حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں قائم کونسل امریکن-اسلامی ریلیشنز (CAIR) نے وین اسٹیٹ یونیورسٹی پر مسلمانوں، فلسطینیوں اور نسل کشی کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کی آواز دبانے کا الزام عائد کیا ہے۔
اس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر داوود ولید نے پیر کے روز یونیورسٹی کے دروازے کے سامنے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ ادارہ فلسطین کے حامیوں کی آواز کو خاموش کرنے اور مسلمانوں کے ساتھ امتیازی رویہ اپنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ "یونیورسٹی ایک ایسا مقام ہے جہاں طلبہ اپنی فیس ادا کرکے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور یہ جگہ ان کے لیے علم حاصل کرنے کا محفوظ پناہ گاہ ہونی چاہیے۔ یہاں انہیں آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کرنے اور انتظامی امور انجام دینے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔"
داوود ولید نے مزید کہا کہ امریکہ کی روایت یہی رہی ہے کہ خیالات اور خبریں عوامی مقامات اور یونیورسٹی کیمپسز میں آزادانہ طور پر بیان کی جائیں۔ "آج غزہ کے عوام شدید قحط اور مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں فلسطین کے حامیوں کی آواز دبانا آزادی بیان کے منافی ہے۔"
پریس کانفرنس کے دوران تنظیم کے وکلا نے بھی یونیورسٹی کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کی تفصیلات پیش کیں۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر کوئی طالب علم نماز کے لیے یونیورسٹی کی مسجد جاتا ہے تو اسے واپس کلاس میں جانے یا اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
اسی طرح ایک طالب علم نے شکایت کی کہ پولیس پرامن اجتماعات کے دوران مسلمانوں کو لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتی، جبکہ دیگر تمام گروہوں کو یہ سہولت حاصل ہے۔









آپ کا تبصرہ