۱۰ اسفند ۱۳۹۹ | Feb 28, 2021
ہندوستانی کسان تحریک

حوزہ/ ہماری سب سے پہلے ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم کسانوں کی حمایت کریں کسانوں پر ہو رہے ظلم کی مخالفت کریں اور ظالموں کے خلاف آواز بلند کریں کیوں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ الصلوۃ والسلام سے کسانوں کے سلسلے میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اے علی خیال رہے کہ تمہاری حکومت میں کسانوں پر ظلم نہں ہونا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں ہونے والے واقعات کی وجہ سے آج ہر زبان پر ہندوستان میں کسان کا چرچا ہے کسان کون ہیں ان کی اہمیت کیا ہے کسانوں کے کیا حالات ہیں اور کسانوں کے سلسلے میں اسلامی نقطہ نگاہ کیا ہے اور کسانوں پر ظلم کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں 

تو سب سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کسان کون ہیں اور ہمارے معاشرے میں وہ کس اہمیت کے حامل ہیں ؟
کسان ہمارے معاشرے کے ایک بہت اہم حصہ ہیں کیونکہ وہ معاشرے کے لئے اناج اور فائبر تیار کرتا ہیں جس کے ذریعے افراد معاشرہ کھانے اور کپڑے کا انتظام کرتے ہیں، کسان ہمارے ملک کی اکانومی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اقتصاد کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، ملک کے روزگار کا ساٹھ فیصد حصہ کسان سے مرتبط ہے اور جی ڈی پی کے مسلسل اضافہ کرتے رہنے میں بھی کسان کا ایک اہم کردار ہے کسان وہ ہیں جو فصل کی بہتری کے لیے قدرتی وسائل یعنی اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں اور یہ لوگ اس سلسلے میں بہت زیادہ محتاط اور ذمہ دار ہوتے ہیں ہندوستان میں کسان اور کسانوں سے مربوط افراد ملک کے حالات کو بہتر بنانے میں بہترین ماحول تیار کرتے ہیں ۔

اب آئیے دیکھتے ہیں کہ اسلامی نقطہ نگاہ میں کسانوں کی کیا اہمیت ہے ؟

قرآن کریم میں کسانوں کی اہمیت کے سلسلے میں ارشاد ہوا ہے: کیا تم نے غور کیا جو بیج تم بوتے ہو اسے تم اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں؟ اس آیہ کریمہ سے کسان کی اہمیت کا اندازہ بخوبی ہو جاتا ہے بیج بونے سے لے کر فصل اگانے تک اور فصل لگانے سے لے کر فصل کی حفاظت کے سارے کام کسان انجام دیتا ہے لیکن خدا کی نگاہ میں یہ کام اتنا مبارک ہے کہ اسے خود اپنی طرف نسبت دے رہا ہے، اسی طرح قرآن مجید کی دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے: مومنین ہیں جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں ۔

امام صادق علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا :بھروسہ کرنے والے مومنین سے مراد کسان ہیں۔
 یعنی اپنے کاموں میں سب سے زیادہ اللہ پر بھروسہ کرنے والے کسان ہوتے ہیں اس کے علاوہ امام صادق علیہ السلام کسانوں کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کسانوں کو زمین میں اللہ کا خزانہ قرار دیتے ہیں چنانچہ اس روایت میں ارشاد ہوا :جب امام کے صحابی نے کسانوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا :کسان زمین پر اللہ کا خزانہ ہیں۔ کافی جلد 5 صفحہ 206 
کسانی کی اہمیت کیلئے اس کے علاوہ یہی کافی ہے کہ ائمہ اور انبیاء علیہ السلام کسانی کو ہی ترجیح دیا کرتے تھے ،امام صادق علیہ السلام اس سلسلے میں یوں فرماتے ہیں :اللہ کے نزدیک کسانی اور کھیتی سے زیادہ محبوب کوئی عمل نہیں ہے اللہ نے کسی نبی کو نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہ کسان بھی تھا سوائے ادریس نبی کے کہ وہ درزی تھے ۔کافی جلد 5 صفحہ 206 
روز قیامت شغل اور کام کی وجہ سے جن کا مرتبہ سب سے زیادہ ہوگا اور جو اللہ کے سب سے زیادہ نزدیک ہوں گے  وہ کسان ہوں گے انہی روز قیامت مبارک کہہ کر بلایا جائے گا اس سلسلے میں امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :کسان لوگوں کا خزانہ ہیں جو پاکیزہ چیزوں کی کھیتی کرتے ہیں جسے اللہ زمین پر اگاتاہے تو روز قیامت مقام کے اعتبار سے سب سے بہترین لوگ یہ ہوں گے اور مرتبہ کے لحاظ سے اللہ سے سب سے زیادہ قریب جنہیں مبارک کہہ کر بلایا جائے گا ۔وسائل الشیعہ جلد 13 صفحہ 194 
ائمہ علیہم السلام کی یہ کام کیا کرتے تھے اور کسانی کی تشویق بھی کرتے تھے  مولائے کائنات امیرالمومنین علی علیہ الصلاۃ والسلام تمام مصروفیات کے باوجود زراعت کیا کرتے تھے جس کے نتیجے میں متعدد باغات وجود میں آئے ۔

