حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کراچی/ انقلابِ اسلامی ایران کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر تحریکِ بیداریِ اُمتِ مصطفیٰؐ کے زیرِ اہتمام کراچی میں ایک ریلی نکالی گئی، جو امام بارگاہ شاہِ خراسان سے سی بریز پلازہ تک نکالی گئی۔ ریلی کی قیادت علامہ ذین رضا نے کی۔
ریلی میں ہزاروں مرد، خواتین اور بچوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے رہبرِ مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای، انقلابِ اسلامی اور برادر ہمسایہ اسلامی ملک ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف احتجاج اور اظہارِ بیزاری کیا۔
مکمل تصاویر دیکھیں:
ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی، امریکہ و اسرائیل کے خلاف کراچی میں احتجاجی مظاہرہ
ریلی میں شیعہ علماء کونسل کے رہنما علامہ ناظر عباس، ایم ڈبلیو ایم کے رہنما علامہ صادق جعفری، فلسطین فاؤنڈیشن کے جناب صابر ابو مریم، ہیئتِ آئمہ مساجد و علماء امامیہ کے نمائندگان، آئی ایس او کے ڈویژنل صدر سمیت مختلف تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت اور خطاب کیا۔
علماء کرام نے اپنے خطابات میں کہا کہ پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک کو فرقہ واریت، تکفیریت اور بیرونی ایجنڈوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ پالیسیاں اسلامی خودمختاری، عوامی مفاد اور مزاحمتی شعور کی بنیاد پر استوار کی جائیں اور باہمی اتحاد کو مضبوط بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ عزت، بقا اور ترقی کا راستہ استکبار کی پیروی میں نہیں بلکہ باوقار مزاحمت اور خود انحصاری میں مضمر ہے۔
اس موقع پر تحریکِ بیداری کے سربراہ علامہ سید جواد نقوی نے اپنے براہِ راست خطاب میں کہا کہ گزشتہ 36 برسوں سے آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی قیادت میں انقلابِ اسلامی اُس استکباری نظام کے خلاف برسرِ پیکار ہے جو دنیا کی اقوام کو غلام بنانے، ان کے وسائل لوٹنے اور ان کی آزادی سلب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کی دشمنی کسی ایک ملک، میزائل پروگرام یا جوہری مسئلے تک محدود نہیں بلکہ اس کی اصل مخالفت اسلامِ نابِ محمدی (ص)، اسلامی خودمختاری اور مزاحمتی فکر سے ہے۔ ان کے مطابق امریکہ مذاکرات، جمہوریت اور انسانی حقوق کے نعروں کو اکثر محض دباؤ اور مداخلت کے لیے استعمال کرتا ہے اور پابندیوں، فوجی دباؤ اور داخلی انتشار کے ذریعے آزاد اقوام کو زیرِ اثر لانے کی کوشش کرتا ہے۔
علامہ جواد نقوی نے مزید کہا کہ امریکہ صہیونی ریاست کا بڑا حامی سمجھا جاتا ہے اور فلسطین و غزہ کی صورتحال پر بھی اسی تناظر میں تنقید کی جاتی ہے۔ انہوں نے امتِ مسلمہ میں اتحاد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فرقہ واریت اور پراکسی تنازعات مسلم دنیا کو کمزور کرتے ہیں۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ استکبار کے سامنے جھکنا ذلت اور تباہی کا راستہ ہے، جبکہ باوقار مزاحمت، خود انحصاری اور اتحاد ہی عزت، بقا اور ترقی کا پائیدار راستہ فراہم کرتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