جمعہ 27 فروری 2026 - 17:39
جناب خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کا آئمہ معصومین علیہم السلام کی نگاہ میں مثالی سفر

حوزہ/ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیھا کا دل نبوت کے آفتاب کے انتظار میں دھڑکتا تھا۔ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امانت داری نے ان کے قلبِ مطہر کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت سے معمور کردیا۔

تحریر: مقداد علی علوی

حوزہ نیوز ایجنسی I

نسبت خاک کجا با عالم آفتاب؟

یہ پہلا جملہ ہے جو اس عظیم ہستی کے بارے میں لکھنے والے کے قلم کو روک دیتا ہے۔ محسنہ اسلام، ملیکۃ العرب، اُم المومنین، صدفِ کوثر یہ القاب جب حضرت خدیجۃ الکبریٰ (سلام اللہ علیہا) کے نام کے ساتھ ملتے ہیں تو انسان اندازہ لگانے سے قاصر رہ جاتا ہے کہ یہ شخصیت کس قدر بلند تھی۔یہ تحریر شہرت کی بلندیوں سے بندگی کی گہرائیوں تک کے اس بے مثال سفر کی داستان ہے۔

زمانۂ جاہلیت اور طلوعِ ستارۂ رحمت

دورِ جاہلیت کے اندھیروں میں، جب معاشرہ ظلم و تعصب کا شکار تھا، مکہ کے دامنِ کوہ میں جناب خویلد کے گھر ایک ستارہ چمکا۔ خدیجۂ کبریٰ سلام اللہ علیہا بعثت نبوی سے 15 سال قبل پیدا ہوئیں اور 65 برس کی عمر میں 10 رمضان المبارک کو دنیا سے رخصت ہوئیں۔یہ وہی سال تھا جب حضرت ابوطالب علیہ السلام بھی وفات پا گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سال کو "عامُ الحُزن" (غم کا سال) قرار دیا۔

(بحوالہ: ایمان ابی طالب، ج1، ص261)

طاہرہ سے ملیکہ تک: نسب اور کردار کی معراج:

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا محض "ملیکۃ العرب" نہ تھیں، بلکہ زمانۂ جاہلیت میں بھی انہیں"طاہرہ" (پاک دامن) کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ان کا نسب تین واسطوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملتا ہے۔ دونوں کا سلسلہ قصی پر منتہی ہوتا ہے، گویا وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چچا زاد بہن تھیں۔

(بحوالہ: الطبقات الکبریٰ، ج8، ص11)

ملیکۃ العرب سے خادمۃ نبوت تک

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیھا کا دل نبوت کے آفتاب کے انتظار میں دھڑکتا تھا۔ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امانت داری نے ان کے قلبِ مطہر کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت سے معمور کردیا۔ شادی کے موقع پر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس جانے لگے تو انہوں نے فرمایا:إِلَی بَيْتِكَ فَبَيْتِي بَيْتُكَ وَ أَنَا جَارِيَتُكَ

(بحوالہ: بحارالانوار، ج16، ص3)(میرے گھر چلیں، میرا گھر آپ کا ہے اور میں آپ کی کنیز ہوں)۔ اس طرح ملیکۃ العرب نے دنیا کی سرداری ٹھکرا کر خادمۃ الاسلام بننے کا اعلان کردیا۔

آئمہ معصومین علیہم السلام کی نگاہ میں جناب خدیجہ سلام اللہ علیہا

1. جنت کی بشارت اور سلامِ الٰہی

امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:شبِ معراج جبرائیل نے کہا: اللہ تعالیٰ نے خدیجہ کو سلام بھیجا ہے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے یہ سلام پہنچایا تو حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے جواب دیا:إِنَّ اللہَ ھُوَ السَّلَامُ وَ مِنْهُ السَّلَامُ وَ إِلَیْهِ السَّلَامُ"(بے شک اللہ ہی سلام ہے، اسی سے سلام ہے اور اسی کی طرف سلام ہے)

(بحوالہ: تفسیر العیاشی، ج2، ص279)

اور پھر وہی جنت کا وہ گھر "بیت فی الجنۃ من قصب" جس کی بشارت دی گئی۔

2. خدا کا فرشتوں پر فخر

امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ص) نے تنہائی کے ایام میں حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کو پیغام بھیجا:اے خدیجہ! اللہ تعالیٰ روزانہ کئی بار تمہارے ذریعے فرشتوں پر فخر کرتا ہے۔"

(بحوالہ: بحارالانوار، ج16، ص78)

