حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ نجف اشرف حجۃ الاسلام و المسلمین سید صدرالدین قبانچی نے مبلغین کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام ایک عالمی دین ہے، اس لیے موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق تبلیغ کے جدید ذرائع کا استعمال ناگزیر ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ عالم دین کی قوتِ جذب، قوتِ دفع سے زیادہ ہونی چاہیے۔
یہ پروگرام دفتر امام جمعہ نجف اشرف کی جانب سے حسینیہ فاطمیہ میں منعقد ہوا، جس میں ماہِ رمضان المبارک کے موقع پر مرد و خواتین مبلغین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
انہوں نے شرکاء سے کہا: “ہم عالمی ہیں کیونکہ اسلام عالمی ہے۔ ہمیں اپنے تبلیغی وسائل کو نئے حالات کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ آج کا عالم دین ایسا ہونا چاہیے جو لوگوں کو اپنے اخلاق، کردار اور مثبت طرزِ عمل سے قریب کرے، نہ کہ دور کرے۔”
امام جمعہ نجف اشرف نے ملتِ عراق کے بارے میں شکوک و شبہات کو نادرست قرار دیتے ہوئے کہا کہ عراقی قوم کی شناخت اور وفاداری پر سوال اٹھانا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدام کی طاغوتی حکومت گرنے کے بعد عراق کا تجربہ مجموعی طور پر ایک کامیاب تجربہ رہا ہے، اگرچہ اسے بڑے چیلنجز اور مشکلات کا سامنا بھی رہا۔ ان کے بقول، کسی بھی اجتماعی تجربے میں بعض کمزوریاں ہو سکتی ہیں، لیکن قرآن کریم کا فرمان ہے: “بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں”۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشکلات کے باوجود عراقی عوام پر اعتماد اور مثبت نگاہ رکھنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق کا موجودہ سفر مشکلات سے خالی نہیں، لیکن یہ ایک امید افزا اور کامیاب راستہ ہے جسے کمزور نہیں سمجھنا چاہیے۔
سید صدرالدین قبانچی نے مزید کہا کہ اسلام کی دعوت کسی خاص خطے یا قوم تک محدود نہیں۔ آج عراق ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، لیکن ہمارے اہداف سرحدوں سے بالاتر ہیں اور پوری دنیا تک پھیلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ راستہ حضرت بقیۃ اللہ الاعظم (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے ظہور تک جاری رہے گا، جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔ لہٰذا خود کو جغرافیائی یا نسلی حدود تک محدود کرنا درست نہیں۔
اجتماع کے اختتام پر امام جمعہ نجف اشرف نے مبلغین کی آرا اور تجاویز سنیں اور ان کے ساتھ ایک دوستانہ اور کھلے مکالمے میں شرکت کی۔









آپ کا تبصرہ