حوزه نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ مظاہری نے اجتماعی شادی کی ایک تقریب کے موقع پر نئے شادی شدہ جوڑوں کو اہم اور فکرانگیز نصیحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شادی قرآن کریم کی نظر میں چار بنیادی اور اہم ابعاد کی حامل ہے، جنہیں اگر زندگی کا لائحۂ عمل بنا لیا جائے تو ازدواجی زندگی پائیدار، بامقصد اور بابرکت بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شادی انسان کی زندگی کا ایک فیصلہ کن موڑ ہے، جس کی اہمیت اس قدر ہے کہ قرآن کریم نے اسے اپنی نشانیوں میں شمار کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
«وَ مِنْ آیَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَکُمْ مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْکُنُوا إِلَیْهَا»
یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تم ہی میں سے جوڑے بنائے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ اس طرح شادی کو سکون و اطمینان کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
آیت اللہ مظاہری نے مزید وضاحت کی کہ قرآن نے میاں بیوی کے رشتے کو مودّت اور رحمت کا مرکز بھی قرار دیا ہے:
«وَ جَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَدَّةً»
یعنی اللہ نے تمہارے درمیان محبت پیدا کی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ازدواجی زندگی صرف ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ باہمی محبت اور رحمت کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیسرا اہم پہلو نسل انسانی کا تحفظ اور بقا ہے۔ قرآن فرماتا ہے:
«وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَکُمْ مِنْ أَنْفُسِکُمْ أَزْوَاجًا وَ جَعَلَ لَکُمْ مِنْ أَزْوَاجِکُمْ بَنِینَ وَ حَفَدَةً»
یعنی اللہ نے تمہارے لیے جوڑے بنائے اور تمہیں اولاد عطا کی۔ اس طرح نکاح کو نسل کی بقا اور فطری خواہش کی تکمیل کا واحد مشروع راستہ قرار دیا گیا ہے۔
چوتھا پہلو عفت و پاکدامنی کا تحفظ ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:
«هُنَّ لِبَاسٌ لَکُمْ وَ أَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ»
یعنی تم ایک دوسرے کے لیے لباس ہو۔ اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے تحفظ، پردہ اور سہارا ہیں اور ایک دوسرے کو گناہوں اور اخلاقی انحراف سے بچانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
آیت اللہ مظاہری نے تاکید کی کہ انہی قرآنی اصولوں کی بنیاد پر خاندان کا مقدس ادارہ وجود میں آتا ہے، جو نہ صرف مرد و عورت کی فطری، روحانی، نفسیاتی اور جسمانی ضروریات کا خیال رکھتا ہے بلکہ پورے معاشرے کی بنیاد بھی ہے۔ اگر خاندان مضبوط ہو تو معاشرہ بھی مستحکم اور باوقار ہوتا ہے۔
انہوں نے نئے شادی شدہ جوڑوں کو نصیحت کی کہ وہ ازدواجی زندگی کے آغاز ہی سے ان قرآنی اصولوں کو اپنا رہنما اصول بنائیں، انہیں ہمیشہ پیشِ نظر رکھیں اور قرآن کریم اور عترتِ طاہرہ علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں اپنی زندگی ترتیب دیں، تاکہ ان کی زندگی اخلاق، معنویت، پاکیزہ جذبات اور بامقصد اہداف سے سرشار ہو اور دنیا و آخرت کی سعادت کا ذریعہ بن سکے۔









آپ کا تبصرہ