۱۰ اسفند ۱۳۹۹ | Feb 28, 2021
IMG-20210218-WA0063.jpg

حوزہ/ دسویں امام علی نقی علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے موقع پر جامعہ امامیہ تنظیم المکاتب میں آن لائن جلسہ سیرت منعقد کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لکھنو/ دسویں امام علی نقی علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے موقع پر جامعہ امامیہ تنظیم المکاتب میں آن لائن جلسہ سیرت منعقد ہوا۔

مراجع کرام کی مخالفت امام معصوم کی مخالفت ہے، مولانا سید صبیح الحسین رضوی

مراجع کرام کی مخالفت امام معصوم کی مخالفت ہے، مولانا سید صبیح الحسین رضوی

جلسہ کا آغاز مولوی سید میثم رضا موسوی متعلم جامعہ امامیہ نے تلاوت قرآن کریم سے کیا۔ بعدہ مولوی محمد صادق معروفی متعلم جامعہ امامیہ نے زیارت جامعہ کبیرہ کے چند فقرات کی تلاوت کی اور اس کا ترجمہ پیش کیا۔

مراجع کرام کی مخالفت امام معصوم کی مخالفت ہے، مولانا سید صبیح الحسین رضوی

مراجع کرام کی مخالفت امام معصوم کی مخالفت ہے، مولانا سید صبیح الحسین رضوی

مراجع کرام کی مخالفت امام معصوم کی مخالفت ہے، مولانا سید صبیح الحسین رضوی

مولوی سید صفی حیدر رضوی متعلم جامعہ امامیہ ، مولوی سید ظفر عباس متعلم جامعہ امامیہ اور مولوی نثار حسین متعلم جامعہ امامیہ نے بارگاہ امام ہادیؑ میں منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا۔

مراجع کرام کی مخالفت امام معصوم کی مخالفت ہے، مولانا سید صبیح الحسین رضوی

مراجع کرام کی مخالفت امام معصوم کی مخالفت ہے، مولانا سید صبیح الحسین رضوی

مولوی نجیب حیدر متعلم جامعہ امامیہ اور مولوی سید فیض حیدر رضوی متعلم جامعہ امامیہ نے تقریر کی۔

مولانا علی ہاشم عابدی

مولانا سید علی ہاشم عابدی صاحب استاد جامعہ امامیہ نے حضرت امام علی نقی علیہ السلام کے اصحاب و شاگردان جناب فضل بن شاذان ؒ ، حضرت عبدالعظیم حسنی علیہ السلام کی حیات طیبہ کو بیان کرتے ہوئے شہید راہ ولایت جناب ابن سکیت رحمۃ اللہ علیہ کی شجاعت و شہادت بیان کی کہ جب متوکل نے ابن سکیتؒ سے اپنے بیٹوں معتز اور مؤید کا حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے بیٹوں حسنین کریمین علیہماالسلام سے مواذنہ کرتے ہوئے سوال کیا تو آپ نے بے ساختہ فرمایا: حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے غلام قنبر تم سے اور تمہارے بیٹوں سے افضل ہیں۔ یہ سننا تھا کہ متوکل نے ابن سکیت کے قتل کا حکم دیا اور انہیں شہید کرا دیا۔

مراجع کرام کی مخالفت امام معصوم کی مخالفت ہے، مولانا سید صبیح الحسین رضوی

مولانا سید تہذیب الحسن صاحب قبلہ استاد جامعہ امامیہ نے بیان کیا کہ حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے دیگر ائمہ کی طرح غدیر اور عاشورہ کو زندہ رکھا۔روز غدیر کی زیارت اور اسی طرح جب آپ مریض ہوئے تو اپنے ایک صحابی کو مامور کیا کہ وہ کربلا جائیں اور آپ کی صحت کی دعا کریں ۔ جب کہ آپ امام اور حجت خدا تھے اگر صرف ارادہ کر لیتے تو صحت یاب ہو جاتے اور وہ زمانہ بھی متوکل جیسے ظالم و ستمگر زمانہ کا تھا لیکن امام علی نقی علیہ السلام کے نزدیک زیارت حسینؑ کی عظمت و فضیلت تھی۔ کیوں کہ غدیر اور کربلا اسلام کی بقا کی ضامن ہیں لہذا امام نقیؑ اور دیگر ائمہ علیہم السلام نے ہمیشہ اسے زندہ رکھا اور اس کی تاکید کی۔

مراجع کرام کی مخالفت امام معصوم کی مخالفت ہے، مولانا سید صبیح الحسین رضوی

مولانا سید صبیح الحسین صاحب قبلہ رکن مجلس انتظام تنظیم المکاتب نے بیان کیا کہ اگرچہ بنی عباس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا عباس کی نسل سے تھے اور انھوں نے اہل بیتؑ کے نام پر حکومت حاصل کی لیکن جب انہیں حکومت مل گئی تو انھوں نے بنی امیہ سے زیادہ ظلم کیا ۔ امام علی نقی علیہ السلام نے تمام تر ظالم عباسی حکمرانوں کی پابندیوں کے باوجود اپنے شیعوں اور چاہنے والوں پر مکمل نظر رکھی انکی ہدایت کے لئے مختلف علاقہ جات میںاپنے نمایندے اور وکیل مقرر کئے، جیسے آج عصر غیبت میں مراجع کرام امام علیہ السلام کے نمایندہ ہیں اور نمایندہ مقرر کرنا سنت الہیہ ہے اور اس کی مخالفت یعنی مراجع کی مخالفت امام معصوم کی مخالفت ہے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
7 + 2 =