بدھ 7 جنوری 2026 - 05:00
خاندان نوجوانوں میں شناختی بحران کی روک تھام کیسے کر سکتے ہیں؟

حوزہ/ نوجوانوں میں شناختی بحران، بالخصوص ثقافتی شناخت کا مسئلہ، ثقافت سے بیگانگی، نسلوں کے درمیان تضاد، تیز رفتار سماجی تبدیلیوں اور سماجی خلا کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ثقافتی اقدار اور عقائد کا ازسرِ نو جائزہ، نسلوں کے درمیان مؤثر مکالمہ، سماجی مظاہر کو سمجھنے کے مواقع کی فراہمی اور نوجوانوں کے سامنے پائیدار، بامقصد اور باوقار آرمانوں کی پیشکش ضروری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نوجوانی زندگی کا ایک نہایت حساس مرحلہ ہے۔ اگر اس دوران نوجوان کا اپنے ثقافتی پس منظر اور اعلیٰ اقدار سے رشتہ کمزور پڑ جائے تو شناختی بحران جنم لیتا ہے۔

نفسیات دان ایرک ایرکسن وہ پہلے مفکر تھے جنہوں نے شناختی بحران (Identity Crisis) کا تصور پیش کیا۔ ان کے مطابق جب نوجوان اس کردار کو قبول کرنے میں ناکام ہو جائے جو معاشرہ اس سے توقع رکھتا ہے، تو وہ شناختی بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔

بعض دیگر ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ بچپن کے ناخوشگوار تجربات یا موجودہ نامناسب حالات کے باعث اگر نوجوان اپنی انفرادی شناخت تشکیل دینے میں کامیاب نہ ہو سکے، تو یہی کیفیت شناختی بحران کہلاتی ہے۔ مختلف اقسام کی شناخت میں ثقافتی شناخت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

شناختی بحران پر اثر انداز ہونے والے عوامل

۱۔ ثقافت سے بیگانگی:

یہ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب نوجوان کا اپنی ثقافت سے مضبوط تعلق باقی نہیں رہتا۔ نتیجتاً وہ احساسِ محرومی کا شکار ہو کر غیر ملکی ثقافت کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔

۲۔ نسلوں کے درمیان تضاد:

والدین اور اولاد کے درمیان فکری و جذباتی فاصلے بڑھنے سے یہ تضاد پیدا ہوتا ہے، جو رفتہ رفتہ اجنبیت اور بعض اوقات ٹکراؤ کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔

۳۔ وسیع سماجی تبدیلیاں:

تیز رفتار سماجی تبدیلیاں انسان کی سوچ اور تجزیے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہیں۔ ایسی صورت میں فرد اپنی ثقافت کے عناصر کو درست طور پر سمجھنے اور اپنانے سے قاصر رہتا ہے اور معاشرتی معاملات کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔

۴۔ سماجی خلا:

انسان اپنے اعلیٰ مقاصد اور آرمانوں کے ذریعے زندگی میں حرکت، نشاط اور توانائی حاصل کرتا ہے۔ مقصد اور نصب العین کے فقدان سے سستی، بے عملی، بے انگیزگی اور ثقافتی ٹوٹ پھوٹ جنم لیتی ہے۔

شناختی بحران کے عوامل سے نمٹنے کے طریقے

ثقافت سے بیگانگی کا حل:

نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ثقافتی اقدار اور عقائد کا ازسرِ نو جائزہ لیں، جبکہ معاشرے کے ثقافت ساز اداروں کو متنوع اور مؤثر ثقافتی تعلیم کے فروغ کے لیے سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں۔

نسلی تضاد کا حل:

والدین اور اولاد کے درمیان فکری، جذباتی اور اعتقادی مشترکات کو تلاش کر کے مضبوط بنایا جائے اور دونوں نسلوں کے درمیان مثبت، مؤثر اور تعمیری مکالمے کو فروغ دیا جائے۔

سماجی تبدیلیوں کا حل:

نوجوانوں کو یہ موقع دیا جائے کہ وہ نئے سماجی مظاہر پر غور و فکر کریں اور ان کو صحیح انداز میں سمجھ سکیں۔

سماجی خلا کا حل:

زندگی، خدا، کائنات، حیات اور تخلیق کے مقصد سے متعلق بنیادی سوالات کے جوابات فراہم کیے جائیں اور نوجوانوں کے سامنے پائیدار، بامقصد اور سعادت بخش اقدار و آرمان پیش کیے جائیں۔

ماخذ: زندگی در سایہ‌سارِ ثقافتِ پویا، صفحہ ۱۵۵

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha