پیر 16 فروری 2026 - 06:00
عورتوں کی نماز کا بے حساب ثواب

حوزہ/ خدا کی محبت اور اسکی قربت کیلئے اجتماعی طور پرقائم عورتوں کی نمازِ جماعت دلوں کو جوڑتی ہے۔ کیونکہ جب آپ ایک ہی صف میں، ایک ہی امام کے پیچھے سجدہ کرتی ہیں، تو کینہ اور حسد ختم ہوتا ہے آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے۔

تحریر: سید صفدر حسین زیدی مدیر جامعہ امام جعفر صادق علیہ السلام صدر امام بارگاہ جونپور ہندوستان

حوزہ نیوز ایجنسی I

عورتوں کی امامت کے جواز پر توضیح المسائل آیت اللہ خمینیؒ، آیت اللہ سیستانی، آیت اللہ خامنہ ای حفظہم اللہ اور کتبِ اربعہ کا بیان

وسائل الشیعہ جلد 8، باب 20امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہےکہ عورتوں کی نمازِ جماعت کی امامت عورت کر سکتی ہے۔

طریقہ

وہ(یعنی نماز پڑھانے والی عورت) انہی اقتداء کرنے والی عورتوں کے درمیان کھڑی ہو اور آہستہ آواز میں قرائت کرے۔مستدرک، کتاب الصلوٰۃ، باب الجماعة، حدیث نمبر 10374

بحار الانوار میں علامہ مجلسی نے روایت نقل کی ہے کہ حضرت ام سلمہ اور بعض دوسری روایات کے مطابق اسی طرح شہزادی فاطمہ زہرا نے بھی رسول اللہ (ص) کے دور میں خواتین کی جماعت کی اقتداءکی۔

اورخودنماز جماعت کے ثواب کاعمومی حکم بھی موجودہےملاحظہ فرمائیں۔

'نمازِ جماعت کے ثواب کے بارے میں مشہور حدیثِ پیامبر(ص)'جو معتبر کتابوں میں درج ہے

مستدرک الوسائل جلد6میں رسول اللہ (ص) نے فرمایا: اگر تنہا صرف ایک شخص امام کےساتھ نماز پڑھےتو ہررکعت کا ثواب 150نمازوں کے برابر ہے، اور اگر 10یا 10 سے زیادہ نمازی ہو جائیں تو اس کا ثواب اللہ کے سوا کوئی نہیں بیان کرسکتا۔ (مستدرک الوسائل، باب فضل الجماعۃ)

اس حدیث میں مردیا عورت کی کوئی قید نہیں ہے، لہٰذا یہ فضیلت خواتین کی جماعت پر بھی اسی طرح عائد ہوتی ہے۔

عورتوں میں نمازِ جماعت کے شوق میں اصافہ کیلئے تمام شہزادی فاطمہ(س) کی کنیزیں خاص طور پر توجہ فرمائیں، اسلامی معاشرے میں خواتین کی تربیت پورے خاندان کی تربیت ہوتی ہے۔اگر ایک عورت ماں بہن بیوی بیٹی کی حیثیت سے اپنی نمازجماعت سے پڑھتی ہے، تو وہ صرف عبادت نہیں کر رہی ہوتی بلکہ اپنے گھر میں الٰہی اصول اور قانون قائم کر رہی ہوتی ہے جو سب پر غیر محسوس طریقہ پراثر انداز ہوتا ہے

اس سلسلہ میں ہماری کوتاہیاں ضرور ہیں لیکن اسکو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے

اکثر دیکھاگیاہے کہ خواتین مجالس، نیاز، یامحفلوں مجلسوں میں اکٹھاہوتی ہیں، لیکن جیسے ہی اذان ہوتی ہے، ہر کوئی الگ الگ کونے میں نماز پڑھنے لگتی ہیں یہ نا واقفیت اورنا سمجھی کیوجہ سےعبادت وثواب سےایک بہت بڑی محرومی ہے۔

حجتِ شرعی جب معصومؑ نے اجازت دی اور مراجع نے طریقہ بتایا، تو پھراس اہم رخ پر ہماری اور خاص طور پر عورتوں سستی و غفلت نہیں ہونی چاہئے۔

ہمارا سوال ہیکہ کیااس عظیم ثواب سے اس لیے محروم رہیں کہ اب تک تو نہیں پڑھی تو نئی بات کیوں کی جائے۔دوسری وجہ"شرم" آتی ہے۔

جبکہ بہت سے غیرضروری اورثواب سے خالی بیوجہ کے نئے نئے کام اور بے شرمی کے امورخداسےبیخوف ہوکرخوب انجام پاتے ہیں۔اور رہاجماعت کی نماز کا طریقہ جاننے کی بات تو یہ سمجھ لیجئےکہ یہ بہت ہی آسان ہے

جماعت کا عظیم معنوی فائدہ۔

خدا کی محبت اور اسکی قربت کیلئے اجتماعی طور پرقائم عورتوں کی نمازِ جماعت دلوں کو جوڑتی ہے۔ کیونکہ جب آپ ایک ہی صف میں، ایک ہی امام کے پیچھے سجدہ کرتی ہیں، تو کینہ اور حسد ختم ہوتا ہے آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے۔

شیطان کا خطرناک وار

شیطان چاہتا ہے کہ مومن مومنہ کو تنہا کر دیا جائے اور اجتماعی سبھی کاموں کو یا تو ہونے نا دیا جائے یا اسکو خراب کر دیا جائے کیوں کہ اکیلے ہونے اور نیک دیندار محمد وآل محمد کے چاہنےوالوں کو تنہا کر کے انہیں وسوسوں میں ڈال کر خدا سے دور کرنا آسان ہے۔

نماز میں بھی تنہا جماعت کے فائدے بہت ہی زیادہ ہیں جماعت پراللہ کی رحمت کا سایہ ہوتا ہے۔

خواتین سے بعد ادب التماس ہے۔ جب بھی آپ 3 یا 4 خواتین کہیں جمع ہوں (چاہے وہ گھر ہو یا کوئی دینی پروگرام میں میں ہوں)، تو ایک عادل اور صحیح قرائت سے واقف خاتون کو مصلے پر (صف کے درمیان) کھڑا کریں اور اللہ کی بارگاہ میں "وحدت" کا ثبوت دیں۔ یہ وہ عمل ہے جو جنابِ زہرا (س) کو خوش کرے گا، کیونکہ آپ نے پروردگار کو خوش کیا اوران کے بابا (ص) کی سنت کو زندہ کیا۔

آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی کے فتوؤں کے مطابق خواتین کی اپنی علیحدہ جماعت (یعنی جس میں امام بھی خاتون ہو اور مقتدی بھی خواتین ہوں) کے بارے میں درج ذیل باتوں کا دھیان رکھیں۔

سیستانی صاحب کے نزدیک خواتین کے لیے اپنی جماعت کا اہتمام کرنا جائز ہے۔ کیونکہ ایک عورت دوسری عورتوں کو نماز پڑھاسکتی ہے

1۔ بشرطیکہ وہ تمام شرائط جو پیش نماز میں ہونا ضروری ہے (جیسے عادل ہونا، قرائت درست ہونا نماز میں درپیش ہونے والے مسائل سے واقف ہوناوغیرہ) پر پوری اترتی ہو۔

2. عورتوں کی جماعت کا طریقہ کار

خواتین کی جماعت کا طریقہ مردوں کی جماعت سے تھوڑا الگ ہے۔

مردوں کی جماعت امام مقتدیوں سے ایک قدم آگے کھڑا ہوتا ہے، لیکن عورتوں کی جماعت میں خاتون امام کو آگے بڑھ کر نہیں کھڑا ہونا چاہیے بلکہ عورتوں کیساتھ صف میں برابر کھڑی ہونا۔

یعنی خاتون امام کو پہلی صف کے بالکل درمیان میں، دیگر خواتین کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ وہ صف سے باہر الگ آگے نہیں نکلے گی۔

3۔عورت مردوں کی امام نہیں بن سکتی۔

4. آواز کا حکم (قرائت)

اگر مقتدی خواتین ہیں اور کوئی غیر محرم مرد وہاں موجود نہیں ہے، تو خاتون امام ان نمازوں میں (جیسے فجر، مغرب، عشاء) جن میں بلند آواز سے پڑھنا ہوتا ہے، بلند آواز سے قرائت کر سکتی ہے۔ لیکن اگر کوئی غیر محرم مرد آواز سن رہا ہو اور آواز میں کشش یا فتنے کا خوف ہو، تو احتیاطِ واجب کی بنا پر آواز کو دھیما رکھنا ضروری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha