ہفتہ 21 فروری 2026 - 04:40
خواتین پر توجہ اور ان سے ہمدردی ایمان کو کیسے مضبوط کرتی ہے؟

حوزہ / حوزہ و یونیورسٹی کی استاد نے کہا: خواتین جذبات کی پیکر ہوتی ہیں، ان کا وجود لطیف ہے، اسی لیے جو لوگ صاحبِ ایمان ہوتے ہیں اور جن کی روح زیادہ لطیف ہوتی ہے وہ خواتین پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور جو خواتین پر زیادہ توجہ دیتے ہیں ان کی روح مزید لطیف ہو جاتی ہے لہٰذا ان کا ایمان بھی مضبوط تر ہو جاتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندہ سے گفتگو میں حوزہ و یونیورسٹی کی استاد محترمہ رضائی نے حدیث مبارکہ «کُلَّما ازدادَ العَبدُ إیماناً ازدادَ حُبّاً للنِّساءِ» کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: رسولِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس حدیث میں فرماتے ہیں: جب بندے کا ایمان بڑھتا ہے تو خواتین کے ساتھ اس کی محبت و ہمدردی بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ حدیث امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث کے ساتھ سازگار ہے جس میں آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: جب بندے کی خواتین سے محبت و ہمدردی بڑھتی ہے تو اس کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا: ان احادیث کی بنیاد پر ایمان اور خواتین سے محبت کے درمیان باہمی تعلق پایا جاتا ہے۔ جس کا ایمان زیادہ ہو اس کی خواتین سے محبت زیادہ ہوتی ہے اور جس کی خواتین سے محبت زیادہ ہو اس کا ایمان بھی بڑھتا ہے۔

حوزہ و یونیورسٹی کی اس استاد نے مزید کہا: یہاں خواتین سے محبت سے مراد شہوانی رغبت نہیں بلکہ الٰہی، درست اور ولایتی محبت ہے۔ جتنا انسان کا ایمان اور ولایت کا معیار بلند ہوتا ہے اور وہ جتنا بہتر بندہ بنتا ہے اتنا ہی اس کی خواتین سے محبت اور ہمدردی بھی زیادہ ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا: اس معیار سے مراد حلال محبت ہے۔ یہ حدیث ایک طرف مجرد افراد کو شادی کی ترغیب دیتی ہے اور دوسری طرف شادی شدہ افراد کو یہ تلقین کرتی ہے کہ وہ اپنی بیویوں کی تحقیر یا اذیت نہ کریں بلکہ ان سے محبت کریں اور انہیں عزیز رکھیں۔

محترمہ رضائی نے کہا: خواتین عطوفت و جذبات کی علامت ہیں، ان کی روح اور وجود لطیف ہے، اسی لیے اہلِ ایمان اور لطیف روح رکھنے والے افراد خواتین پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ اور جو خواتین پر توجہ دیتے ہیں ان کی روح مزید لطیف ہوتی ہے جس کے نتیجے میں ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا: خواتین روحانی اور جسمانی دونوں اعتبار سے مردوں کے مقابلے میں زیادہ لطیف ہوتی ہیں، جبکہ مردوں کی طبیعت نسبتاً سخت ہوتی ہے بعض حالات میں اس لطافت کو کمزوری سمجھا جاتا ہے حالانکہ اس حدیث میں کمزوروں پر توجہ دینا ایمان کی نشانی قرار دیا گیا ہے۔ جو شخص زیادہ طاقت رکھتا ہے اسے ظلم کا حق نہیں۔ جتنا ایمان مضبوط ہوتا ہے انسان یہ سیکھتا ہے کہ اپنی مردانہ قوت اور صلاحیتوں کو بیوی اور خاندان کی خدمت میں استعمال کرے لہٰذا جتنا مرد اس اصول کی پابندی کرتے ہیں ان کا ایمان بڑھتا ہے اور جتنا ایمان بڑھتا ہے خواتین کی طرف ان کی توجہ بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha