بدھ 28 جنوری 2026 - 15:09
عبادتِ الٰہی انسان کو حقیقی عزت عطا کرتی ہے: خطیب حرم حضرت معصومہ (س)

حوزہ/ حرمِ مطہر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کے خطیب نے کہا ہے کہ امام حسین علیہ السلام پوری دنیا کے صاحبانِ عزت کے امام ہیں، اور عزت کا سب سے بنیادی اور مؤثر سرچشمہ خداوندِ متعال کی عبادت اور بندگی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت‌الاسلام والمسلمین سید محمد باقر طباطبائی‌نژاد نے گزشتہ شب حرمِ مطہر کریمہ اہلبیت حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیہا میں منعقد ہونے والے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عبودیتِ خدا انسان کو وقار، سربلندی اور حقیقی عزت عطا کرتی ہے، اور امام حسین علیہ السلام نے راہِ عبودیت میں اپنی ہر چیز قربان کر کے عزت مندوں، عزت کے طلب گاروں اور عزت کے علمبرداروں کو عزت کا صحیح مفہوم سکھایا۔

انہوں نے واقعۂ ولادتِ امام حسین علیہ السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب حضرت امام حسین علیہ السلام کو گہوارے سمیت رسولِ اکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نورانی چہرے کو دیکھا، سید الشہداء علیہ السلام کی پیشانی کو بوسہ دیا اور گریہ کرتے ہوئے تین مرتبہ اس قوم پر لعنت فرمائی جو اس بچے کو شہید کرے گی۔

حجت‌الاسلام والمسلمین طباطبائی‌نژاد نے بتایا کہ جب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اس بچے کو کون قتل کرے گا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنی امیہ کے لوگ ایک دن میرے اس فرزند کو گھیر لیں گے اور اسے شہید کر دیں گے۔

حرمِ مطہر حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے اس خطیب نے مزید کہا کہ آج اگر بعض افراد امام حسین علیہ السلام کا نام سنتے ہی عشق و محبت میں آنسو بہانے لگتے ہیں تو انہیں جان لینا چاہیے کہ یہ ان کے حق میں رسولِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا کی قبولیت کی علامت ہے۔

انہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی یاد دہانی کرائی کہ امام حسین علیہ السلام تمام اہلِ عزت کے امام ہیں، اور واضح کیا کہ امام حسین علیہ السلام نے خداوندِ متعال کی بندگی کی راہ میں سب کچھ قربان کر کے عزت کا عملی درس دنیا کو دیا۔

حجت‌الاسلام والمسلمین طباطبائی‌نژاد نے اس بات پر زور دیا کہ عزت کا پہلا اور سب سے اہم سبب عبادتِ خداوندی ہے، اور کہا کہ اگرچہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام علم، وصایت، طہارت، ولایت اور معرفت کی عظیم عزت کے حامل تھے، مگر اس کے باوجود وہ بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتے تھے:

“اے پروردگار! میری سب سے بڑی عزت تیری عبادت ہے۔”

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha