بدھ 7 جنوری 2026 - 14:23
حوزاتِ علمیہ دشمن کو قومی اتحاد سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے

حوزہ / مرکز مدیریتِ حوزہ علمیہ اعلان کرتا ہے کہ "حوزاتِ علمیہ عظیم ایرانی قوم کے شانہ بشانہ مکمل ہوشیاری کے ساتھ دشمن کی نئی ابھرتی فتنہ انگیزیوں اور ترکیبی جنگوں کی نگرانی کر رہے ہیں اور دشمن کو قوم کی متحد صفوں میں رخنہ ڈالنے کی اجازت ہرگز نہیں دیں گے"۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکز مدیریتِ حوزہ علمیہ نے قیام 19 دی قم (یومُ اللہ 19 دی) کی اڑتالیسویں برسی کے موقع پر ایک بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان کا متن درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

"وَ ذَکِّرْهُمْ بِأَیَّامِ اللَّهِ إِنَّ فِی ذلِکَ لَآیاتٍ لِکُلِّ صَبَّارٍ شَکُورٍ" (ابراهیم/۵)

19 دی صرف تقویم کی ایک تاریخ نہیں بلکہ اس عوامی غیرت کے نورانی جذبے اور جوش کے اس آتش فشاں کا نام ہے جس نے پہلوی استبداد کے تاریک ترین دور میں مرجعیت اور ولایت کے تقدس کے تحفظ کے لیے گولیوں کے سامنے سینہ سپر کیا۔ 19 دی 1356 (9 جنوری 1978ء) کا قیام تاریخِ معاصر کا ایک سنگِ میل اور اس تحریک کا آغاز تھا جس نے ڈھائی ہزار سالہ شاہی ظلم کا طومار لپیٹ دیا۔

اس فیصلہ کن دن میں جب شاہِ خائن کے براہِ راست حکم پر پہلوی حکومت کے سفاک کارندوں نے حضرت امام خمینی قدس سرہ کی شان میں جسارت کی تو قم شہر کے دیندار اور انقلابی عوام نے بیدار روحانیت کی پیش قدمی میں قیام کیا تاکہ ان کے "اللہ اکبر" کے نعروں کے ساتھ ملت اور مرجعیت کے اٹوٹ رشتے کو دنیا کے سامنے نمایاں کیا جائے اور یہ ثابت ہو کہ عوام کا ایمان ثقافتی اور سیاسی یلغار کے مقابل ایک ناقابلِ نفوذ دیوار ہے۔

آج جب ہم اس عظیم واقعہ کی اڑتالیسویں برسی منا رہے ہیں تو اس بصیرت کی چنگاریاں غزہ، لبنان اور مقاومتی محاذ کے طول و عرض میں بھڑک رہی ہیں۔

19 دی کے شہداء کا خون جس طرح نیاوران محل کی لرزتی بنیادوں کو ڈھا گیا تھا آج بھی وہی تحریک بین الاقوامی صہیونیت اور زوال پذیر مغربی بالادستی کی کھوکھلی بنیادوں کو لرزا رہی ہے۔

مرکز مدیریت حوزہ علمیہ 19 دی کے قیام کے عظیم الشان شہداء اور عزت و اقتدار کے راستے کے شہداء کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اعلان کرتا ہے کہ حوزاتِ علمیہ عظیم ایرانی قوم کے ساتھ مکمل بیداری کے ساتھ دشمن کی نئی فتنہ انگیزیوں اور مرکب جنگوں کی نگرانی کرتے رہیں گے اور دشمن کو قوم کی متحد صفوں میں رخنہ ڈالنے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔

فرزندانِ حوزہ ایک بار پھر امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے برحق نائب حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای مدظلہ العالی سے تجدیدِ عہد کرتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ "کلمۃ اللہ" کی سربلندی اور اسلامی تہذیب کے تحقق کے لیے اپنے خون کے آخری قطرہ تک ڈٹے رہیں گے۔

مرکز مدیریت حوزہ علمیہ

قابل ذکر ہے کہ 19 دی 1356 (9 جنوری 1978ء) کا خونی قیام، جو 1356 ہجری شمسی میں روزنامہ اطلاعات میں شائع ہونے والے مضمون "ایران و استعمار سرخ و سیاہ" کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ تھا جس میں امام خمینی (رہ) کے خلاف توہین آمیز مواد شائع کیا گیا تھا۔ یہ احتجاج 18 دی سے شروع ہوا اور 20 دی تک جاری رہا لیکن 19 دی کو یہ احتجاج اپنے عروج پر تھا جس کے نتیجے میں پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ جس میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اس قیام کو پہلوی حکومت کے خلاف بعد کے قیاموں کا نقطۂ آغاز سمجھا جاتا ہے جو بالآخر انقلاب اسلامی ایران کا باعث بنا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha