حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صیہونی حکومت نے اس جنگ میں ایران کے فوجی کمانڈروں ، ایٹمی دانشوروں ، عام لوگوں ، خواتین و بچوں سمیت 1000 سے زائد ایرانیوں کو شہید کیا۔
صیہونی حکومت اور اسلامی جمہوریہ ایران کے دشمنوں نے اس حملے سے بڑی امیدیں رکھا رکھی تھیں لیکن جب ایرانی میزائلوں نے تل ابیب و حیفا پر دستک دی اور ایرانی عوام نے اپنی حکومت کی مخالفت کے بجائے ، بھرپور حمایت کی تو صیہونی حکام کے ہوش ٹھکانے آ گئے اور وہ جنگ بندی کے لئے ہاتھ پیر مارنے لگے۔
آج کل ایران میں ہونے والے بلوے کی کھل کر حمایت کرنے والے امریکی صدر ٹرمپ ، 12 روزہ جنگ میں اسرائیل کی شکست کے آثار دیکھ کر آگے آئے اور نتین یاہو کو بچانے کے لئے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر بمباری کی اور جنگ بندی کا مطالبہ کیا تاہم ایران نے قطر میں دہشت گرد امریکی فوجی اڈے پر میزائل کی بارش کرنے کے بعد جنگ بندی تسلیم کر لی۔
صیہونی حکومت نے 12 روزہ جنگ کے بعد امریکہ کی مدد سے مسلسل یہ کوشش کی کہ ایران پر جنگ کے بادل منڈلاتے رہيں اور ایرانی میزائلوں کو چوٹ سے بلبلاتے ہوئے مسلسل یہ اعلان کیا کہ جنگ ابھی ختم نہيں ہوئی ہے۔
صیہونی حکومت نے 12 روزہ جنگ کی شکست کے تقریبا 6 مہینوں بعد آخر کار چند روز قبل ، ایران کے خلاف جنگ کا دوسرا مرحلہ شروع کیا البتہ امریکہ کی مدد سے اور ایران میں موجود اپنے ایجنٹوں کے سہارے۔
صیہونی حکومت نے ، مہنگائی کے خلاف ایرانی عوام کے قانونی احتجاج کا فائدہ اٹھایا تاہم یہ احتجاجات جب بلوے میں بدلنے لگے تو عوام نے خود کو الگ کر لیا اور میدان میں صیہونی ایجنٹ آ گئے جنہوں نے شب جمعہ تہران اور ایران کے دیگر کئی شہروں میں بینکوں ، سرکاری املاک، عام لوگوں کے گھروں ، گاڑیوں ، فائر بریگیڈ کی گاڑیوں ، مسجدوں ، مقدس مقامات اور اسی طرح بلدیہ کی بسوں پر دہشت گردانہ حملے کئے ۔ یہ سارے حملے ، صیہونیوں کی جانب سے تربیت یافتہ دہشت گردوں کے ہاتھوں کئے گئے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ گزشتہ شب تہران اور دیگر شہروں میں دہشت گردوں کے ہاتھوں جو کچھ ہوا ہے وہ در اصل ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ کا دوسرا مرحلہ ہے کیونکہ پہلے مرحلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے میزائلوں کی گھن گرج نے صیہونیوں کو شرمناک شکست سے دوچار کیا تھا۔
ایران کے خلاف صیہونی حکومت کی جنگ کے پہلے مرحلے میں جس طرح ایرانی میزائلوں نے اسے اس کی اوقات یاد دلائی تھی اسی طرح اس مرحلے میں بھی ایرانی عوام، سازش کرنے والوں اور دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دیں گے اور اس کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔









آپ کا تبصرہ