بدھ 25 فروری 2026 - 22:32
ولایت امیر المومنین علیہ السلام ہی سعادت و نجات ہے

حوزہ/ دنیا کی چند روزہ بہار اگر حق سے جدا ہو تو خزاں کا پیش خیمہ ہے اور ولایت کے ساتھ تنگی بھی ہو تو وہی اصل بہار ہے۔ کامیابی دولت سے نہیں، نسبت سے ہے اور نسبت اگر مولا سے ٹوٹ جائے تو مسکراہٹ بھی مقدر کی تنہائی بن جاتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی |

ترجمہ و اضافات: مولانا سید علی ہاشم عابدی

"فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّىٰ إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُم بَغْتَةً فَإِذَا هُم مُّبْلِسُونَ" (سورہ انعام، آیت 44)

پھر جب ان نصیحتوں کو بھول گئے جو انہیں یاد دلائی گئی تھیں تو ہم نے امتحان کے طور پر ان کے لئے ہر چیز کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ ان نعمتوں سے خوشحال ہوگئے تو ہم نے اچانک انہیں اپنی گرفت میں لے لیا اور وہ مایوس ہوکر رہ گئے۔

عن أبي جعفر - عليه السّلام- : في قول اللّه - تعالى-: فَلَمّٰا نَسُوا مٰا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنٰا . قال: لمّا تركوا ولاية عليّ - عليه السّلام

جناب ابو حمزہ ثمالی نے امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں فرمایا: "فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا..."‌ (جب لوگوں نے اس چیز کو ترک کر دیا جس کی انہیں یاد دہانی کرائی گئی تھی.) یعنی انہوں نے علی بن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کو چھوڑ دیا، حالانکہ انہیں اس کا حکم دیا گیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: "أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ"

پھر ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا، اور وہ یکایک مایوس ہو کر رہ گئے۔ "فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"

پس ان ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی، اور تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔

امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: یہ آیت بنی عباس کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (تفسیر نور الثقلین، جلد 1، صفحہ 719)

امام امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: "فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ … فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ" (پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو بھلا دیا جو انہیں کی گئی تھی … تو اچانک وہ مایوس ہو کر رہ گئے) کے بارے میں فرمایا: "بنی امیہ کو اچانک پکڑا گیا (یعنی ان پر ناگہانی عذاب یا زوال آیا)، اور بنی عباس کو علانیہ طور پر پکڑا جائے گا۔" یعنی ایک کا انجام اچانک اور غیر متوقع تھا، جبکہ دوسرے کا انجام کھلے طور پر اور نمایاں صورت میں ظاہر ہوگا۔ (تفسیر برہان، جلد 2، صفحہ 420)

امام علی نقی ہادی علیہ السلام سے روایت ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام کے غلام جناب قنبر رضوان اللہ تعالی علیہ کو جب حجاج بن یوسف ملعون کے سامنے پیش کیا گیا تو حجاج نے پوچھا: تم علی بن ابی طالب (علیہ السلام) کے کس کام کی انجام دہی کرتے تھے؟ جناب قنبر نے جواب دیا: میں ان کے لئے وضو کا اہتمام کرتا تھا۔

حجاج نے پوچھا: جب وہ وضو سے فارغ ہوتے تھے تو کیا پڑھتے تھے؟ جناب قنبر نے کہا: وہ یہ آیت تلاوت فرماتے تھے: "فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتّىٰ إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ"

(پھر جب انہوں نے وہ نصیحت بھلا دی جو انہیں کی گئی تھی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے، یہاں تک کہ جب وہ دی ہوئی نعمتوں پر خوش ہو گئے تو ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا، پس وہ ناامید رہ گئے۔ پھر ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی، اور ساری تعریف اللہ کے لئے ہے جو عالمین کا رب ہے۔)

حجاج نے کہا: وہ اس آیت کو ہمارے بارے میں تاویل کرتے تھے؟ قنبر نے جواب دیا: ہاں۔

حجاج نے کہا: جب میں تمہیں قتل کروں گا تو تم کیا کرو گے؟ قنبر نے کہا:‌ (اگر تم مجھے قتل کرو گے) تو میں سعادت پا جاؤں گا اور تو بدبخت ہو جائے گا۔ پس حجاج نے ان کے قتل کا حکم دے دیا۔ (بحار الانوار، جلد 77، صفحہ 315)

امام محمد باقر علیہ السلام نے آیت "فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ" (پس جب انہوں نے اُس چیز کو بھلا دیا جس کی انہیں یاد دہانی کرائی گئی تھی) کے بارے میں فرمایا: "تركوا ولاية عليّ ابن أبي طالب عليه السلام و قد أمروا بها فَتَحْنٰا عَلَيْهِمْ أَبْوٰابَ كُلِّ شَيْءٍ دولتهم في الدنيا و ما يسط لهم فيها أَخَذْنٰاهُمْ بَغْتَةً يعني بذٰلك قيام القائم صلوات اللّٰه عليه حتّى كأنّهم لم يكن لهم سلطان قطّ." یعنی جب انہوں نے علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی ولایت کو ترک کر دیا، حالانکہ انہیں اس کا حکم دیا گیا تھا۔ "فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ" یعنی ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے — یعنی دنیا میں ان کی حکومت قائم ہو گئی اور دنیا کی وسعتیں اور نعمتیں انہیں عطا کر دی گئیں۔ "أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً" یعنی پھر ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا — اس سے مراد حضرت قائم صلواۃ اللہ علیہ کا قیام ہے، گویا ان (ظالموں) کے لئے کبھی کوئی حکومت تھی ہی نہیں۔ (تفسیر صافی، جلد 2، صفحہ 121)

مذکورہ آیت اور روایات سے واضح ہوتا ہے کہ دنیا جب مسکراتی ہے تو ہر آنکھ اسے کامیابی سمجھ لیتی ہے، مگر قرآن کریم کے مطابق کبھی یہی مسکراہٹ مہلت ہوتی ہے۔ “فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ…”

دروازے کھلتے ہیں، خزانے ملتے ہیں، اقتدار بڑھتا ہے — اور دل غفلت میں ڈوب جاتا ہے۔

امام محمد باقر علیہ السلام کی حدیث کے مطابق جب لوگوں نے ولایتِ علی بن ابی طالب علیہ السلام کو چھوڑ دیا تو نعمتوں کے دروازے کھل گئے؛ مگر وہ نعمتیں نجات نہ بن سکیں۔ وہ خوشی عارضی تھی، انجام اچانک تھا: “أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ” — ایک لمحہ، اور سب خاموش۔ یعنی ولایت چراغ ہے؛ چراغ بجھ جائے تو محل بھی اندھیرا ہو جاتا ہے۔

دنیا کی چند روزہ بہار اگر حق سے جدا ہو تو خزاں کا پیش خیمہ ہے اور ولایت کے ساتھ تنگی بھی ہو تو وہی اصل بہار ہے۔

کامیابی دولت سے نہیں، نسبت سے ہے اور نسبت اگر مولا سے ٹوٹ جائے تو مسکراہٹ بھی مقدر کی تنہائی بن جاتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha