حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو کے دوران حوزہ علمیہ کی اعلیٰ کونسل کے رکن آیتاللہ محمد غروی نے مرحوم آیتاللہالعظمیٰ نائینی کے علمی اور تاریخی مقام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس ممتاز فقیہ کے فکری مکتب کی احیا اور ان کے فقہی، اصولی اور سیاسی مبانی پر دوبارہ توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا: مرحوم آیتاللہالعظمیٰ نائینی ان عظیم شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے گزشتہ ایک صدی کے دوران حوزات علمیہ میں، خواہ نجف میں ہوں یا ایران اور دیگر بلاد میں، فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
آیتاللہ غروی نے مزید کہا: مرحوم نائینی صاحبِ مکتب تھے اور خصوصاً مرحوم شیخ انصاری کے نظریات کی توضیح اور تفسیر میں بے پناہ کوششیں کیں۔ تاہم وہ محض گذشتہ علما کے آراء کے مفسر نہیں تھے بلکہ علمِ اصول، فقہ اور حتیٰ سیاسی مسائل کے میدان میں بھی قابلِ توجہ نوآوریاں رکھتے تھے۔
حوزہ علمیہ کی اعلیٰ کونسل کے رکن نے اس مکتب کے وسیع اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس طرح کی شخصیات کی احیا دراصل ایک فکر اور ایک علمی جریان کی احیا ہے۔ مرحوم آیتاللہ نائینی نے نمایاں شاگردوں کی تربیت کی جن میں مرحوم آیتاللہالعظمیٰ خوئی کا نام لیا جا سکتا ہے۔ بعد کے بہت سے مراجع بھی جن میں سے بعض شہادت کے درجے پر فائز ہوئے مرحوم آیتاللہ خوئی کے شاگرد تھے اور یہ علمی سلسلہ مکتبِ نائینی کی گہرائی اور وسعتِ نفوذ کو ظاہر کرتا ہے۔
آیتاللہ غروی نے کہا: مرحوم آیتاللہ خوئی خود مرحوم نائینی، آقاضیاء عراقی اور مرحوم حسین اصفہانی کے تربیت یافتہ تھے لہٰذا ان اکابر کی احیا ایک طرف ان کی فکر کو زندہ رکھنے کے مترادف ہے اور دوسری طرف اس نکتے کی طرف دوبارہ توجہ کا سبب بنتی ہے کہ فقہ اور اصول میں کن مبانی کو نمایاں کیا جانا چاہیے اور کن پر دقت کے ساتھ غور ضروری ہے۔









آپ کا تبصرہ