حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ماہِ مبارک رمضان کی آمد اور نائجیریا کے مختلف علاقوں میں تفسیرِ قرآن کریم کے وسیع پیمانے پر پروگرام منعقد ہو رہے ہیں ساتھ ہی شیخ ابراہیم زکزاکی نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے مفسرین اور علمائے دین کو تقوائے الٰہی اختیار کرنے اور کلامِ وحی کے تقدس کی حفاظت کی تلقین کی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ تفسیر کے منبروں کو گالی گلوچ، طنز و کنایہ اور بے فائدہ مناظروں کا میدان بنانا قرآن کریم کی بے حرمتی اور ماہِ رمضان کے احترام کے منافی ہے۔
علم و تخصص کے بغیر تفسیر کے خطرات
رہبرِ تحریک اسلامی نائجیریا نے زور دے کر کہا کہ تفسیرِ قرآن کوئی سادہ اور سطحی کام نہیں، بلکہ مفسر درحقیقت مرادِ الٰہی کی وضاحت کے مقام پر فائز ہوتا ہے، جو ایک نہایت حساس اور خطیر ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص کسی عام انسان کی بات کو غلط معنی پہنائے تو وہ خطا کا مرتکب ہوتا ہے، تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی فرد بغیر علمی دقت اور اپنی ذاتی خواہشات کی بنیاد پر ربِّ العالمین کے کلام کی تشریح کرنے لگے؟
شیخ زکزاکی نے پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: “جو شخص قرآن کی تفسیر بغیر علم کے کرے یا اس میں اپنی رائے کو داخل کرے، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں تیار کر لے۔” انہوں نے اس روایت کو منصبِ تفسیر کی سنگینی کی واضح دلیل قرار دیا اور کہا کہ اس میدان میں ذاتی نظریات مسلط کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، بلکہ مقصد صرف اور صرف مرادِ خداوندی تک رسائی ہے۔
مفسر کے لیے اہلیت اور تخصص شرط
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہر شخص تفسیر کے میدان میں قدم رکھنے کا اہل نہیں ہوتا۔ اہلیت اور علومِ قرآنی میں مہارت بنیادی شرط ہے۔ جو افراد مطلوبہ علمی استعداد نہیں رکھتے، انہیں چاہیے کہ وہ پہلے علمی تربیت حاصل کریں یا معتبر اور صاحبِ نظر علماء کے بیانات سے استفادہ کریں۔
شیخ زکزاکی نے مزید کہا کہ ایک مفسر کو معتبر مصادر، گذشتہ مفسرین کی تفاسیر، لغوی اور روایتی منابع تک رسائی اور ان سے مسلسل رجوع ضروری ہے۔ علومِ تفسیر پر عبور ہر مفسر کے لیے ناگزیر ہے۔
ماہر علماء کی طرف رجوع کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ جس طرح مومنین فقہی مسائل میں مراجعِ تقلید کی طرف رجوع کرتے ہیں، اسی طرح قرآن کے معانی اور بطون کو سمجھنے کے لیے بھی اہل اور ماہر علماء کی رہنمائی ضروری ہے۔ ذاتی سلیقوں اور انفرادی آراء کی بنیاد پر قرآن کی تشریح کرنا درست نہیں۔
پیغام کے اختتام پر شیخ زکزاکی نے عوام اور خواص سب کو قرآن کریم کے مقام و منزلت کی پاسداری کی دعوت دی اور خبردار کیا کہ اگر تفسیر کی نشستوں کو الزام تراشی اور باہمی ردِّعمل کا میدان بنا دیا گیا تو اس کا نتیجہ تفرقہ اور کلامِ وحی کی معنوی برکتوں سے محرومی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔









آپ کا تبصرہ