اب یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ملک عزیز ہندوستان میں کسانوں کے کیا حالات ہیں ؟
این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی تقریبا آدھی آبادی کسان ہے یا کسانیت سے مربوط ہے، کسان یعنی وہ لوگ جو زمین کے مالک ہیں یا کھیتی کرتے ہیں ملک کے 80 فیصد کسانوں کے پاس ایک ہی ہیکٹر زمین ہے یا زیادہ سے زیادہ ایک سے دو ہکٹر زمین ہے ملک کے روزگار کا ساٹھ فیصد حصہ کسانوں سے مربوط ہے لیکن سب سے زیادہ خراب حالت کسانوں کی ہی ہے ،این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں روز بروز کسانوں کی خودکشی کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے سن 2018 اور 2019 میں بیس ہزار سے زیادہ کسانوں نے خودکشی کی، این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ہر روز 28 کسان خودکشی کرتے ہیں ،ایک سروے کے مطابق کھیتی میں آنے والی مشکلات کی وجہ سے چھتر پرسنٹ کسان اس کام کو چھوڑنا چاہتے ہیں ۔

آئیے اب یہ جانتے ہیں کہ ہندوستان میں کسانوں کی بری حالت کیوں ہے اور وہ خود کشی کیوں کرتے ہیں ؟
این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2014 میں  ہندوستان میں کسانوں کی خودکشی کی وجہ اس طرح ہیں : سن 2014 میں کسانوں کی خودکشی کی اہم وجہ قرضوں کا ادا نہ کر پانا دیوالیہ ہو جانا فصلوں کا خراب ہو جانا فیملی پروبلمس اور ڈرگس شراب کا استعمال ہے۔ سن 2014 میں کسانوں کی خودکشی کی اہم وجہ قرضوں کا ادا نہ کر پانا دیوالیہ ہو جانا فصلوں کا خراب ہو جانا فیملی پروبلمس اور ڈرگس شراب کا استعمال ہے۔ لیکن کچھ دوسری رپورٹس میں کسانوں کی خودکشی کی کچھ دوسری اہم وجہ بھی بتائی گئی ہیں جیسے کہ کسانوں کو فصل کی اچھی قیمت نہ ملنا بارش کی وجہ سے فصل کا خراب ہو جانا خراب بیج کی وجہ سے اچھی فصل پیدا نہ ہونا زمینوں کا مہنگا ہونا کھیت میں کام کرنے والوں کا نہ ہونا عہدے داروں کا بدعنوانی میں ملوث ہونا اور قانون کا غلط استعمال کر کے کسانوں کو پریشان کرنا جیسی مشکلات بیان کی گئی ہیں ۔ کسانوں کو فصل کی اچھی قیمت نہ ملنا بارش کی وجہ سے فصل کا خراب ہو جانا خراب بیج کی وجہ سے اچھی فصل پیدا نہ ہونا زمینوں کا مہنگا ہونا کھیت میں کام کرنے والوں کا نہ ہونا عہدے داروں کا بدعنوانی میں ملوث ہونا اور قانون کا غلط استعمال کر کے کسانوں کو پریشان کرنا جیسی مشکلات بیان کی گئی ہیں ۔

