حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ترلائی اسلام آباد میں نمازِ جمعہ کے دوران ایک شیعہ مسجد میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے نے پوری دنیا کو سوگوار کر دیا۔ اس اندوہناک واقعے میں متعدد نمازی شہید اور زخمی ہوئے، جس کے بعد دنیا بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ علما اور مذہبی و سماجی حلقوں نے اس حملے کو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ علی رضا اعرافی نے بھی اس افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک تعزیتی بیان جاری کیا ہے، جس کا متن درج ذیل ہے:
انا للہ و انا الیہ راجعون
ایک بار پھر صہیونی اور عالمی استکبار سے وابستہ جرائم پیشہ عناصر نے ایک اور سنگین جرم کا ارتکاب کیا اور دوست و برادر ملک، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شیعہ مسلمانوں، نمازیوں اور خدا کے مخلص بندوں کی ایک تعداد کو خون میں نہلا دیا۔
یہ دہشت گردانہ کارروائی ایک ناقابلِ معافی اور انسانیت سوز جرم ہے، جو جاہل اور صہیونی و عالمی استکبار کے آلہ کار عناصر کے ہاتھوں مسلمانوں کے خلاف اس مقصد سے انجام دی جاتی ہے کہ امتِ مسلمہ کے درمیان تفرقہ اور اختلاف پیدا کیا جائے۔
میں اپنی جانب سے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے حوزہ ہائے علمیہ کی طرف سے اس ہولناک جرم کی شدید مذمت کرتا ہوں اور اس دل سوز سانحے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت و ملت، علمائے کرام، دانشوروں اور بالخصوص اس المناک واقعے کے سوگوار اہل خانہ کی خدمت میں دلی تعزیت پیش کرتا ہوں۔
میں اللہ تعالیٰ سے شہداء کے لیے رحمت و مغفرت، پسماندگان کے لیے صبر و اجر اور اس دردناک واقعے کے زخمیوں کے لیے مکمل اور فوری شفایابی کی دعا کرتا ہوں۔
علی رضا اعرافی
سربراہ حوزہ علمیہ ایران









آپ کا تبصرہ