حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مفسرِ قرآن اور ممتاز عالم دین آیتالله عبدالله جوادی آملی نے اپنے ایک خطاب میں “امامِ غائب کے ماننے والوں اور امامِ قائم کے حقیقی منتظرین” کے فرق کو واضح کرتے ہوئے نہایت اہم نکات بیان فرمائے۔
انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت امامِ عصر عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کا ظہور اور عدلِ مہدوی پر مبنی حکومت کا قیام شدید جدوجہد اور قربانیوں کے بغیر ممکن نہیں ہوگا، کیونکہ طاغوتی طاقتیں اور باطل کے علمبردار عدل و حق کے پیغام کو آسانی سے قبول نہیں کریں گے اور آپؑ کے خلاف صف آرا ہوں گے۔ لہٰذا آپؑ کا قیام ایثار، جہاد اور قربانی کے ساتھ آغاز پذیر ہوگا۔
آیت اللہ جوادی آملی کے بقول، دورِ غیبت میں وہی افراد حقیقی منتظر کہلانے کے مستحق ہیں جو ایک جانب قرآن کریم کی اس آیت کے مصداق ہوں:
"الَّذینَ یَذکُرونَ اللهَ قِیامًا وقُعودًا وعَلی جُنوبِهِم ویَتَفَکَّرونَ فی خَلقِ السَّماواتِ والاَرض"
یعنی وہ ہر حال میں خدا کو یاد کرنے والے، فکر و تدبر کرنے والے اور دعا و مناجات سے انس رکھنے والے ہوں؛ اور دوسری جانب حدیثِ شریف "لیعدنّ أحدکم لخروج القائم ولو سهماً" کے مطابق ہمیشہ جہاد و نصرت کے لیے آمادہ رہنے والے ہوں، خواہ ایک تیر ہی کیوں نہ تیار کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ زاہد اور عبادت گزار افراد جو جہاد، جدوجہد اور دفاعِ دین سے کوئی تعلق نہیں رکھتے، درحقیقت امامِ غائب کے محب تو ہو سکتے ہیں، مگر امامِ قائم کے مشتاق نہیں۔ کیونکہ جب حضرت قائم آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیام فرمائیں گے تو یہی لوگ سب سے پہلے ان کی انقلابی ہدایات اور جدوجہدانہ سیرت پر اعتراض کریں گے۔
ان کے مطابق بعض افراد کو غائبِ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پسند ہیں، نہ کہ قائمِ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ جبکہ حقیقی منتظر وہ ہیں جو زہد و تقویٰ کے ساتھ ساتھ علمی و عملی میدان میں بھی حاضر ہوں، جہاد و شہادت کے لیے آمادہ رہیں، دین کی سرحدوں اور قرآن و عترت کے حریم کے دفاع کے لیے تیار ہوں، غیر خدا سے نہ ڈریں اور ہاتھ میں اسلحہ رکھتے ہوئے بھی اہلِ ذکر و مناجات ہوں۔
انہوں نے تاکید کی کہ جو شخص اپنے انتظار کی سچائی کو پرکھنا چاہتا ہے، وہ یہ دیکھے کہ وہ امامِ غائب کا محض چاہنے والا ہے یا امامِ قائم کا سچا مشتاق؛ تب ہی اسے معلوم ہوگا کہ وہ حقیقی منتظر ہے یا محض دعوے دار۔









آپ کا تبصرہ