حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کراچی/ سانحہ مسجد خدیجۃ الکبریٰ ترلائی اسلام آباد کے خلاف اور رہبرِ انقلاب اسلامی ایران آیت اللہ علی خامنہ ای سے اظہارِ یکجہتی کے اظہار کے لیے کراچی میں ملتِ جعفریہ پاکستان کے زیرِ اہتمام ایک عظیم الشان ریلی نکالی گئی۔ ریلی نمائش چورنگی سے سی بریز، ایم اے جناح روڈ تک پہنچی، جس میں ہزاروں مرد و خواتین نے شرکت کی۔

مقررین نے اپنے خطابات میں مطالبہ کیا کہ سانحہ مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ملوث عناصر اور ان کے سہولت کاروں کو بلا تاخیر گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے اور شفاف تحقیقات کے ذریعے اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک میں دہشت گردی کے تسلسل پر قابو پانا ریاستی اداروں کی اولین ذمہ داری ہے اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

مقررین نے کہا کہ رہبرِ انقلاب اسلامی کے خلاف امریکی صدر کی دھمکیاں قابلِ مذمت اور خطے کے امن کے لیے خطرناک ہیں۔ ان کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای عالمِ اسلام کی وحدت اور استقامت کی علامت ہیں، اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت سنگین علاقائی نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان برادر اسلامی ممالک ہیں جن کے درمیان مذہبی، تاریخی اور تزویراتی تعلقات موجود ہیں، لہٰذا ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کو خطے کے استحکام کے خلاف سمجھا جائے گا۔
خطاب کرنے والوں نے کہا کہ بعض عالمی قوتیں خطے میں عدم استحکام کو ہوا دے رہی ہیں اور پاکستان کے خلاف تخریبی عناصر کی پشت پناہی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران دونوں ایٹمی صلاحیت رکھتے ہیں، اور ان کے خلاف سازشیں خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کرنے کی کوشش ہیں۔

ریلی سے شیعہ علماء کونسل کے مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری علامہ ناظر عباس تقوی، مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ حسن ظفر نقوی، علامہ نثار قلندری سمیت مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کرام اور اقلیتی برادری کے نمائندگان نے خطاب کیا۔ ہندو برادری سے منہوج چوہان اور مسیحی برادری سے پاسٹر رحمت لعل نے بھی سانحہ ترلائی پر تعزیتی کلمات ادا کیے اور متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

مقررین نے کہا کہ اسلام آباد میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے ذمہ دار عناصر کو بے نقاب کرنا ناگزیر ہے اور اس سلسلے میں قومی اتحاد اور مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان مزید بدامنی اور دہشت گردی کا متحمل نہیں ہو سکتا، لہٰذا قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کریں۔

غزہ بورڈ آف پیس کے حوالے سے مقررین نے کہا کہ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی قومی مفادات اور امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دینی چاہیے۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا اور پالیسی ساز اداروں سے موجودہ حالات پر سنجیدہ نظرثانی کا مطالبہ کیا۔
ریلی کے شرکاء نے سانحہ ترلائی کے خلاف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور متاثرین سے اظہارِ ہمدردی کیا۔ ریلی کا اختتام اجتماعی دعا اور ملک میں امن و استحکام کے عزم کے ساتھ ہوا۔









آپ کا تبصرہ