تو ابھی تک جو باتیں ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کی ان سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہندوستان میں کسانوں کی حالت کس قدر خراب ہے اور وہ کن مشکلات سے جوجھ رہے ہیں ۔

اب آئیے دیکھتے ہیں کہ اس سلسلے میں ہماری کیا ذمہ داری ہے اور کسان کے برے حالات کا اثر معاشرے پر کیا پڑھ سکتا ہے ؟

ہماری سب سے پہلے ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم کسانوں کی حمایت کریں ان کے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کریں کھیتی اور کسانی کے عمل کو فروغ دیں اور لوگوں کو اس سے آشنا کرائیں کسانوں پر ہو رہے ظلم کی مخالفت کریں اور ظالموں کے خلاف آواز بلند کریں کیوں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ الصلوۃ والسلام سے کسانوں کے سلسلے میں تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اے علی خیال رہے کہ تمہاری حکومت میں کسانوں پر ظلم نہں ہونا چاہیے۔ وسائل الشیعہ جلد 19 صفحہ 62 
کسانوں پر ظلم اور ان کے لئے مشکلات پیدا کرنا ملک کی تباہی اور بربادی کا سبب ہے ۔
امام علی علیہ السلام جناب مالک اشتر کو مصر کا گورنر بنانے کے بعد یوں لکھتے ہیں :کسانوں سے ٹیکس لینے سے زیادہ زمینوں کو آباد کرنے کی فکر کرنا کیونکہ زمینوں کو آباد کیے بغیر ٹیکس نہیں لیا جا سکتا جو حاکم زمینوں کو آباد کیے بغیر ٹیکس لیتا ہے  گویا وہ شہر ہے اور لوگوں کو برباد کرتا ہے لہذا کسان جب بھی تمہارے پاس پانی کی کمی بارش نہ ہونے کا فیصلہ خراب ہو جانے ۔۔۔کی فریاد لے کر آئیں تو ان کی مشکل کے لئے آسانی فراہم کرنا ۔نہج البلاغہ خطبہ 53 
کسانوں پر ظلم کا سیدھا اثر ہمارے معاشرے پر پڑتا ہے معاشرہ اقتصادی اور ثقافتی اعتبار سے کمزور پڑنے لگتا ہے اور جس کے نتیجے میں معاشرے میں چوری بدعنوانی اور دھوکا دھڑی جیسی برائیاں رائج ہونے لگتی ہیں اور ایسے معاشرے کا انجام ہلاکت اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔
روایت کے مطابق کسان زمین پر اللہ کا خزانہ ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کھیتی ہے ذرا سوچیں اگر خزانہ لٹ جائے گا تو عوام کا کیا حال ہوگا ۔

اب تک جو باتیں ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کی ان کا نتیجہ :
١۔  کسان ہمارے معاشرے کا ایک اہم حصہ ہے جس کی زحمتوں اور نتیجہ میں ہمیں کپڑے اور انا ج جیسی بیش بہا قیمتی چیزیں نصیب ہوتی ہیں ۔
٢۔  ملک عزیز کے تقریبا آدھی آبادی یا کسان ہے یا کسیانی سے مربوط ہے ۔
٣۔  کسان ملک کی اکانومی بنائے رکھنے میں بہترین کردار ادا کرتے ہیں ۔
۴۔  اسلامی نقطہ نگاہ سے کسان زمین پر اللہ کا خزانہ ہے اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل ہوتی ہے ۔
۵۔  ملک عزیز میں کسانوں کی خودکشی کی بڑھتی ہوئی شرح ان کی زبوں حالی کی گواہ ہے ۔
٦۔  کسانوں پر ظلم کرنا اور ان کی مشکلات بڑھا نا ملک اور معاشرے کی بربادی کا سبب ہے ۔
٧۔  ہماری ذمہ داری ہے کہ کسانوں کی حمایت کریں اور اور ظالموں کے خلاف آواز بلند کریں ۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 4 =