ہفتہ 21 فروری 2026 - 13:30
ماہِ رمضان میں حقیقی روزے اور عالمی حالات پر بصیرت کی ضرورت ہے، علامہ شبیر حسن میثمی

حوزہ / علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی خطبہ جمعہ میں کہا: حقیقی روزہ وہ ہے جس میں انسان اپنی نگاہ، گفتار اور کردار کو گناہوں سے محفوظ رکھے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کراچی کے علاقے ڈیفنس میں واقع مسجد و امام بارگاہ بقیۃ اللہ میں جمعۃ المبارک ۲ رمضان المبارک ۱۴۴۷ھ بمطابق 20 فروری 2026ء کے خطبہ جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے خطیبِ جمعہ علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کہا: ماہِ رمضان اللہ تعالیٰ کی خاص مہمانی کا مہینہ ہے جس میں صرف بھوک اور پیاس کا نہیں بلکہ آنکھ، کان، زبان اور پورے وجود کے روزے کا اہتمام ضروری ہے۔

انہوں نے کہا: اہلِ بیت علیہم السلام نے عبادت کو صرف واجبات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے حسن، خشوع اور شعور کے ساتھ انجام دینے کا درس دیا ہے۔ حقیقی روزہ وہ ہے جس میں انسان اپنی نگاہ، گفتار اور کردار کو گناہوں سے محفوظ رکھے۔

خطیب جمعہ نے دعا، استغفار، شکرگزاری اور محمد و آلِ محمد علیہم السلام پر درود کو ماہِ رمضان کے اہم اعمال قرار دیا اور مومنین کو دعائے ابوحمزہ ثمالی اور دعائے افتتاح کی باقاعدہ تلاوت کی تلقین کی۔

علامہ شبیر میثمی نے خطبہ کے دوسرے حصے میں کراچی کے سولجر بازار میں سلنڈر دھماکے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ناقص منصوبہ بندی، غیر قانونی تعمیرات اور رشوت کے ذریعے این او سی دینے والے افراد اس سانحے کے اخلاقی اور شرعی طور پر ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے کہا: چند وقتی مفادات کے لیے انسانی جانوں سے کھیلنا شریعتِ جعفریہ کی رو سے سنگین جرم ہے۔

خطیب جمعہ نے عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا: دنیا اس وقت فریب پر مبنی نام نہاد امن منصوبوں کا مشاہدہ کر رہی ہے۔

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ امن منصوبوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ان میں فلسطین کا نام تک شامل نہیں، جبکہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں فلسطینی عوام کا ذکر موجود ہے۔ فلسطینیوں کو ان کی ہی سرزمین پر بے دخل کرنا کھلی جارحیت اور ظلم ہے اور اس پر خاموشی بھی جرم میں شراکت کے مترادف ہے۔

علامہ شبیر میثمی نے ایران کے حوالے سے جاری عالمی دباؤ اور مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: پابندیوں کے باوجود ایران کی استقامت دشمن کے لیے خود اس کی طاقت کا اعتراف بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا: یہ جنگ جغرافیائی نہیں بلکہ نظریاتی ہے جو اسلام اور کفر کے درمیان جاری ہے۔

خطیب جمعہ نے یورپی یونین کی خاموشی پر بھی تنقید کی اور کہا: عالمی اداروں کا دوہرا معیار آشکار ہو چکا ہے۔

انہوں نے آخر میں مومنین کو تقویٰ اختیار کرنے، وقت کو ضائع نہ کرنے، قرآن اور دعا سے وابستہ رہنے اور معاشرتی و دینی سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کی تلقین کی اور ملک و ملت کے امن، سلامتی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھی دعا کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha