حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سانحۂ ترلائی اسلام آباد کے شہداء سے اظہارِ یکجہتی اور دہشت گردی کے خلاف ملتِ جعفریہ پاکستان کی جانب سے امام بارگاہ جی سکس ٹو میں مرکزی جمعہ کا اجتماع ہوا؛ جس سے علامہ شیخ شفاء نجفی نے خطاب کیا، بعد از نمازِ جمعہ ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں مرکزی قائدین و علمائے کرام سمیت ہزاروں مرد و خواتین نے شرکت کی۔

ریلی میں شیعہ علماء کونسل پاکستان، مجلس وحدت مسلمین پاکستان، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان (آئی ایس او)، آئی ڈی سی، انجمن جانثاران، مدارسِ دینیہ وماتمی انجمنوں کے اراکین اور رہنما شریک تھے۔

ریلی سے شہداء کے ورثاء، شیخ انور علی نجفی، علامہ سید حسنین گردیزی، معروف اسکالر سیدہ طیبہ خانم، علامہ احمد اقبال رضوی، زاہد علی آخونزادہ، تحریک بیداری کے علامہ توقیر حسین، مرکزی صدر سید امین شیرازی، شیعہ علماء کونسل کے علامہ اشتیاق کاظمی، مولانا اختر عباس، ظہیر نقوی اور دیگر مقررین نے خطاب کیا، جبکہ آخر میں سید اظہر عابدی نے قراردادیں پیش کیں۔
مظاہرین نے حکومت کی جانب سے سیکیورٹی میں برتی گئی غفلت و نااہلی اور دہشت گردی کے خلاف شدید احتجاج کیا۔

سربراہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان علامہ راجہ ناصر عباس نے عظیم الشان احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست و حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرے، یہی حکومت کے وجود کا بنیادی فلسفہ ہے۔ اگر وہ اس میں ناکام ہو جائے تو اپنا جواز کھو بیٹھتی ہے۔ مظلوم کا اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف احتجاج کرنا خدا کو بھی پسند ہے۔ موجودہ لاقانونیت میں انہیں اقتدار میں رہنے کا حق نہیں پہنچتا۔ ایک دن عوام ملک بھر میں نکلیں گے اور حکمرانوں کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔ آج پوری ملت متحد ہو کر ظلم کے خلاف نکلی ہے۔ ہم اپنے شہداء کے خون سے بے وفائی نہیں کریں گے اور جب تک ظلم کرنے والوں کو انجام تک نہیں پہنچایا جاتا، چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
امتِ واحدہ کے سربراہ علامہ محمد امین شہیدی نے کہا کہ ہمارا سلام ہو ان شہداءِ ملت پر جن کے پاکیزہ خون نے ملت میں بیداری پیدا کر دی۔ حکمرانوں نے ہماری تاریخ نہیں پڑھی۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر کربلا کے ماننے والے تنہا بھی رہ جائیں تو شکست تسلیم نہیں کرتے۔ آج تک ہماری طرف سے کسی معصوم کا خون نہیں بہایا گیا، مگر ہمارے کسی مجرم کو سزا نہیں دی گئی۔ ہمیں شعور ہے کہ ہمارے قتلِ عام میں کس کس کی سرپرستی شامل رہی۔ اگر تکفیری عناصر کو نہ روکا گیا اور ان کی بیخ کنی نہ کی گئی تو ریاست خود ذمہ دار ہوگی۔

مجلس وحدت مسلمین کے چیف آرگنائزر سید ناصر شیرازی نے کہا کہ حکومتی ترجمان دہشت گردی کے معاملے پر اپنی بات پر قائم نہیں رہ سکے۔ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش نہ کی جائے۔ کربلا کے ماننے والوں کو نہ ڈرایا جا سکتا ہے نہ دھمکایا جا سکتا ہے۔ معصوم شہریوں کے قاتلوں کو فی الفور گرفتار کر کے سخت سزا دی جائے۔ اب تک کے حکومتی اقدامات غیر تسلی بخش ہیں۔ ملک میں کفر کے فتوے دینے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ چہلمِ شہداء پر بھرپور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔
صدر شیعہ علماء کونسل صوبہ سندھ علامہ سید اسد اقبال زیدی نے کہا کہ ملتِ کربلا متحد ہو کر وقت کے ظالموں کو بے نقاب کرتی رہے گی۔ مسجد میں نمازی کو سجدہ نہ کرنے دینا بدترین ظلم ہے۔ سجدوں میں شہادت ہمارے اسلاف کا ورثہ ہے۔ حکمران اس وقت سے ڈریں جب ملتِ جعفریہ کی قیادت عوام کو احتجاج کی کال دے۔ ہمیں قاتل اور ان کے سرپرست گرفتار چاہییں۔

متفقہ اعلامیہ
ہم حکومتِ پاکستان اور متعلقہ اداروں سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، بالخصوص ملتِ جعفریہ کے خلاف دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور بے گناہ شہریوں کے قتلِ عام کا فوری اور مؤثر نوٹس لیا جائے۔
ملت جعفریہ پاکستان کے مطالبات درج ذیل ہیں:
سانحہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث عناصر کو بے نقاب کر کے فوری گرفتار کیا جائے اور شفاف تحقیقات مکمل کر کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں۔
ذمہ داران اور سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سخت سزا دی جائے۔
پُرامن شہریوں، مساجد، امام بارگاہوں اور مذہبی مقامات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ریاستی ادارے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کریں۔
نفرت انگیز تقاریر، لٹریچر اور سوشل میڈیا پر تکفیری مواد پھیلانے والوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے۔
کالعدم تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز آپریشن کیا جائے۔
شہداء کے لواحقین کو فوری مالی امداد اور سرکاری ملازمتیں فراہم کی جائیں۔
زخمیوں کے علاج معالجے کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے۔
امن دشمن عناصر کے خلاف قومی سطح پر واضح اور دوٹوک پالیسی اپنائی جائے۔
خوف و ہراس پھیلانے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جائے۔
اگر ہمارے مطالبات پر 15 دن کے اندر عملدرآمد نہ کیا گیا تو ہم ملک بھر میں پُرامن احتجاجی تحریک چلانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومتِ وقت پر عائد ہوگی۔
ہم تمام محبِ وطن شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اتحاد، صبر اور بیداری کا مظاہرہ کریں اور امن دشمن قوتوں کے خلاف یکجہتی کا ثبوت دیں۔











آپ کا تبصرہ