اتوار 15 فروری 2026 - 13:53
حوزہ علمیہ کے لیے دشمن کی درست شناخت اور حکیمانہ جواب وقت کی اہم ضرورت ہے: آیت اللہ حسینی

حوزہ/ عراق میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے نمائندے اور مجلس خبرگان رہبری کے رکن آیت‌الله سیدمجتبی حسینی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں دشمن کی درست شناخت اور اس کے مقابل حکیمانہ و مؤثر جواب دینا حوزہ علمیہ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراق میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے نمائندے اور مجلس خبرگان رہبری کے رکن آیت‌ اللہ سید مجتبی حسینی نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں دشمن کی درست شناخت اور اس کے مقابل حکیمانہ و مؤثر جواب دینا حوزہ علمیہ کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ آج کا اصل معرکہ فکری اور ثقافتی میدان میں ہے، جہاں غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔

حوزہ نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے حالیہ فسادات کو ایک منظم منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اچانک پیش آنے والے حادثات نہیں تھے بلکہ طویل منصوبہ بندی، ذہنی تربیت کے نتیجے میں بعض عناصر کو تخریب اور بدامنی کے لیے تیار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ان واقعات میں صرف سرکاری مراکز نہیں بلکہ عوامی املاک، دکانیں اور شہری سہولیات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مقصد اصلاح نہیں بلکہ عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔

آیت اللہ حسینی نے کہا کہ انقلاب اسلامی گزشتہ 47 برسوں سے مختلف سازشوں، جنگ اور پابندیوں کا سامنا کرتے ہوئے مزید مضبوط ہوا ہے۔ ان کے بقول اگر اسلامی نظام کمزور ہوتا تو اس کے خلاف اتنی بڑی سرمایہ کاری نہ کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ آج ایران سائنسی، دفاعی اور علاقائی میدان میں ایک مؤثر طاقت کے طور پر ابھرا ہے اور دشمنوں کی ناراضی اس کا ثبوت ہے۔

انہوں نے دشمنی کے دو پہلو بیان کیے: ایک کھلی جنگ اور دوسرا سافٹ وار اور ثقافتی جنگ۔ ان کا کہنا تھا کہ سافٹ وار زیادہ خطرناک ہے کیونکہ یہ میڈیا، سوشل نیٹ ورکس اور دیگر ذرائع کے ذریعے نوجوانوں کے اذہان میں شکوک و شبہات پیدا کرتی ہے اور ایمان و شناخت کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

انہوں نے "جہادِ تبیین" کو ہمہ گیر ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف علماء یا کسی ایک ادارے کا فریضہ نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے دائرے میں رہتے ہوئے فکری رہنمائی کا کردار ادا کرے۔ انہوں نے حوزاتِ علمیہ پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کے سوالات کو منظم انداز میں جمع کر کے مدلل اور حکیمانہ جوابات فراہم کریں، کیونکہ ثقافتی مسائل کو زبردستی حل نہیں کیا جا سکتا۔

آیت اللہ حسینی نے پرامن احتجاج اور تخریب کاری میں فرق کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ معاشی مشکلات کے باعث بعض مطالبات فطری ہو سکتے ہیں، مگر انہیں فسادات سے الگ دیکھنا چاہیے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ملک کو بعض اندرونی کمزوریوں اور انتظامی مسائل کا سامنا ہے، تاہم ان خامیوں کو پورے نظام کی ناکامی قرار دینا درست نہیں۔

انہوں نے ماہِ رمضان کو معنویت اور بصیرت میں اضافے کا سنہری موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ مساجد اور دینی مراکز کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ آخر میں انہوں نے ایران و عراق کے گہرے تعلقات کو اسٹریٹجک اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے دونوں اقوام کے درمیان اتحاد کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha