

"میرے اللہ مجھے اپنے وسیع و فراوان احسان و کرم کے ذریعہ سے رزق فراوان عطا فرما"

ایک اور جگہ پہ آیا ہے:

"اللّٰهُمَّ أَعْطِنِى السَّعَةَ فِى الرِّزْقِ"

"میرے اللہ میرے رزق میں وسعت و فراوانی عطا فرما"

ایک دوسری جگہ پہ آیا ہے

"وَ تُوَسِّعَ لِي‏فِي رِزْقِي"

ایک اور جگہ پہ آیا ہے

"وَ تُوَسِّعَ فِي رِزْقی"

ایک اور جگہ پہ ہے

"وَ سَعَةِ رِزْقٍ"

ایک دوسری جگہ پہ آیا ہے:

"أَنْ تَرْزُقَنِى فِى عامِى هٰذَا، وَشَهْرِى هٰذَا، وَيَوْمِى هٰذَا، وَساعَتِى هٰذِهِ رِزْقاً تُغْنِينِى بِهِ عَنْ تَكَلُّفِ مَا فِى أَيْدِى النّاسِ مِنْ رِزْقِكَ الْحَلالِ الطَّيِّبِ"

"میرے اللہ مجھے اسی سال، اسی مہینہ، اسی دن اور اسی وقت اپنے حلال اور پاکیزہ رزق میں سے ایسا رزق عطا فرما جس کے ذریعہ سے تو مجھے وہ چیز جو لوگوں کے ہاتھوں میں ہے اس کی زحمت سے بے نیاز کر دے"

ایک اور جگہ پہ آیا ہے:

"وَارْزُقْنِى مِنْ فَضْلِكَ الْواسِعِ رِزْقاً حَلالاً طَيِّباً لَاتُفْقِرُنِى إِلىٰ أَحَدٍ بَعْدَهُ سِواك"

"میرے اللہ مجھے اپنے وسیع اور بے پناہ فضل و کرم کے ذریعہ سے حلال اور پاک و پاکیزہ رزق عطا فرما ایسا رزق جس کو عطا کرنے کے بعد مجھے اپنے علاوہ کسی اور کا محتاج نہ بنانا"

تو یہ بات غور و فکر کرنے کی ہے کہ ماہ مبارک رمضان کے اثرات و برکات میں صرف معنوی اور اخروی زندگی کو سنوارنا اور بہتر بنانا نہیں ہے بلکہ مادی زندگی کو بھی بہتر اور اچھی بنانا ہے اور جہاں ائمہ علیہم السلام نے خدا سے معنوی اور اخروی رزق کو طلب کیا وہیں مادی رزق کا بھی سوال کیا ہے اور ہمیں بھی معنوی اور اخروی رزق کے ساتھ ساتھ مادی رزق کے بھی مانگنے کا طریقہ تعلیم فرمایا ہے تاکہ آخرت کے ساتھ ساتھ ہماری دنیا بھی سنور جائے۔

لہذا اس مبارک مہینہ میں ہمیں بھی خدا سے معنوی اور اخروی رزق کے ساتھ ساتھ مادی رزق کو بھی زیادہ سے زیادہ مانگنا اور طلب کرنا چاہیئے اور اس مبارک مہینہ میں یہ دعا بھی زیادہ سے زیادہ کرنا چاہیئے کہ خدا ہمیں لوگوں سے بے نیاز بنا دے اور ہمیں اپنے علاوہ کسی اور کا محتاج نہ بنائے۔

خداوند عالم سے دعا ہے کہ خدا محمد(ص) و آل محمد علیہم السلام کے صدقہ میں ہمیں توفیق عنایت فرمائے کہ ہم ماہ مبارک رمضان کے بقیہ بچے ہوئے چند دنوں میں زیادہ سے زیادہ عبادات و بندگی کو انجام دے سکیں اور معنوی اور اخروی رزق کے ساتھ ساتھ مادی رزق کو بھی زیادہ سے زیادہ طلب کر سکیں،

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha