حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم مرجعِ دین آیت اللہ سیّد ابوالقاسم کوکبی تبریزی نے زائرِ امام حسینؑ کے اجر و ثواب کے بارے میں ایک ایمان افروز واقعہ بیان فرمایا ہے، جو اہلِ دل حضرات کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
استادِ محترم حاج سیّد باقر موسوی درچہای لکھتے ہیں کہ حجت الاسلام شیخ غلام رضا توکلی "جو معروف خطیب اور قریبی دوست تھے" نقل کرتے ہیں کہ آیت اللہ سیّد ابوالقاسم کوکبی کے ایک قریبی شاگرد سیّد حسین موسوی نے بیان کیا: “میں تبلیغی سفر پر روانہ ہونے سے پہلے آیت اللہ کوکبی کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ وہ راہِ سفر کے لیے کوئی نصیحت فرمائیں۔”
آیت اللہ کوکبی نے فرمایا: “میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا ہے، اسے منبر پر لوگوں کے سامنے بیان کرنا تاکہ وہ جان سکیں کہ وہ کس ہستی کے لیے گریہ کرتے ہیں۔”
فرمایا: “ہم ایک مرتبہ پیدل کربلا گئے۔ راستے میں سخت تکلیفیں برداشت کیں۔ ہمارے پاؤں زخمی ہو گئے، خون جاری ہوا اور چھالے پڑ گئے۔ جب کربلا پہنچے تو غسل کیا اور حرمِ حضرت اباعبداللہ الحسینؑ میں حاضری دی۔
میں نے ضریحِ مبارک کی طرف نگاہ کی اور عرض کیا: ‘یا حسینؑ! آپ کی زیارت کے بارے میں روایات میں بے شمار فضائل نقل ہوئے ہیں، لیکن میں چاہتا ہوں کہ ان فضائل میں سے کوئی ایک چیز مجھے خود اپنی آنکھوں سے دکھا دیں۔’
زیارت کے بعد میں قیام گاہ واپس آیا، کھانا کھایا اور سو گیا۔ خواب میں دیکھا کہ قیامت برپا ہے اور میرا نام پلِ صراط سے گزرنے کے لیے پکارا جا رہا ہے۔
میں آگے بڑھا تو دیکھا کہ پلِ صراط بال سے بھی زیادہ باریک ہے، ایسا کہ اس کا تصور بھی مشکل ہے، مگر مسلسل حکم دیا جا رہا ہے کہ عبور کرو۔ شدّتِ تاکید سے سمجھ گیا کہ گزرنا ہی ہوگا۔
میں نے قدم بڑھایا اور جیسے ہی اس باریک پل پر پاؤں رکھا تو دیکھا کہ وہ پل تبریز کے بنے ہوئے مخملی کناروں والے قالین میں تبدیل ہو گیا۔ میں نہایت اطمینان سے اس پر چلنے لگا۔
چلتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ کوئی میرے پیچھے ہے۔ مڑ کر دیکھا تو حضرت اباعبداللہ الحسینؑ تشریف فرما ہیں اور میری طرف نگاہِ کرم فرما رہے ہیں۔
پھر حضرتؑ نے فرمایا: سیّد ابوالقاسم! تم چاہتے تھے کہ زائر کا اجر و پاداش اپنی آنکھوں سے دیکھو؟ دیکھ لو، میرے زائر کے لیے پلِ صراط کی کیفیت یہی ہو جاتی ہے۔’”
ماخذ: کتاب العین الحلوة، صفحات 154-155۔









آپ کا تبصرہ