3. شفاعت کا عظیم مقام

امام جعفر صادق علیہ السلام نے آیت "وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ" (اعراف/46) کی تفسیر میں فرمایا:جنت اور جہنم کے درمیان ایک مقام ہے جس پر محمد، علی، حسن، حسین، فاطمہ اور خدیجہ علیھم السلام کھڑے ہوں گے۔ وہ شیعوں کو پہچان کر ان کے ہاتھ تھام لیں گے اور انہیں جنت میں داخل کر دیں گے۔

(بحوالہ: بحارالانوار، ج24، ص255)

4. خیرُالنِّساء فی زمانھا

حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:خَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ وَ خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ"

(اپنے زمانے کی بہترین خاتون خدیجہ ہیں اور اپنے زمانے کی بہترین خاتون مریم ہیں) (بحوالہ: بحارالانوار، ج16، ص7)

اور امام حسن و امام حسین علیہ السلام کا تعارف کرواتے ہوئے فرمایا: أَ لاَ أَدُلُّكُمْ عَلَی‌ خَيْرِ اَلنَّاسِ جَدّاً وَ جَدَّةً؟ قُلْنَا: بَلَی‌ يَا رَسُولَ اَللَّهِ ، قَالَ: اَلْحَسَنُ وَ اَلْحُسَيْنُ أَنَا جَدُّهُمَا سَيِّدُ اَلْمُرْسَلِينَ، وَ جَدَّتُهُمَا خَدِيجَةُ اَلْكُبْرَی‌ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ اَلْجَنَّةِ.ان کے نانا رسول اللہ ہیں اور ان کی نانی خدیجۃ الکبریٰ ہیں، جو جنت کی خواتین کی سردار ہیں۔"

(بحوالہ: الانصاف فی النص علی الائمۃ، ج1، ص378)

5. پاکیزہ مال کی قربانی، اولاد کی برکت

حضرت علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:فَقَالَ مَا أَبْدَلَنِيَ اَللَّهُ خَيْراً مِنْهَا صَدَّقَتْنِي إِذْ كَذَّبَنِيَ اَلنَّاسُ وَ وَاسَتْنِي بِمَالِهَا إِذْ حَرَمَنِيَ اَلنَّاسُ وَ رَزَقَنِيَ اَللَّهُ اَلْوَلَدَ مِنْهَا وَ لَمْ يَرْزُقْنِي مِنْ غَيْرِهَا. اللہ نے مجھے خدیجہ سے بہتر کوئی عورت نہیں دی۔ جب لوگوں نے جھٹلایا تو اس نے تصدیق کی، جب لوگوں نے محروم کیا تو اس نے اپنے مال سے مدد کی، اور اللہ نے مجھے اسی سے اولاد عطا کی۔

(بحوالہ: الإفصاح فی الامامۃ، ج1، ص217)

خدیجہ سلام اللہ علیہا کا ذکر اور آنحضرت (ص) کے آنسو

ام المومنین اُم سلمہ (رض) فرماتی ہیں:"ہم نے رسول اللہ (ص) کی خدمت میں عرض کیا: اگر خدیجہ زندہ ہوتیں تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جاتیں۔"فَلَمَّا ذَكَرْنَا خَدِيجَةَ بَكَى رَسُولُ اللہِ (ص) ثُمَّ قَالَ: خَدِيجَةُ! وَ أَيْنَ مِثْلُ خَدِيجَةَ؟" (بحار الانوار، ج43، ص124)

(جب ہم نے خدیجہ سلام اللہ علیہا کا ذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رونے لگے، پھر فرمایا: خدیجہ! اور خدیجہ جیسی کہاں؟)

نتیجۂ کلام: دولت و شہرت سے بے نیازی کا درس دیتے ہوئے،"وَوَجَدَكَ عَائِلًا فَأَغْنَى" کا مصداق بنیں۔شعبِ ابی طالب کی صعوبتیں اٹھا کے، تنگدستی میں بھی مشنِ نبوی کا سہارا بنیں،

خدیجۂ کبریٰ سلام اللہ علیہا، عشقِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی معراج ہیں۔

اَلسَّلَامُ عَلَيْكِ يَا مَنْ دَفَنَهَا رَسُولُ اللہِ (ص) بِیَدِهِ

اَلسَّلَامُ عَلَيْكِ يَا مَنْ نَزَلَ فِي قَبْرِهَا رَسُولُ اللہِ (ص)

اَلسَّلَامُ عَلَيْكِ يَا مَنْ صَلَّى عَلَيْهَا رَسُولُ اللہِ (ص)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha