منگل 27 جنوری 2026 - 04:50
قدرتی ماحول کی دانستہ تخریب نعمتِ الٰہی کی ناشکری اور شرعی طور پر حرام ہے

حوزہ / حضرت آیت اللہ نوری ہمدانی نے کہا: عوامی قدرتی ماحول کی دانستہ تباہی انسانوں کے حقوق کی پامالی غیر کو نقصان پہنچانے عوامی امانت میں خیانت نعمتِ الٰہی کی ناشکری اور شرعی طور پر حرام ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جمہوریۂ اسلامی ایران میں ماحولیاتی خطرات اور قومی سلامتی سے متعلق ہمہ گیر کانفرنس کے نام حضرت آیت اللہ نوری ہمدانی کے پیغام کا خلاصہ درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین والصلاة والسلام علی حبیبِ الٰہ العالمین المصطفیٰ ابی القاسم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وعلی آلہ الہداة المیامین لا سیما بقیة اللہ فی الارضین واللعنة الدائمة علی اعدائهم اجمعین الی قیام یوم الدین۔

خداوندِ متعال نے مادی اور معنوی رشد کمال اور سعادت کے راستے میں انسان کے لیے پاکیزہ اور سالم زندگی کا قدرتی ماحول فراہم فرمایا ہے اور قدرتی اور انسانی ماحول کو امانت کے طور پر بنی نوع انسان کے سپرد کیا ہے۔

جن نعمتوں کے ہم محتاج ہیں انہیں اپنی بے پایاں نعمتوں میں سے ہمارے لیے پیدا فرمایا اور ہمارے تابع بنا دیا۔ اس کی حفاظت اس کی احیا اور اس کی بہتری شکرِ نعمت اور امانت کی حفاظت کا مصداق ہے اور یہ ایک شرعی فریضہ اور پوری انسانی سوسائٹی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں: (اِتَّقُوا اللّه فی عِبادِهِ و بِلادِهِ فإنّکُم مَسؤولُونَ حتّی عنِ البِقاعِ و البَهائمِ، أطِیعُوا اللّه و لا تَعصُوه (خطبه ۱۶۶ نهج البلاغه) اللہ سے اس کے بندوں اور اس کی زمینوں کے بارے میں تقویٰ اختیار کرو کیونکہ تم سے حتیٰ زمین اور جانوروں کے بارے میں بھی باز پرس ہوگی اللہ کی اطاعت کرو اور اس کی نافرمانی نہ کرو۔ لہٰذا قدرتی ماحول کی حفاظت ایک الٰہی فریضہ ہے اور اس کا اطلاق حفاظت احیا اور بہتری پر ہوتا ہے خواہ وہ سمندر ہو، جھیل ہو، دریا ہو، ڈیموں کے ذخائر ہوں، دلدلی علاقے ہوں، زیرِ زمین آبی ذخائر ہوں، جنگلات ہوں، چراگاہیں اور فضا ہوں، حیاتیاتی تنوع ہو اور ان وسائل سے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس انداز سے استفادہ ہو جو ان کی برداشت اور دوبارہ بحالی کی صلاحیت کے مطابق ہو پائیداری کے معیارات اور اشاریوں جامع نظم و نسق اور جینیاتی وسائل کی حفاظت اور ان کی ارتقا کے ساتھ یہاں تک کہ مختلف ماحولیاتی میدانوں میں فنی اور ماہرین کے طے شدہ معیار تک پہنچ سکے۔

دوسری جانب عوامی قدرتی ماحول کی دانستہ تخریب انسانوں کے حقوق کی پامالی غیر کو نقصان پہنچانے عوامی امانت میں خیانت نعمتِ الٰہی کی ناشکری اور شرعی طور پر حرام ہے اور بعض موارد میں جیسے مختلف قسم کی آلودگیاں جو بیماری کا باعث بنتی ہیں اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالتی ہیں، شرعی ضمان کی موجب بنتی ہیں۔

قرآنِ کریم، روایات اور اہل بیت علیہم السلام کے دینی و فقہی مصادر میں قدرتی ماحول کی حفاظت اور اس کی تباہی سے پیدا ہونے والے سلامتی کے خطرات پر خصوصی توجہ بالکل واضح ہے۔۔۔۔۔

والسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته

حسین نوری ہمدانی

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha